اسلام اورحقوق العباد (15) شمس جیلانی

0
1005

ہم گزشتہ مضمون میں حقوق العباد پر بات کرتے ہو ئے یہاں تک پہونچے تھے کہ یہاں کے بوڑھے بات کرنے کو ترستے ہیں اور کسی بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ جبکہ جوان لوگوں تک رسائی مشکل ہوتی ہے کہ وہ اپنے راز کواپنے پاس ہی رکھتے ہیں اورکسی کو اس میں شریک کرنا پسند نہیں کرتے ۔بطورکونسلر ہمیں یہ تربیت دی گئی تھی۔ کہ“ آپ کسی سے کوئی ذاتی سوال نہ کریں“ اگر کوئی بتانا چاہے تو سن لیں اور اسے اپنے سینے میں دفن کر دیں کہ دوسری جگہ اس کا ذکر کرنا یا کسی اور کو بتاناجرم ہے۔ایسے میں اجتماعی فرائض جو کہ بطور مسلمان آپ پر عا ید ہو تے ہیں۔ ان پر عملدر آمد آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں کے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہے، چونکہ مجبوری ہے اور اس امت کی بھول چوک بھی معاف ہے۔

لہذا مجھے اس کی رحمت سے امید ہے کہ اس سلسلہ میں پوچھ گچھ نہیں ہو گی؟ اب رہے دوسرے مجلسی آدب وہ آپ کو انہیں کے منتخب کرنا پڑیں گے۔ مثلاً لائن نہ توڑیں جہاں آپ کو جگہ ملے وہاں کھڑے ہوں ؟ اگلی سیٹیں یہ لوگ پہلے بھرتے ہیں ۔ ہر شعبہ زندگی میں اپنے حقوق کی سختی سے حفاظت کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں ۔ مجلس میں ڈکارلینے کو معیوب سمجھتے ہیں، جبکہ چھینکنا معیوب نہیں ہے۔ کیونکہ چھینک روکنا صحت کے لیے سخت مضر ہے اس لیے ا س کی اجازت ہے ،مگر اس کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ ہمسفر کے منھ پر با آوازِ بلند چھینک دیں۔ آپ “الحمد للہ“ کہیں نہ کہیں جو آپ کےہاں سنت ہے مگر وہ یرحکم اللہ ضرور کہیں گے۔ “جوگاڈ بلیس یو “ کی شکل میں ہوگا؟

اسی طرح اب دروازوں کے باہر سے آواز دینے کا رواج نہیں ہے لہذا وہ سارے قوانیں اسلام میں جو آواز دینے اور انتظار کرنے بارے میں ہیں ان کی جگہ اب مبائل فون ،( سیل فون) نے لے لی ہے۔ وہ بھی وہ صبح ٨ بجے سے نو بجے شام تک ستعمال کر تے ہیں۔اس کے بعد کسی کو کال کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے کہ یہ آرام کا وقت ہے۔ اور کسی وقت بھی تین سے زیادہ مرتبہ گھنٹی بجنا پسندیدہ نہیں ہے۔ اس کے بعد کال خود بخود “آنسرنگ مشین“ یا “وائس میل“ پر چلی جاتی ہے۔ جو صبح اٹھ کر وہ پہلی فرصت میں سن لیتے ہیں اور جواب دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے لوگ ان سب چیزوں کاخیال نہیں رکھتے؟ ان کا کوئی کام کرنے کا وقت مقرر نہیں ہے۔ جبکہ اسلام نے اس سلسلہ ساری ہدایت ہمیں دی ہوئی ہیں۔ جیسے اس میں تین دستکوں کی بات۔جو اسلام سے لی ہوئی ہے۔ حضور(ص) کسی کے بھی دروازے پر تشریف لے جاتے تو تین دفعہ آواز یا دستک فرماتے۔ اس کے بعد خاموشی سے واپس تشریف لے آتے تھے۔ اور قطعی برا نہیں مانتے تھے۔ اس طرح صاحبِ خانہ کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے کہ بچے یا نوکر کے ذریعہ کہلائیں کہ ابا یا صاحب گھر پر نہیں ہیں۔کیونکہ ا س زمانے میں مسلمان جھوٹ بولنا گناہ ِ کبیرہ سمجھتے تھے۔ جوآجکل ہمارے ہاں عام ہے اور بلا ضرورت بھی لوگ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اور اکثر غیبت کے بھی مرتکب ہوتے ہیں ۔

جبکہ یہاں آپ کو جھوٹ بولتا کوئی ڈھونڈے سے نہیں ملے گا اور نہ ہی جھوٹے کو کوئی پسند کرتا ہے۔ نہ ہی کو ئی کسی کے عیبوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ ہر ایک اپنے کام میں مگن ملیں گے۔ پڑوسیوں سے غرض نہیں کہ وہ کیا کر ر ہےہیں ۔ اور اسی طرح کسی کو گھورنا یہاں بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کوئی کسی کو غور سے نہیں دیکھتا ہے۔ یہ ہی ہمارے یہاں بھی قرآنی آیت کی شکل میں حکم موجودہے کہ “مرد اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور خواتین اپنی آنکھیں نیچی رکھیں“ مگر سب کرتے اس کے برعکس ہیں ؟ یہ وہ چھو ٹی باتیں ہیں جو اگرآپ یہاں آنے کے بعد خیا ل رکھیں تو شاید وہ آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کریں ۔ آپ کے یہاں داخلے کے بعد پہلا ہی کوئی امپریشن اگر خراب رہا تو پھر تنہا رہنا پڑے گا۔ اور کوئی بھی آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھا ئے گا۔ اور آپ بجائے اسلام کا سفیر بننے کہ لٹا اس کو نقصان پہونچا نے کا باعث ہونگے۔اللہ ہمیں ان ملکوں میں اسلام کا سفیر بننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) اور وہ کردار پیش کر سکیں جو کبھی مسلمانوں کا خاصہ تھا۔

باقی آئیندہ

SHARE

LEAVE A REPLY