تحریک انصاف یوں تو عمران خان سمیت بڑے بڑے ہیروں سے بھری پڑی ہے لیکن کچھ ایسے یکتا اور منفرد کیس ہیں جنکا نعم البدل شاید کہیں بھی نہ مل سکے اور ان میں سر فہرست فواد چوہدری المعروف فساد چوہدری اور جنسی حملے کا شکار ہونے والے شہباز گل ہیں
شہباز گل تو جیل یاترا کے بعد اب قدرے سکون میں ہیں لیکن فواد چوہدری کے آئے روز کے بیانات اس امر کے شاہد ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح گرفتار ہونا چاہتے ہیں
انکے ایک قریبی عزیز نے کراچی اور لاہور کے چند ماہر اور جانے مانے ماہرین نفسیات سے انکی ذہنی حالت کے بارے میں تفصیلی معائینے کی درخواست کی لیکن کسی ایک نے بھی حامی نہیں بھری اور ایک معروف ماہر نفسیات نے تو یہاں تک کہا ہے کہ فساد چوہدری کو دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ میں خود ذہنی مریض بن جاوں
فواد چوہدری پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور بہت سے وکیل انکو اس وکالت کے شعبے کی تضحیک سمجھتے ہیں لاہور کے ایک معروف چیمبر کے وکیل کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری سے زیادہ سمجھدار تو ہمارے مُنشی اور اوتھ کمشنر ہوتے ہیں
دبئی میں ہونے والے کرکٹ کے ایشیا کپ میں پاکستان نے بھارت کو زبردست مقابلے کے بعد پانچ وکٹ سے شکست دی تو فواد چوہدری نے جو تبصرہ کیا اُس سے فواد کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیجئے آپ بھی پڑھیئے
فواد چوہدری نے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی سپر فور مرحلے میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کا کریڈٹ بھی تحریک انصاف کے جلسے کو دے دیا۔ متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد بھارت کو آخری اوور میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر گروپ میچ میں ہار کا حساب برابر کردیا۔
میچ کے بعد ایک پاکستانی صحافی نے فواد چوہدری کو ٹوئٹر پر ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ پاکستان کی بھارت کے خلاف شاندار جیت کس کی برکت سے ہوئی؟ اس پر فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ‘ فیصل آباد کے جلسے سے’، یعنی پی ٹی آئی کے آج فیصل آباد میں ہونے والے جلسے سے۔
یاد رہےکہ اس سے قبل ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 وکٹوں سے شکست دی تھی جس کے بعد فواد چوہدری نے بھارت کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دیا تھا۔
بھارت کے ہاتھوں شکست پر فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ’ٹیم کا قصور نہیں امپورٹڈ حکومت ہی منحوس ہے‘۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے بتایا کہ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کو معافی مانگنی چاہیے۔اس پر عمران خان کے وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ ہمارا فواد چوہدری کے بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس شخص سے کسی اچھائی کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔
حامد خان کے بیان پر تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ردِعمل دیتے ہوئے حامد خان کو سابق چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے ارسلان افتخار کا پارٹنر قرار دے دیا۔
فواد جہلم کے بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس چودھری افتخار حسین کے بھتیجے ہیں۔ فواد چوہدری کے چچا چوہدری الطاف حسین کو 90کی دہائی میں پیپلز پارٹی نے پنجاب کا گورنر بنایا لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کے بھائی چوہدری شہباز حسین نے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کی۔
فواد چوہدری نے بھی اپنی سیاست کا آغاز اسی جماعت سے کیا، اس کے بعد پرویز مشرف کے ترجمان بن گئے،2012ء میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئےاور کہا کہ ان کے خاندان کی جڑیں پیپلز پارٹی میں ہیں۔اس کے بعد انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی
تحریک انصاف کے بعد اب شاید کوئی سیاسی جماعت انہیں قبول نہیں کرے گی۔
صفدر ھمدانی












