گاہے گاہے باز خواں ایں …. قسط نمبر 12 ,نصرت نسیم

0
979

صدر ایوب کے الیکشن جیتنے کے بعد گہماگہمی بھی ختم ہوئی ۔سردیوں کی طویل شامیں اور نامعلوم سی اداسی گویا سارے میں پھیلی ہوئی تھی ۔گھر میں اداسی کے ساتھ ساتھ غم کی آمیزش بھی تھی کہ ڈیڈی کا اکلوتا بیٹا (جسے ہم انکل کہتے )ضد کرکے لندن سدھارے ۔ڈیڈی انہیں اپنی نظروں سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے مگر اکلوتے بیٹے کی ضد کے آگے بادل نخواستہ ہتھیار ڈالنے پڑے ۔جس دن انکی فلائٹ تھی ۔سردیوں کے روزے تھے ۔پشاور جانے کے لیے انکل کے دوست افتخار گیلانی (پیپلزپارٹی والے )اپنی موٹر لے کر آئے ۔اس زمانے میں موٹریں بھلا کس کے پاس ہوتی تھیں سواے چند روسا ۔خان خوانین کے
افتخار گیلانی کے والد امیر حسین گیلانی ڈیڈی کے ہم پیالہ وہم نوالہ اورگہرے دوست تھے سو جب بھی ضرورت پڑتی بلاتکلف گاڑی کاکہہ دیتے سو اس دن بھی افتخار گیلانی خود گاڑی ڈرائیو کر کے ہمیں پشاور لے گئے ۔اس زمانے میں اتنی پابندیاں نہیں تھیں مردوں نے رن وے تک جاکر انہیں خدا حافظ کہا ۔اور ہم جالیوں میں سے انہیں طیارے کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھتے رہے ۔

واپسی پر سارا راستہ سب روتے ہوئے آئے ۔اکلوتے بیٹے کے یوں بڑھاپے میں چلے جانے سے ڈیڈی بہت اداس اور چپ چپ رہنے لگے ۔سردیوں کی ان شاموں میں غم کا رنگ یوں گھلا ۔کہ طویل راتیں مزید بوجھل وطویل نظر آنے لگیں ۔کلب جانا بھی ترک کر دیا ۔نیلے رنگ کے لفافے (باہر کے لئے یہ مخصوص لفافے ہوا کرتے )پر سارا وقت خط لکھ کر سپرد ڈاک کرتے ۔اورجواب میں تاخیر ہو جاتی تو ایک اورخط لکھنے بیٹھ جاتے ۔ان کی اس حالت سے سارے گھر پر غم کی دبیز چادر تن گئ ۔
ایک اور اہم بات جس کا تذکرہ کرنا بھول گئ تھی کہ ہم تین اوپر تلے کی بہنوں کے بعد بھائی کی ولادت نے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑا دی ۔یہ میرا بھائی خوبصورت بھی اتنا تھا کہ جو دیکھتا اس کا گرویدہ ہو جاتا ۔سرخ وسفید رنگت، نیلی آنکھیں، سنہری بال جمیل نام رکھا گیا ۔واقعی حسین وجمیل ڈیڈی تو ان کے دیوانے تھے ۔وہ اسے جگنو کہہ کر پکارتے ۔جگنو کی پیدائش سے پہلے امی لوگ ٹل چھاونی چلے گئے جہاں اباجی کے ٹھیکے اورکینٹین تھی ۔امی جب بھی کوہاٹ آتیں تو جگنو سارا دن ڈیڈی کے پاس رہتا ۔سو اس دفعہ امی آئیں تو ڈیڈی نے بڑی لجاجت سے ان کے آگے ایک درخواست رکھ دی ۔کہ میری طرح وہ جگنو کو بھی انہیں دے دیں اس بچے کو دیکھ کر میں سارے غم بھول جاتا ہوں امی کے لئے ایک مشکل مرحلہ تھا ۔