مولایاصَلّ ِوسلم ۔ نعت کملی کےحوالے سے: سَیّد عارف معین بَلّے

0
1234

مولایاصَلّ ِوسلم ۔ نعت کملی کےحوالے سے
نعت نگار : سَیّد عارف معین بَلّے

 

بُردہ کیا ہے؟ کیا لکھوں فرمائیے شاہ ِ ﷺ اُمم
دِل میں جذبے موج زَن ہیں ، سر بسجدہ ہے قلم

پیارآیا ہے خدا کو اُوڑھنی پر آپ ﷺ کی
المدثر آپ ﷺ کہلائے رسول ِ محترم

اوڑھی کملی تو مزمل کہہ دیا ہے آپ ﷺ کو
ہرادا پر ہے خدا کی بارش ِ لطف و کرم

بردہ کیا ہے ؟ چادر ِ تطہیر ہے سرکارﷺ کی
سچ اگر پوچھوتو ہے کملی ء سردارﷺ ِ اُمم

یادیں بھی اس سے ہیں وابستہ رسول ِ پاک کی
المزمل کالقب ہو ، یا ہو پیروں پر وَرَم

اِس کی ہے تقدیر میں مولا رفاقت آپ ﷺ کی
رزم ہویا بزم ،بردوش ِ رسول ِﷺ ِ محتشم

یہ تہجد میں بھی مولا آپ ﷺ کے ہے ساتھ ساتھ
یہ تقدّس کی علامت ہےنبی ء ﷺ محترم

کیا کہوں ؟یہ ہے نشان ِ رحمت ِ پرور دِگار
آبروئے دوجہاں ، پوشاک ِ سلطان ِ ﷺ اُمم

اِس کو شانے پر بھی رکھ کر بخشی زینت آپ ﷺ نے
اعلیٰ ہیں درجات اس کے رب العزت کی قسم

اِس کو سینے سے لگایا، سَر چڑھایا آپ ﷺ نے
آپ ﷺ نے اس کےاُٹھائے ہیں بڑے ناز و نِعَم

اُجلی اُجلی چاندنی ہے ، پنجتن کی اوڑھنی
جسم پر ہو تو کِسا ، اُٹھّے فضا میں تو عَلَم

کیا کہوں میں آپ ﷺ سے ،اہل ِ کساسے پوچھئے
پنجتن کی اوڑھنی بے شک ہے دامان ِ کرم

اس نے چُوما جسم ِ اطہر سرور ِ کونین ﷺ کا
خوشبوئے لمس ِ رسالت ہوگئی ہے اس میں ضَم

اس پہ ہیں قربان اس دُنیا کے سب شاہی لباس
آیہ ء رحمت ہے ، اس کی سادگی میں بھی حَشَم

چُوما ہے سرکار ِ دوعالم ﷺ کا اس نے اََنگ اَنگ
دُنیا کا جو بھی بڑا اعزاز ہو، اِس سے ہے کم

بڑھ گئی ہے یوں بھی اس کی اور قدرو منزلت
بَس گئی ہے اس میں خوشبوئے رسولِﷺ محترم

سچ اگر پوچھو تو یہ سردار پہناوں کی ہے
ہم سفر مولا ﷺ کی ہے ،معراج میں بھی ہم قَدَم

مرحبا، صلّ ِ علیٰ اس کی رسائی عرش تک
سرچڑھاکر اس کو رکھتے تھے نبی ء ﷺ مختتم

یہ رہی دوش ِ رسول ِ پاک ﷺ پر اکثر سوار
ہونہیں سکتی سواری اس سے بڑھ کر محتشم

یہ ہے برکات و تجلیات کی بے شک امیں
اس کواکثر اوڑھتے تھے صاحب ﷺ خیرالامُم

رنگ اس پر چڑھ گیا ہے سرور ِ کونین ﷺ کا
رب نے خود صل ِ علیٰ پڑھ کرکیاہے ،اس پہ دَم

سچے موتی اس کے ہراِک تار میں انوار کے
کہتی ہیں نورانی مخلوقات صدقے جائیں ہم

روشنی اور سر بلندی طرہّ ء صد امتیاز
آسماں سورج ،ستارے چاند اس چادر میں ضَم

جذب ہے اس میں پسینہ میرے مولا آپ ﷺ کا
بزم ِ دو عالم معطّر ہو گئی ہے ایک دَم

مولا واری حضرت ِ یوسف کا اس پہ پیرہن
جاہ اس میں آپ ﷺ کی ،بوالانبیاء کا ہے حَشَم

رحمت للعالمیں ﷺ کی رحمتوں کا یہ نشاں
اس کی صورت سایہ ء رحمت بھی پہنچایا بہم

اس میں ہیں دنیا و دیں کی وسعتیں سمٹی ہوئی
ہیں زمیں پر بھی لوائے حمد کے سائے میں ہم

یہ علامت ہے یقیناً عزت و ناموس کی
دیدنی ہے حُسن ِ دستار ِ رسول ِ ﷺ محترم

آپ ﷺ کی رحمت کی چادر پوری دُنیا پر محیط
عرش کیا؟یہ فرش کیا ؟ہے کیا عرب اور کیا عجم

