علاؤالدین خلجی کی عشق کی کہانی ۔ پدما وت

0
1965

ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم”پدماوت“چپیس جنوری کو ریلیز کردی گئی تاہم فلم کی ریلیز کے موقعے پر بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے جب کہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ملک بھر میں جلاو گھیراوکا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی سنسر بورڈ کی جانب سے ”پدماوت“کو 25 جنوری کو ریلیز کی اجازت ملنے کے باوجود پورے بھارت میں فلم کی اسکریننگ کے خلاف احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔ بھارت کی چار بڑی ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات اور بہار میں فلم کی ریلیز پر پابندی عائد ہے۔

دو روز قبل بھارتی سپریم کورٹ نے فلم ’پدما وت‘ کی ریلیز پردوبارہ پابندی لگانے کی درخواست مسترد کر دی
مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے پدماوت کی سینما گھروں میں ریلیز روکنے کی درخواست دی تھی اور عدالت سے اپنے گزشتہ فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی تھی۔

سپریم کورٹ نے ریلیز پرپابندی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے پچھلے فیصلے کو برقرار رکھا جس میں فلم کی ریلیز پرعائد پابندی ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

برطانوی خبرایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا دپیک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم اپنے پچھلے حکم کو تبدیل نہیں کریں گے۔ ریاستی حکومتیں امن و امان برقراررکھنے کو یقینی بنائیں۔

راجستھان حکومت نے اپنے دلائل میں کہا کہ وہ ہنگامہ آرائی اور عوامی احتجاج روکنے کے لئے فلم پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ فلم کی مخالفت کرنے والے گروپوں نے پدما وت کے ڈائریکٹر سنجے لیلی بھنسالی پر تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام لگایا ہے کیونکہ ان کے خیال میں فلم میں رانی پدما وتی اور مسلمان حکمراں کی محبت دکھانا تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔

padmavat

فلم ’پدما وت ‘بھارت کے یوم جمہوریہ سے قبل لانگ ویک اینڈ پر جمعرات 25 جنوری کو ریلیز کی جائے گی۔ راجستھان اورمدھیہ پردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں میں فلم کی ایڈوانس بکنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے فلم ریلیز کرنے کے حکم کے باوجود ان دونوں ریاستوں میں پدما وت کی ریلیز کے خلاف مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں سینما مالکان بھی ریاستی حکومت کی جانب سے بھرپور تحفظ فراہم کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کے بغیر فلم ریلیز کرنے کو تیار نہیں۔

مدھیہ پردیش میں سات تھیٹرزکے مالک سندیپ جین نے’ رائٹرز‘ سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو ’پدما وت‘ ریلیز کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ہماری مدد کرنے اور ہمیں سپور ٹ کرنے پر تیار نہیں۔ جب ہم مقامی پولیس کے پاس گئے تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اپنے رسک پر فلم ریلیز کریں۔‘

قوم پرست گروپ شری راجپوت کرنی سینا نے رواں ہفتے ’پدما وت‘ کی ریلیز کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مختلف علاقوں میں ٹریفک بلاک کیا اور بہت سے سینما گھروں میں توڑپھوڑ بھی کی تھی۔

چھتیس گڑھ میں راجپوت کمیونٹی گروپ سروا شتریہ مہاسبھا کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے باوجود ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ تنظیم کے راکیش سنگھ نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی سینما مالکان کو وارننگ دے دی ہے اور انہوں نے ہمیں تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فلم کی نمائش نہیں کریں گے، اگر پھر بھی کسی سینما میں ’پدماوت‘ دکھائی گئی تو پھر نتائج کی ذمہ داری ہم پرنہیں ہو گی۔‘

دپیکا پڈکون، رنویرسنگھ اور شاہد کپور کی اسٹار کاسٹ پر مشتمل ’ پدما وت‘ شروع سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہے۔ فلم کی شوٹنگ کے موقع پر بھی مختلف گروپس نے سیٹس پر توڑ پھوڑ کی تھی اور فلم کی شوٹنگ رکوا دی تھی۔

فلم کے خلاف مظاہروں اور پابندی کے باعث ’پدما وت‘ کی ریلیز کو ری شیڈول کر کے جنوری میں نمائش کے لئے پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔فلم کو دسمبر میں ریلیز ہونا تھا۔

سنجے لیلا بھنسالی نے محمد جائسی کی کتاب ‘پدما وت’ اٹھائی اور اپنی حجامت کا انتظام کرا لیا۔ بھئی یہ شاعر ادیب، ان کا تو کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ ایسی ایسی کہتے ہیں، ایسی ایسی ہانکتے ہیں کہ بس۔

روایت ہے کہ کسی نے جھنگ کے کسی رہائشی سے ہیر وارث شاہ کے بارے میں دریافت کیا تو وہ بزرگ بڑی حلیمی سے گویا ہوئے کہ قبلہ ہماری لڑکی کا قصور اتنا نہیں تھا جتنا وارث شاہ نے اس کو بد نام کر دیا۔