تین بیٹیوں کے بعد منتوں مرادوں سے ہونے والا یہ لاڈلا شہزادہ تو دوسری طرف وہ ماموں جس نے بچپن سے ماں کے فوت ہونے کے بعد میکے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی یہ ایک مشکل مرحلہ تھا مگر انکار کا بھی یارا نہ تھا باپ مماثل ماموں کی خواہش پر سر تسلیم خم کیا ۔حیرت ہے اباجی نے بھی پس وپیش نہیں کی ۔اور ڈیڈی کو تو گویا دنیا جہان کا خزانہ مل گیا ۔امی جگنو کو دے کر واپس ٹل چلی گئیں ۔جہاں میرے تیسرے نمبر کی بہن دوسرے بھائی کو جھولا نہیں دیتی تھی یہ کہہ کر کہ میں اس کو کیوں جھولا دوں میرا اتنا خوبصورت بھائی دے کر آگئ ہیں ۔
جس نے بھی سنادانتوں تلے انگلی دبالی۔ شاید اس طرح کی تنقید کاسامنا ابا جی کو بھی کرناپڑا سوکچھ دنوں کے بعد ابا جی آکر جگنو کو لےگئے ۔ ڈیڈی کچھ نہیں بولے ۔مگر رات ہوئی۔تو سخت سردی میں چھت کاپنکھا لگا دیا۔خالہ وغیرہ نے دیکھا۔توپنکھا بند کرنا چاہامگر انہوں نے روک دیا میرا دل جل رہا ہے مجھے اس سے سکون مل رہا ہے ۔آن کی نیم مجنونانہ حرکات دیکھ کر سب رونے لگے ۔صبح ہوئی تو سب ٹل روانہ ہوے ۔خالہ نے امی کو خوب لعن طعن کی اباجی نے ڈیڈی کی محبت و دیوانگی کو دیکھ کر اپناجگنو انہیں دے دیا کہ یہ اب آپ کاہے ۔ میں آج بھی سوچتی ہوں کہ کیسے بڑوں کی عزت واحترام کیا جاتا ان کے منہ سے نکلے الفاظ حکم کا درجہ رکھتے ۔رشتوں کو ایثار و قربانی کے پانی سے سینچا جاتا ۔ڈیڈی جگنو کو پاکر بیٹے کی جدائی کا غم بھول گئے ۔وارفتگی شیفتگی اورانکی کوبیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ۔امی آتیں تو بہت پیار کرتے اوربار بار کہتے میں اپنی اس بھانجی کااحسان اتار نہیں سکتا ۔جگنو اور میری عمر میں کافی فرق تھا مگر پھر بھی اب3میں اکیلی نہیں تھی ۔میرا بھائی بھی میرے ساتھ تھا ۔ لڑنا جھگڑنا نوک جھوک لگی رہتی
شام ہوتی تو ڈیڈی جگنو کی انگلی پکڑ کر بازار نکل جاتے راستے میں جس چیز پر ہاتھ رکھتا وہ دلوا دیتے ۔آجکل تو چائنا کے کھلونے سستے ہیں اس زمانے کے حساب سے جاپانی کھلونے کافی مہنگے ہوا کرتے مگر اس کے باوجود روز ہی کوئی نیا کھلونا لے کر آتے ۔چاکلیٹ پتیسے طرح طرح کی کھانے پینے کی اشیا جو ہم مل کر کھاتے جگنو کے آنے سےزندگی میں روشنی ورنگ آگئے ۔ہم چھٹیوں میں اکٹھے ٹل جاتے اکٹھے واپس آتے ۔اور واپس آکر کچھ دن دل نہ لگتا ۔ایک دوسرے کی کیفیات کو سمجھتے ہوئے بھی نظر انداز کر دیتے ۔اسے کانونٹ سکول میں داخل کروایا تو روزانہ بریک میں اسکے لئے ٹھنڈے دودھ کی بوتل اورآم لے کر جانے کے لیے بندہ مخصوص تھا ۔جو بریک میں اسے کھلا پلا کر واپس آتا ۔افف ماضی کی کس گلی میں جانکلی ہوں ۔کہ کئ چہرے یاد کر کے آنکھوں میں دھواں سا بھرا جارہا ہے ۔
دھوئیں سے یاد آیا کہ جاڑوں میں سردی سے نپٹنے کے انگیٹھیاں سلگائی جاتیں ۔بورے والے ہولے (ہندکو میں ایسے ہی بولتے تھے )ہوتے جو کمرے اور دالان بھی گرم کرتے اور ساتھ ساتھ چائے ۔قہوے بھی بنتے رہتے ۔سرخ سرخ کوئلے پھر بجھنے کے قریب ہوتے تو پلٹتے تو راکھ میں دبی چنگاریاں روشن ہو جاتیں ۔آگ میں سے اکثر چنگاری اڑ کر گول گول چکر کھاتی بجھ جاتی ۔جلتی آگ سے سے اڑتی ہوئی چنگاریاں رقص شرر مجھے بہت بھاتا بغیر کسی وجہ کے یہ تو بہت بعد میں پڑھا اور پڑھایا کہ
جوں شرر اے ہستی بے بود یاں
بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے
گرمیوں میں چھت پر سونا اور تاروں بھرے آسمان پر بادلوں میں آنکھ مچولی کھیلتے چاند کو دیکھنا ایک اور پسندیدہ منظر تھا ۔نیلے گگن پر چمکتے ہوئے تارے نم نم سا بستر ساری چھت پر چاندنی کی روپہلی چادر سی بچھی ہوئی ایسے میں کئ کہانیوں کے تانے بانے بنتے نیند کی سندر وادی میں جا اترتے توکبھی تاروں کو دیکھتے دیکھتے اچانک ایک تارا آسمان سے ٹوٹتے ہوا دیکھتے ۔اور بغیر سوچے سمجھے اداس ہو جاتے ۔نیلے آسمان پر تارے اب بھی چمکتے ہیں چاندنی چھٹکتی ہے مگر اب ہم چاہیں تو آندھی گولیوں کے ڈر سے کھلے آسمان تلے نہیں سو سکتے ۔اے سی کی مصنوعی ٹھنڈک ہمیں ایسی بھاگئ ہے ۔کہ گرمی میں کمرے سے

ہی نہیں نکلتے ۔میرے بچپنے میں دھوپ ڈھلتے ہی خالہ بڑی بان چار پایوں کو صحن میں تر تیب سےلگادیتیں۔پانی کے چھڑکاو سے مٹی کی سوندھی
سوندھی خوشبو اٹھتی ۔گھڑونجی پر رکھے مٹی کے گھڑوں کے گلے میں موتیے کے ہار فضا کو اور بھی مہکا دیتے ۔گھڑونجی سے پھر ایک واقعہ یاد آیا ۔کالج کے سالانہ ڈرامے کے لیے تعلیم بالغاں کو منتخب کیا ۔ضروری سامان کی فہرست پرنسپل صاحب کے سامنے رکھی اور کہا کہ کچھ چیزیں تو کالج میں ہی موجود ہیں گھڑے منگوا لیں گے ۔بس گھڑونجی کا انتظام کر دیجئے ۔انہوں نے جواب دیا کوئی بات نہیں یہ چوکیدار وغیرہ جو گاوں سےآتے ہیں ان کے پاس ہوگی ۔مگر کسی کے پاس نہ مل سکی
مالی بابا کہنے لگا میڈم آپ کیا ڈھونڈ رہی ہیں اب گھڑونجی تو کیا گھڑےبھی نہیں پلاسٹک کے بڑے بڑے کولر ہیں ۔آہ زمانہ اتنی تیزی سے بدلا کہ ہمارے سامنے عام استعمال کی چیزیں بھی اب بھولی بسری کہانیاں سی لگتی ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY