اپنی خوبیوں سے مکمل واقف انسان ہوتا ہے۔ فائزہ عباس

0
844

اپنی زات کی آگہی
اپنے وجود کی طاقت ۔۔۔
اکی وقعت اور اسکی خوبصورتی کو نہ سمجھ پانا آج کے انسانی زوال کی ایک بڑی وجہ ہے۔۔۔۔
میں کون ہوں؟
کہاں سے آیا ہوں؟
کس لیے بھیجا گیا ہوں؟
میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟
میری زات کی کون کون سی خوبیاں مجھے منفرد بناتی ہیں۔۔۔؟
میری زات کی کونسی کمزوریاں مجھے انسانییت اور بہتر ہونے سے روکتی ہیں۔۔۔؟

کیا میری زات کو رب کریم نے۔۔۔
اچھا زہن نہیں نوازا۔۔۔؟
کیا میرے قلب کو اس محبت سے روشناس نہیں کیا جو مجھے انسانی جزبوں۔۔۔رویوں اور احساسات سے متعارف کرتی ہے۔۔؟

کیا میری روح میں کچھ نور اور پاکیزگی ابھی تک باقی نہیں کہ میں اچھائی کو کم سے کم بھی سن لیتا ہوں؟
سمجھ لئتا ہوں اور میرا دل اسکو اپنا لینا چاھتا ہے۔۔۔مگر میرے وجود کی کمزوریوں کے باعث میں اچھی خوشبو محسوس کر لیتا ہوں مگر اپنے وجود کو بھلسئیوں اچھا ئیوں اور پا کیزگیوں کا مہکتا گلستان نہیں بنا پاتا۔۔۔۔
یعنی میری عادت۔۔۔میری خصلت۔۔۔میرے عمل کو اپنے قابو میں کیے ہوے ہے۔۔۔
یعنہی کی میں عقل کی بجائے خواہش کا تابع ہوں ۔۔۔۔
یعنی میں جانتا ہوں کہ میری منزل میرا راستہ میرا مقام کیا ہے۔۔۔۔
مگر۔۔۔
میرے وجود میں جو میری کمزوریوں سے لڑنے کا عنصر تھا۔۔۔وہ کہیں کھو گیا ہے۔۔۔

میری قوت مدافعت جو میری ہر بیماری میں مدد کرتی تھی وہ ختم ہو چکی ہے۔۔۔
یا کم ہو گئی ہے۔۔۔
مجھے اپنے بچاو کے لیے کچھ کرنا چاھییے یا کہ خود کو اپنی بیماریوں کے حوالے کر کے مر جانا چاہییے۔۔۔۔؟؟؟؟

کیا میری اوقات۔۔۔
میرا وقار۔۔۔
میرے وجود کی طاقت بس یہی ہے۔۔۔کہ میں۔۔۔
اپنے وجود کا مالک ہو کر بھی غلامانہ زندگی بسر کر رہا ہوں۔۔۔؟؟؟
کیا جنگ میں بہادروں کی طرح لڑا جاتا ہے یا کہ۔۔۔
دشمن کی طاقت دیکھ کر اوسان خطا کر لیے جاتے ہیں؟؟؟؟
ہر جنگ کیا انسان صرف تب ہی جیتتا ہے جب بہت بڑی فوج۔۔۔اور جنگی سامان ہو یا کہ۔۔۔
کبھی جیت کچھ اور چیزوں کی بھی مرہون منت ہوتی ہے۔۔۔؟

کیا ہے وہ طاقت جو بے سروسامانی میں بھی کسی فوج کو ہارنے نہیں دیتی؟؟؟

کون سا ہتھیار ہے جو ایک سپاہی کو زخمی ترین حالت میں بھی جانباز ۔۔۔اور بہادر کا خطاب دے دیتا ہے۔۔۔؟؟؟

جو انسان وجود کی جنگ میں نہ جیت پائے۔۔۔
اپنے اندر کے دشمن اور اپنے وجود کے وسائل اور خوبیوں کو بروئے کار نہیں لا پائے ۔۔۔کیا وہ معاشرے۔۔۔اور دنیا کی جنگ کو جیت سکتا ہے بھلا؟؟؟

جسکے پاوں ہر تیز ہو پر لرز جائیں اور کسی بھی روشنی سے جسکی آنکھیں چندھیا جائیں کیا وہ شخص۔۔۔کیا وہ انسان۔۔۔اپنی طاقت کا درست استعمال کر رہا ہے۔۔۔؟