یہاں بھی یہ ہی ہو ا۔ تاریخی حقائق کے مطابق سلطان علاؤالدین خلجی کے زمانے میں کوئی پدما وتی نہ تھی بلکہ کسی زمانے میں بھی نہ تھی۔ محمد جائسی کے خیالوں میں ہی تھا جو بھی تھا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چتوڑ کی رانی واقعی بہت حسین تھی اور علاؤالدین خلجی نے حملہ اس ہی کو پانے کے لیے کیا تھا۔

عقل یہ بات گوارا نہیں کرتی۔ حسین عورت کے پیچھے ریاستوں پہ حملہ کرنے والے اتنی بڑی سلطنتیں نہیں سنبھالتے۔ انسان یا تو عشق کر سکتا ہے یا بادشاہت۔

جائسی نے جب یہ کہانی نظم کی ہو گی تو انھیں کیا معلوم ہو گا کہ ایک دن اس پہ فلم بھی بننی ہے ورنہ ذرا کچھ سوچ لیتے۔ جو دل میں سمایا لکھ گئے۔ پیچھے چوٹی نچوانے کو رہ گئے سنجے لیلا بھنسالی اور دیپیکا پادوکون۔

فلم پہ بڑا اعتراض تو یہ ہی ہے کہ ایک مسلمان بادشاہ ایک ہندنی پہ عاشق کیوں ہوا کم بخت۔ چلو عاشق ہوا تھا تو ہو جاتا اس کے بارے میں الٹے سیدھے خواب کیوں دیکھتا تھا؟ اس بات پہ کرنی سینا والے اتنے برا فروختہ ہوئے کہ اسی سال جنوری میں فلم کے سیٹ پہ توڑ پھوڑ کی، دھمکیاں دیں اور اب ایسا ہے کی فلم کی نمائش کھنڈت میں پڑ گئی ہے۔

اتنی بات تو ہم بھی مان لیتے ہیں کہ اسے تاریخی فلم نہ کہا جائے، فکشن کا ایک کام سمجھا جائے۔ فکشن میں 200 سال چھوڑیے، ہزار سال کی چھلانگ بھی لگائے جا سکتی ہے۔ یہ اعتراض تو معقول ہے لیکن مسلمان بادشاہ کے مبینہ خوابوں پہ اتنا کف اڑانا اور اس قدر مغلوب الغضب ہونا کچھ سمجھ نہیں آ تا۔

خوابوں پہ کس کا زور چلا ہے ؟ ویسے ہماری معلومات کے مطابق تو سلطان کے خوابوں میں مانک پورہ سے اٹھ کر دلی پہ قابض ہونے کے ارادے ہی مچلتے تھے۔ کوئی حسینہ کہاں اس سارے منظر نامے میں آ تی۔

دوسری بات یہ ہے کہ بادشاہ کو ایسے دکھی، محروم شاعروں کی طرح خواب دیکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ لازمی اپنا فارغ وقت کسی اچھے کام میں گزارتا ہو گا۔ یہ کالج کے لونڈوں والی حرکتیں کیوں کرتا ہو گا؟

چلیئے پھر بھی اگر غریب نے کوئی خواب دیکھ ہی لیا تھا تو ایک خواب پہ اتنی آفت ؟ معاملہ کچھ اور ہے۔ فلم، ناول، ڈرامہ اور افسانہ ان سب کو اس قدر سنجیدہ کب لیا جاتا ہے ؟

فلم ’رضیہ سلطان‘ میں جو کچھ دکھا یا گیا حقیقت میں شاید ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ ’مغلِ اعظم’میں جو کہانی کہی گئی اس کی صحت بھی مشکوک ہی ہے لیکن ان فلموں پہ اس قسم کے بھونڈے اعتراض نہ اٹھے۔

حالانکہ مجھے ذاتی طور پہ ‘رضیہ سلطان’ میں دھرمیندر کا ہر دو طرح سے منہ کالا کرنے پہ شدید اعتراض ہے لیکن دل کی دل ہی میں رکھی۔ بھلا فلموں پہ بھی اس قسم کے نامعقول اعتراض کیے جا سکتے ہیں؟

اب ایسا ہے کہ اس فلم کا جو بھی انجام ہوتا ہے وہ ہمیں یہ بتائے گا کہ انڈیا میں فلم انڈسٹری تو 100سال کی ہو گئی لیکن کیا فلم بین بھی 100 سال کا ہوا یا اب بھی وہ 15 سال کا جذباتی جوان ہے جو اپنی ہم مذہب عورت کو غیر مذہب کے آ دمی کے ساتھ دیکھ کر قتل کرنے کو دوڑتا ہے۔

اگر ایسا ہے تو فلم کو 100 سال نہیں ہوئے تعصب اور تنگ نظری کو ضرور سال ہو گئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY