شہرعظیم رمضان کا استقبال جہاں ہمارے لئے باعث مسرت ہے

0
272

شہر مبارک اور شہر عظیم رمضان اپنے دامن میں بے انتہا خیر و ثواب فضائل و برکات کے موتی سموئے ہمارے سامنے ہے ۔ اس کا استقبال جہاں ہمارے لئے باعث مسرت ہے وہیںیہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے ۔ ہمارے آقا تو اس کے استقبال کی تیاریاں بہت پہلے سے ہی کرنے لگتے تھے ۔ اور شعبان میں روزے کی عملی مشق بھی کرتے تھے ۔

رمضان جو کہ اللہ کا مہینہ ہے ۔اللہ کے جود کرم ، سخاوت و مہربانی نیز بندوں پر اس کے انعام و اکرام کا سراپا مظہر ہے ۔ رمضان اصل میں قرآن کی برسی کا مہینہ ہے۔چاہے وہ روزہ کی شکل میں دن کے منظم اوقات ہوں یا رات کو تراویح اور تہجد کی شکل میں اللہ اور اس کے کلام سے قریب سے قریب تر کرنے کا نسخہ کمیا ہو ۔ قرآن اللہ تعالیٰ سے ہمارے تعلقات بہتر سے بہتر بنانے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کا یہ ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ بحیثیت مجموعی جتنا قرآن سے اس مہینہ میں قریب رہتی ہے عام دنوں میں اس کا رشتہ قرآن سے اتنا مضبوط نہیں ہوتا ۔یہ ایک الگ المیہ ہے کہ قرآن کے معنی و مفہوم سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے ہم اس لذت سے محروم رہتے ہیں جو قرآن کا حصہ ہے اور ہماری زندگیوں میں وہ کیفیت پیدا نہیں ہو پاتی جس کو ظاہر بیں نگاہیں طاری سمجھ رہی ہوتی ہیں۔رمضان میں جہاں دن کا ماحول کھانے پینے جیسی ضروریات اور جماع سے احتراز کرکے ملکوتی اور فرشتوں کی صفات سے قریب تر ہوتا ہے اور حیوانی صفات پر قدغن ہوتی ہے وہیں راتوں کی سر گرمیاں رہبان باللیل کا سماں پیش کررہی ہوتی ہیں ۔

مومن کے لئے رمضان کا مہینہ جہاں شیطان اور اس کے چیلوں کی چالوں سے بچنے میں معاون ہے وہیں نفس امارہ کی خواہشات پر روک لگانے اور اس کو نفس مطمئنہ میں تبدیل کرنے کے لئے ایک ساز گار اجتماعی فضا بھی مہیا کرتا ہے ۔ ضبط نفس اورعبادت ، کے لئے مومن کو عملا تیار کرتا ہے اور اس کی مسلسل ایک ماہ تربیت کرتا ہے تاکہ رمضان کے بعد وہ خواہشات کا بندہ اور نفس کا پرستار بن کر زندگی نہ گزارے بلکہ خدا پرستی اور اطاعت شعاری اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد بن جائے ۔

رمضان کا مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہوتا ہے ۔ جس میں نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف بڑھنے کا ایک اجتماعی ماحول ہوتا ہے گویا ہر طرف سے ’’ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ اور اے بدی کے رسیا رک جا ‘‘ کی صدائیں آرہی ہوتی ہیں ۔یہ صبر اور مواساۃ کا مہینہ بھی ہے ۔ صبر کا مہینہ اس معنی میں کہ جتنی مشق صبر کی اس مہینہ میں ہوتی ہے عام دنوں میں نہیں ہوپاتی ۔ چاہے وہ بھوک کی شدت سے رکنا ہو یا پیاس کی سختیوں کو جھیلنا یا پھر خواہشات کو مارنا ۔ یہ سب صبر کی ہی تو مثالیں ہیں ۔

اہل عرب فرس صائم اس گھوڑے کو کہتے تھے جس کی تربیت مکمل ہو گئی ہو اور جو جنگ کے لئے تیار کیا گیا ہو ۔ اسی طرح اس پورے ماہ کی تربیت کے نتیجہ میں ایک صابر مومن تیار ہوتا ہے جو اطاعت الہی پر بہر صورت جما رہتا ہے ۔ چاہے حالات جیسے بھی ہوں ۔ چنانچہ صحابہ کرام اور نبی اکرم نے جہاں بھوک و پیاس کو جھیل کر صبر کا مظاہرہ کیا ۔ وہیں ضرورت پڑنے پر صبر کا وہ شاہکار نمونہ بھی پیش کیا جس کو دنیا معرکہ بدر کے نام سے جانتی ہے جسے حق و باطل کے درمیان فرقان بھی کہاجاتا ہے ۔ماہ صبر میں دین وایمان کے لئے صبر اور حق کی خاطر ہر صورت میں اپنے موقف پر جمے رہنے کی نادر مثال ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔

مواساۃ کا مہنیہ اس لئے کہا گیا کہ امیر کو بھی یہ احساس ہو بھوکے رہنے کا مزہ کیسا ہوتا ہے ؟چنانچہ افطار کرانے کے فضائل ، صدقات و خیرات کی حوصلہ افزائی اسی ہمدردی ، غمگساری اور مواساۃ کو پیدا کرنے کے ذرائع ہیں ۔کیا ہم ایسے با برکت مہینہ کے استقبال کے لئے اپنے آپ کو تیار پاتے ہیں ؟ اس کی برکتوں ، عظمتوں اور فضیلتوں کے موتی سے اپنے دامن کو بھرنے کے لئے ہم کہاں تک یکسو ہیں؟ اس مہینہ کی تربیت کے نتیجہ میں اپنی زندگی کو قرآنی زندگی بنانے کا کتنا عزم ہمارے اندر پایا جاتا ہے ؟ کیا ہم نے روزہ اور قرآن کا حق ادا کرنے کا تہیہ کرلیاہے جس کے نتیجہ میں یہ دونوں خدا سے ہماری سفارش کر سکیں ۔

کیا ہم اپنے آپ کو اس پوزیشن میں پاتے ہیں کہ اس کے پہلے عشرہ میں قدم رکھتے ہی خدا کی رحمتیں ہمیں ڈھانپ لیں ۔ اور دوسرے عشرے میں پہنچنے پہنچتے ہم اللہ کی مغفرت کے حق دار ہو سکیں اور مہینہ کے اختتام تک جہنم سے خلاصی اور نجات ہمارا مقدر بن چکی ہو ۔ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے تو فبہا ورنہ ہمیں فکر کرنا چاہیئے کہ کہیں یہ برکتوں اور عظمتوں والا مہینہ گزر جائے اور ہم خدا کے غضب و عتاب کا شکار ہی رہ جائیں ۔ یہ مہینہ اپنی برکتوں اور عظمتوں کے ڈول کے ڈول انڈیل دے لیکن ہمارے حصہ میں ایک قطرہ بھی نہ آ سکے ۔خدا کرے ہمارا یہ ر مضان ہمارے لئے باعث خیر وبابرکت ثابت ہو اور ہم اس سے مستفید ہو سکیں ۔آ مین ۔

SHARE

LEAVE A REPLY