کیا وہ جیت رہا ہے یا کہ جنگ سے غافل ۔۔۔حالات سے بے خبر۔۔۔کسی بے منزل راہ کا مسافر۔۔۔اپنے وجود کی کیا قیمت لگا رہا ہے۔ ۔۔۔۔؟؟؟

کیا انسان کی قیمت وہ ہے جو دوسرے لگاتے ہیں۔۔۔۔یا کہ وہ جو خود سمجھتا ہے۔۔۔۔؟؟

کیا ہر قیمت چمکیلی پیکنگ پر ہی منحصر ہے یا کہ۔۔۔اصل قیمت کچھ اور ہے۔۔۔؟؟؟

وہ کون لو تھے جو اپنے آپ سے واقف تھے۔۔۔
جو جانتے تھے کہ انکی منزل کیا ہے اور کونسا راستہ درست سمت کا تعیین کر رہا ہے۔۔۔اور کیا صعوبتیں اور دشواریاں اس راہ میں موجود ہیں۔۔۔۔اور انکو طے کرنے کے لیے کون سے اوزار۔۔۔چاہییے۔۔۔کون سا سامان ۔۔۔کیسی تیاری درکار ہے۔۔۔

اور کچھ تو بنا کسی سامان کے منزل کی جانب بڑھ گئے اور اپنے آپکی قیمت کا تعین حالات و واقعات سے نہیں۔۔۔سامان اور مکان سے نہیں۔۔۔

بلکہ۔۔۔اپنی جستجو۔۔۔اپنی بصیرت۔۔۔اپنی زات کے انقلاب سے کیا۔۔۔جو اپنی زات کی تسخیر نہ کر پائے۔۔۔وہ کوئی اور جہاں کیا فتح کر پائگا۔۔۔
جو خود کو نہ تراش پائے۔۔۔وہ کسی اور کے لیے بھی بے فائدہ ہو گا۔۔۔۔

جسے قدم قدم پر بہکاوے۔۔۔کمزوریاں اور چھوٹی بڑی جنگیں ہرا دیں وہ کیا کسی جنگ کے لائق ہو گا۔۔۔

۔اور جو اپنی ہر لا پرواہی غفلت۔۔۔
کاہلی۔۔۔غیر زمہ داری کا زمہ دوسروں پر۔۔۔حالات پر۔۔۔
اور بے سروسامانی پر ڈال دیگا
کیا وہ کسی بھی جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟

جنہیں قدم قدم پر بہکنے کی عادت سی ہو جائے۔۔۔۔
جنہیں علم اور کردار سے بغاوت سی ہو جائے۔۔۔
جو کوئی بھی کام بس ضرورت اور خواہش کے باعث کرتے ہوں۔۔۔
وہ لوگ اپنے آپ میں زندہ لاشوں کیطرح ہیں۔۔۔جنکا کام اپنی خواہش کو پورا کرنا ۔۔۔اور اسکی نگہداشت ہے۔۔۔ایسے انسان اور حیوان میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔۔۔۔

انسان وہ ہی کہلاتا ہے۔۔۔
جو خود کا مان اپنے وجود میں قائم رکھ پائے۔۔۔
خود کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑ دے۔۔۔بلکہ اپنے زہن میں چھپے خزانوں کو کھنگالے۔۔۔ان سے مدد لے۔۔۔اور اپنے لیے خاردار راہوں سے بھی راستہ نکال پائے۔۔۔
جو چٹانوں کو بھی زیر کر سکے۔۔۔جو انسانوں میں اپنا مقام پائے۔۔۔۔
انسان وہ جو واقعی انسان ہونے کاشرف اور منزلت رکھتے ہیں۔۔۔جو بے خوف۔۔نڈر۔۔۔بہادر اور لڑنے کا ہنر رکھتے ہیں اور انکی لڑائی بندوق اور توپوں سے نہیں۔۔
۔بلکہ خودشناس انسان سے ہوتی ہے۔۔۔
جو نہ بہکتا ہے۔۔۔
نہ سسکتا ہے۔۔۔
نہ جھکتا ہے۔۔۔
نہ ڈرتا ہے۔۔۔
وہ ایک بہادر اور شجاع انسان ہوتا ہے۔۔۔جسکی حفاظت خود رب کریم کرتا ہے اور جسے کوئی طوفان بھی جھکنے نہیں دیتا ۔۔۔گرنے نہیں دیتا۔۔۔۔بلکہ وہ طوفانوں کے رخ موڑنے کی صلاحییت رکھتا ہے۔۔۔وہ اپنے مقام۔۔۔
اپنے مرتبے۔۔۔
اپنی خوبیوں سے مکمل واقف انسان ہوتا ہے۔۔۔۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY