جب بھی ظلم، زیادتی، جھوٹ، بے ایمانی، حرام خوری،حق تلفی، بے حیائی اور اللہ کی نافرمانی عروج پر ہو تی ہے تو اللہ کی طرف سے انسانوں پرشدید آزما ئشیں آتی رہتی ہیں جو کسی عذاب یا وباء وغیرہ کی شکل میں ہو سکتی ہیں۔ حالیہ کرونا وائرس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس خطرناک اور مہلک وباء نے پو ری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔دنیا میں لا کھو ں لو گو ں کی جانیں چلی گئیں۔ لاکھ لوگ اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔ لاکھوں لوگ اس سے ڈر کا شکار ہیں۔معیشت تباہ ہو کر رہ گئی۔دنیا کا نظام ِ زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔ ڈر و خوف سے لوگ گھر تک محدود ہوکر رہ گئے۔ اس سے بڑا بھی کیا عذاب ہے کہ ہم اپنے خونی رشتوں سے بھی دور ہو گئے۔پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے شدید اثرات نمودار ہوئے۔ اس کی وجہ ہماری ناکام حکمت عملی اور منصوبہ بندی رہی۔ ہم لو گوں کی بے احتیاطی، لا پرواہی اور میل جو ل سے بھی کرونا میں اضافہ ہوا۔ اللہ کے کرم سے حالیہ ریکارڈ کے مطابق فی الحال کافی حد تک کرونا وائرس پاکستان میں کنٹرول ہے۔ اللہ اس کو ختم کرے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ کرونا وائرس سے درج ذیل اقدامات پر عمل کر کے بچ سکتے ہیں:۔
۱۔ علما ء کرام اور بزرگان ِ دین کے بتائے ہو ئے وظائف کا باقاعدگی سے اہتمام کریں۔
۲۔ رش اور بھِیڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔ اگر مجبوراََ جانا پڑ بھی جائے تو ماسک کے بغیر باہرہرگز نہ نکلیں اور صفا ئی کا خاص خیال رکھیں۔
۳۔ باہر سے جب گھر واپسی ہو تو ہاتھ صا بن کے ساتھ اچھی طرح دھویں، اور حکومت کی بتائی گئی باقی احتیاطی تدابیر پربھی سختی سے عمل ِپیرا رہیں۔
اسی طر ح عیدِ قربان سر پر ہے۔ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں منانی ہے۔یہ ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔ کیو نکہ کرونا وائرس بھی سر پر ہے۔ لہٰذا کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامت اپناتے ہو ئے اس کو سادگی سے منائیں۔جانور خریدنے جائیں وہا ں بھی بہت careکریں، بچوں کو ہرگز ساتھ لے کر نہ جائیں۔ دکھلاوے سے پرہیز کریں۔ قربانی کے جانوروں کاخصوصی خیال رکھیں۔ ان پر ظلم نہ کریں۔ ان کو گلیو ں میں بھگا کر تنگ نہ کریں کہ یہ قربان ہو کر اللہ کے پاس جائیں گے۔ کچھ لوگ قربانی کے جانوروں کو اپنے بچو ں کے حوالے کر دیتے ہیں اور بچے گلیو ں میں بھگاتے ہیں، جانوروں کو تنگ کرتے ہیں۔ اللہ کے واسطے،ایسا ہرگز نہ کریں۔ ایسا کرنے سے کتنے ہی لوگوں کی جان بھی جا سکتی ہے اور زخمی بھی ہو سکتے ہیں۔ والدین اور بزرگوں سے گزارش ہے کہ خود بھی خیال کریں اور اپنے بچوں کو بھی تربیت دیں۔ کیونکہ یہ ہمارا مذہبی تہوار ہے لہٰذ ا اس کو مذہبی انداز ہی میں منائیں۔
قربانی کرتے وقت اخلاص کا خیال رکھیں۔ یہ بات ذہن میں ہونی چاہیئے کہ میرے اللہ کے پاس گوشت نہیں پہنچتا، ہمارا اِخلاص اور تقویٰ پہنچتا ہے۔ میرے اللہ کو ہمارے گوشت سے سرو کار نہیں، وہ ہم میں تقویٰ دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا قربانی کے گوشت کو رشتہ داروں، غرباء، مساکین اور مستحقین تک پہنچائیں۔گوشت اپنے لیئے بھی رکھیں، خود بھی کھائیں، اللہ کا بے حد شکر ادا کریں۔ قربانی کی کھا لو ں کو مساجد اور مدارس کے لیئے وقف کریں۔ قربانی کرنے کے بعد گلی محلے کو صاف کریں۔ اللہ کابار بار شکر ادا کریں کہ اس نے قربانی کرنے کی توفیق دی۔ اپنے گنا ہو ں سے توبہ کریں۔اگر ہماری قربانی میں تقویٰ اخلاص پایا گیا تو ہماری قربانی قبول ہو گئی۔ اور قربانی قبول ہو نے کا مطلب ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کیا، اس کا بے پناہ اجر ملے گا۔دوسرا بڑا فائدہ ہماری قربانی کے جانور کا خون زمین پر بعد میں گرتا ہے، اور اللہ کی بارگاہ میں پہلے قبول ہو جاتا ہے۔تیسرا فائدہ یہ کہ قیامت والے دن اس قربانی کے جانور کا سارا جسم ہمارے اعمال میں نیکیوں کے پلڑے میں ڈال دیا جائے گا(مفہومِ حدیث)۔ جس پر بھی قربانی واجب ہو وہ لازمی کرے۔کیو نکہ میرے آقا ؐ نے فرما یا، جس پر قربانی واجب ہو اور وہ جان بوجھ کر قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے(مفہومِ حدیث)۔
عاجز نے کرونا وائرس کو قربانی کے عنوان کے ساتھ اس لیئے نتھی کیا کیو نکہ پیارے حضرت ابراہیم ؑکی سنت تازہ کر کے قربانی تو کرنی ہی ہے، لیکن چونکہ کرونا ء وائرس بھی سر پر ہے، اس لیئے احتیاطی تدابیر بھی کرنی ہیں۔ احتیاطی تدابیر اپنا ئیں گے تو کرونا سے بچیں گے، کرونا سے بچیں گے تو قربانی بھی اچھے طریقے سے کر سکیں گے اورجان لیوا بیماری ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔قربانی کا بھی اجر ملے گا اور احتیاط سے نہ صرف ہم خود بھی بچیں گے بلکہ اور باقی لوگ بھی محفوظ رہیں گے،ا س کا الگ اجر ملے گا۔انشا ء اللہ












