تاریخ میں جھانکتے رہنااچھا شگون ۔سائرہ ممتاز

0
772

سال بھر پہلے کی بات ہے ایک کہانی کے سلسلے میں کچھ تحقیقی مواد اکٹھا کرنا تھا. پڑھتے پڑھتے خیال ٱیا کیوں نا بابا گورو نانک دیو پر مضمون ہی لکھ دیا جائے کیونکہ کہانی کا تعلق بھی سکھ مت سے ہی تھا. لہذا مواد اکٹھا کیا. اس دوران غیبی مدد ملتی گئ بہت سے لوگ ملے جن سے بہت کچھ سیکھا. خیر مضمون تیار ہوا تو روزنامہ ایکسپریس نے اپنے ہفت روزہ میں چھاپ دیا. ٱجکل سوشل میڈیا کا رواج عام ہے ہر لکھنے والا اپنے فالو ورز کے لیے اپنی تحریروں کے لنکس اپنی وال پر لگاتا رہتا ہے لہذا ہم نے بھی لگا دیا. جن کو پسند ٱنا تھا انہوں نے بہت تعریف کی. بہتوں نے کہا اے بی بی! کیا سکھنی ہو گئ ہو؟ دور کیا جانا اپنے ہی گھر کے بچے پوچھتے پھرتے تھے باجی گوردوارہ گئ تھیں تو واپس ٱ کر کلمہ پڑھا یا نہیں ؟ ہم پوچھا کئے کیوں بھئ؟ کزن کہنے لگا باجی وہ فلاں مولوی صاحب نے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ گرجا گھر اور مندر یا دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں میں جانے سے ایمان خراب ہو جاتا ہے. ( گویا یہ بھی کہیں کہ اسلام بھرشٹ ہو جاتا ہے نعوذ باللہ)
باخد اسے قائل تو ٱج تک نہیں کر سکی کہ مولوی کا بگڑا مشکل سے ہی سنورتا ہے.
بس چپ کر رہے. کہانی کاروں کا بھی عجیب نصیبا ہے. لکھنا کچھ چاہتے ہیں مل کچھ اور جاتا ہے اور بعض اوقات تو تائید غیبی سے ایسے ایسے جواہر میسر ٱتے ہیں کہ اپنی قسمت پر یقین کرنا ہی. مشکل ہو جاتا ہے. بار آلہا! یہ چنگاری بھی اپنے خاکستر میں تھی!
ایسی ہی ایک دریافت ہم سے بھی سرزد ہو گئ جسے مشرقی پنجاب تو جانتا تھا لیکن مغربی پنجاب والے بے خبر (بہت حد تک) بیٹھے تھے. قصہ کوتاہ یوں ہے کہ راقم الحروف کو پنجابی ثقافت، ادب، زبان لب و لہجے. بولیوں ٹھولیوں لوک گیتوں اور پرانی تاریخ، ادوار میں نہایت گہری دلچسپی ہے. جس کی وجہ سے ایک کثیر تعداد فیس بک پر ہمیں دل ہی دل میں کوستی ہے اور بعضے تو دیوار پر سر عام ہندو اور سکھ لکھ کر نکل لیتے ہیں. بس ایسے ہی ڈھونڈتے ڈھانڈتے ایک دن ہمیں بھائی ناصر ڈھلوں مل گئے جنھیں سکھ سردار بہت محبت دیتے ہیں. مشرقی پنجاب والے ان پر وارے وارے جاتے ہیں اور سسی بے خبر کی طرح لاہوریئے، ملتانیکر، بہاولپور، سرگودھے غرضیکہ مغربی پنجاب والے اکثر ہی یا تو بے خبر ہیں یا پھر غفلت برتنا عین ثواب جانتے ہیں.
ناصر ڈھلوں پنجاب ٹریفک پولیس میں کام کرتے ہیں. زمین دار ہیں اور کچھ کاروبار بھی ہے. راقم کی طرح پرانے قصے کہانیاں، گوردوارے، مندر مساجد، قلعے اور پرانے بابے انھیں پسند ہیں. لہذا ایک دن. بیٹھے بٹھائے سوچا کہ کیوں نا اس شوق کو مکمل کیا جائے بس تین چار دوستوں کو ملایا، کیمرہ اٹھایا اور پنجاب کو جدھر جس شہر کی جانب دل کیا منہ اٹھا کر نکل لیے. صاحبو تصاویر اور وڈیوز کا ایک خزانہ تیار کر چکے ہیں. تقسیم کی دکھ بھری داستانیں، ہجرت کا دکھ، بچھڑنے کا دکھ، جنم بھومی کا دکھ،. سرداروں کو اپنے کعبے ننکانے کا دکھ، لاہوریوں کو گورداسپور، فیروز پور، امبر سر، لدھیانہ، پٹیالے کا دکھ اور وہاں کے مہاجروں کو لائل پور، شیخوپورے، سیالکوٹ، لاہور، نارووال، ننکانہ، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، چکوال اور پتا نہیں کس کس شہر کا دکھ لاحق ہے. بس کہ ایک صفحہ فیس بک پر پنجابی لہر کے نام سے موجود ہے اور یو ٹیوب پر اسی نام سے چینل بھی ہے. دیکھنے کا حوصلہ اور نیت پائیں تو کسی دن دیکھ ڈالیں. کبھی کبھی تاریخ میں جھانکتے رہنا اپنی جڑوں کو کھاد پانی دیتے رہنا بھی اچھا شگون ہوتا ہے.

SHARE

LEAVE A REPLY