اس کے تواِک تار کی قیمت چکاسکتے نہیں
دنیا بھر کے پونڈ ، یورو ہوں یا دینار و دِرَم

سنگ ِ اسود اس میں رکھ کر نصب فرمایا گیا
اس کی ہے بنیاد پر تاریخ ِ اسلامی رقم

ہے یہی ہجرت کی شب بستر رسول اللہ ﷺ کا
مرحبا ہیں جلوہ آرا ، جس پہ مولود ِ حرم

چاندنی اپنی بچھادی آپﷺ کے اعزاز میں
مادر ِ آل ِ نبی ﷺ بنت ِ رسول ِ ﷺ محترم

مانگاکرتے تھے دُعا روروکے اُمت کے لئے
اس لئے رہتی تھی اکثر آپ ﷺ کی چادر بھی نَم

دُنیا بھر کے قیمتی سب پیرہن اس پر نثار
دولت ِ ہر دو جہاں ہے،آپ ﷺ کی چادر سے کم

جسم ِ اطہر پر رِدا، ہو سر پہ تو دستار ہے
یہ لوائے حمد ہے مولا ﷺ شفاعت کاعَلَم

داستانیں اَن گنت وابستہ اس چادر سے ہیں
پَر کریں کیا؟لکھنے سے قاصر ہے جب اپنا قَلَم

زخم بھی کھائے،لہو ٹپکا ، ہیں دونوں سرخ رو
ہم سفر طائف میں چادر ، مشکلوں میں ہم قدم

جب لُٹا مال ِ غنیمت آپ ﷺ فرمانے لگے
میری چادر کردو واپس ، یہ نہیں مال ِ غَنَم

قید کرکے حضرت ِ شیما کو جب لایا گیا
آپ ﷺ نے چادر بچھادی اپنی از راہ ِ کرم

زَمّ ِ لونی ، زَمّ ِ لونی ہے زباں پر آپ ﷺ کی
جب حراسے واپسی پر گھر میں رکھا ہے قدم

دفعتاً خاتون ِاوّل نے اوڑھا دی ہے رِدا
کپکپاتا دیکھ کر جسم ِ رسول ِ ﷺ محترم

زندگی کے سب اندھیرے دور تو ہونے ہی تھے
چاندنی کو اوڑھ کر نکلے ہیں ہادی ء ﷺ اُمم

گِڑگِڑا کر جب دُعا کرتے ڈھلک جاتی رِدا
پھراوڑھا دیتے تھے اصحاب ِ نبی ء ﷺ محتشم

بدر کے غزوے سے پہلے بارہا ایسا ہوا
مستند ہے واقعہ ، تاریخ میں بھی ہے رقم

عصمت و عفّت کا آئینہ ہے ورثہ آپ ﷺ کا
چادر ِ زھرا و زینب کے تقدّس کی قسم

معنویت کا جہاں قرآں کی ہر آیت میں ہے
بندگی کے ساتھ ہے ذِکر ِ عبائے محترم

نعت سُن کر کعب کو بُردہ عطا فرمادیا
میرے مولا ﷺ کارہا ہے نعت خوانوں پر کرم

حضرت ِ بوصیری کو بخشاہے بُردہ آپ ﷺ نے
کیا ثناخوان ِ رسالتﷺ کاہے یہ اعزاز کم

ہوکے خوش دامان ِ رحمت مرحمت فرما دیا
آپ ﷺ کی چادر ہے اِک انعام ِ قاسم ِ نِعَم

دین و دُنیا کاجمال و حُسن اس گُدڑی میں ہے
آپﷺ کے خِرقے میں عرش و کرسی و لوح و قلم

تھی وصیّت خرقہ دے آنا اویس ِ پاک کو
ہوگئی تعمیل ِ ارشاد ِ رسول ِ ﷺ ذی حَشَم

مانگ لی چادر صحابی نے ، جو نکلے اوڑھ کر
بخش دی انکار کب کرتے تھے سرکار ِﷺ اُمم

کچھ صحابہ کاکفن بھی آپ ﷺ کی اُترن بنی
خوش نصیبی ہے یہ زادِ راہی ء ملک ِ عدم

موٹا سا تہہ بند ہے ، چادر میں بھی پیوند ہے
دیکھئے ، وقت ِ وصال ِ صاحب ِ ﷺ خیر الاُمم

پورا شہر ِ علم و حکمت اس میں ہے لپٹاہوا
یہ ہے احرام ِ رسول ِ پاک ﷺ،ناموس ِ حرم

چادر ِ رحمت کی کوئی حد نہ سرحد ہے کوئی
سچ ہے یہ ارض و سما کی وسعتیں ہیں اس سے کم

مولا کملی آپ ﷺ کی جزدان ہے قرآن کا
آپ ﷺ کی کملی غلاف و غُرفہ ء بیت الحرم

دھوپ یہ مولا قیامت کی نہ جھلسا دے کہیں
دو جہاں میں مرحمت فرمائیں دامان ِ کرم

مولایاصَلّ ِوسلم ۔ نعت کملی کے حوالے سے
نعت نگار : سَیّد عارف معین بَلّے

SHARE

LEAVE A REPLY