عرب میڈیا کا ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے کہنا ہے کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوران ایران کو 3 ارب ڈالر جاری کرنے پر ابتدائی اتفاق ہو گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران نے شرط رکھی تھی کہ مذاکرات میں ہر پیشرفت کے ساتھ 3 ارب ڈالر جاری کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی عمان کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز کی بنیاد پر بات چیت جاری ہے جبکہ وفود مشاورت کے لیے اپنے اپنے ممالک واپس جائیں گے۔
عرب میڈیا کے ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات آج دن کے آغاز میں ہی شروع ہو گئے تھے، مذاکرات میں قطر اور پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قطر نے ایران کے 6 ارب ڈالر تہران منتقل ہونے کی خبروں کی تردید کردی۔
دوحہ سے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق یہ رقم ایران کی جنوبی کوریا میں منجمد تیل کی آمدنی ہے، 6 ارب ڈالر 2023 کے امریکا ایران قیدی تبادلے کے معاہدے کے تحت قطر منتقل ہوئے۔
قطری ترجمان کے مطابق امریکا ایران کے درمیان 5-5 قیدیوں کے تبادلےکے بعد رقم جنوبی کوریا سے قطر منتقل کی گئی۔ امریکی شہریوں کی رہائی کے باوجود رقم ابتک ایران کے حوالے نہیں کی گئی۔
ترجمان نے قطر کی جانب سے واضح بیان میں کہا کہ ایرانی فنڈز قطر کے بینکس میں موجود ہیں اور امریکی پابندیوں کے تحت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کو 6 ارب ڈالر تک براہ راست رسائی حاصل نہیں، ایرانی صدر کے اعلان کے باوجود منجمد فنڈز کی تہران منتقلی تاحال نہیں ہوئی۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی فنڈز قطر کی ملکیت نہیں بلکہ ایران کے اثاثے ہیں، ایرانی فنڈز کے استعمال اور منتقلی پر اب بھی امریکی نگرانی برقرار ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امریکی اخبار کے مطابق خوراک، دواؤں اور ضروری اشیا کی خریداری کے لیے امریکا اور قطر نے ایران کو 6 ارب ڈالر دینےکا منصوبہ بنایا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ رقم ایران کے 100 ارب ڈالر سے زائد منجمد اثاثوں میں سے دی جائےگی۔ ایران کا کہنا ہےکہ اسے فوری طور پر24 ارب ڈالرکی ضرورت ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہےکہ 20 جون کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ آبنائے ہرمز سے آج 55 تجارتی جہاز گزرے، آبنائے ہرمز سے آج 1 کروڑ70 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی ترسیل ہوئی۔
امریکی فوج کا کہنا ہےکہ بحری آمدورفت کی آزادی یقینی بنانےکےلیے علاقے میں کارروائیاں جاری ہیں، ایران کے ساتھ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کے لیے امریکی افواج بدستور چوکس ہیں، امریکی افواج کی موجودگی معاہدےکی شقوں پرعمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہے۔













