کائینات اور دنیا کا ارتقائی سفر، حصہ اول ۔‌ڈاکٹر نگہت نسیم

1
413

کائینات ایک ایسا سربستہ راز ہے جسے جاننے کے لئے سائینس ہمہ وقت بےقرار رہتی ہے ۔ سینکڑوں برس گزر چکے ہیں اور جانے کتنے اور گزریں گے لیکن تحقیق سے جتنی حقیقت اب تک کھلی ہے وہ یہ ہے کہ کائینات کو اپنی ارتقا کے لئے 6 درجوں سے گزرنا پڑا اور یہ وہی درجات تھے جسے اللہ پاک نے قران پاک میں سورہ حم سجدہ کی آیت نو سے بارہ تک فرمایا تھا ۔۔ ارشاد باری تعالی ہے “‌کہئے کہ کیا تم لوگ انکار کرتے ہو اس ذات کا جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اوراس کے لیے برابر دار مقرر کرتے ہو؟ وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے (9) اور اس نے اس (زمین) میں اس کے اوپر سے پہاڑ بنائے اور اس میں برکت عطا کی اور اس میں اس کی روزی کے سامان چار دن کی مدت میں مقرر کیے۔ یہ تمام دریافت کرنے والوں کے لیے یکساں طور پر جواب ہے (10) پھر اس نے آسمان کی طرف رخ کیا، اس حالت میں کہ اِدھر دھواں ہی دھواں تھا تو کہا اس سے اور زمین سے کہ آؤ خواستہ یا نخواستہ تو دونوں نے کہا آتے ہیں خوشی خوشی (11) تو اس نے ان کے ساتھ آسمانوں پر تقسیم ہونے کا انتظام کیا دو دن میں اور ہر آسمان میں وحی بھیجی اس کے معاملات کی اور ہم نے نیچے والے آسمان کو چراغوں اور حفاظت کے سامان سے زینت بخشی، یہ بندوبست ہے اس غلبہ واقتدار والے کا جو بڑا علم والا ہے ۔

کائینات کی ارتقا کے 6 درجات مندرجہ زیل ہیں ۔۔

1۔ عناصر ترکیبی دخان یعنی دھوئیں کی سورت نمودار ہوئے
2۔ ان عناسر سے اجرام سماوی یعنی آسمان پیدا کئے گئے
3۔ آفتاب سے زمین نکلی
4۔ زمین ٹھنڈی ہوئی تو بخارات پانی بن کر ٹپک پڑے اور زلازل سے ہر طرف پہاڑ‌تعمیر ہو گئے
5۔ پھر نباتات کا ظہور ہوا
6۔ آخر میں حیوانات کی تخلیق ہوئی جن کی ارتقائی صورت انسان ہے

ان معلومات کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ پاک نے زمین ، پہاڑ‌اور نباتات وغیرہ چار دنوں میں بنائے اور آسمان دو دن میں بنائے ۔ قران پاک میں یہ بات بھی واضح ہے کہ پہلے آسمانوں کی بلندی اور رات دن کا فرق مقرر کیا گیا پھر اس کے بعد زمین کو تخلیق کیا گیا۔

سورہ نازعات کی آیت ستائیس سے تینتیس میں ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔

“‌ بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا ۔ اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا۔ اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی ۔ اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا ۔ اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا ۔ اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا۔ یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے (کیا ) ۔”‌

جب کائینات اپنی تخلیق سے لے کر چھ زمانوں تک گزر چکی تو دنیا میں کم وبیش اکیس لاکھ قسم کے نباتات ، حیوانات ، جمادات پیدا ہو چکے تھے ۔ موجودہ سائینسدانوں کا خیال ہے کہ کائینات میں کم و بیش تیس کڑوڑ ‌زمینیں چکر کاٹ‌رہی ہیں ۔ اس نظریئے کی بنیاد یہ ہے کہ فضا میں دس کڑوڑ‌شموس یعنی سورج ہیں اور ہر سورج کے گرد کمو بیش تین زمینیں گھوم رہی ہیں۔ یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ “‌دنیا “‌کائینات کا وہ حصہ ہے جہاں اب تک کی دریافت کے مطابق زندگی سانس لیتی ہے یعنی ہماری زمین ہے جہاں ملک در ملک لوگ ہی لوگ آباد ہیں اور ہماری دنیا زمان و مکان کی حدود میں ہے جبکہ کائنات اپنے وسعتی مفہوم میں زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے ۔

کائینات مکان کے حوالے سے اس کا سب سے بڑاپہلو یہ ہے کہ ہمارے نظام شمسی سے باہر اربوں اور کھربوں دوسری کہکشائیں ہیں جن کی کوئی سرحد ، کوئی ٔکنارہ ، کوئی آخری سرا نہیں ہے اور سب سے چھوٹے ذرات کے اندربھی ایٹم ہیں اور ایٹم کے اندر عنصری جز کا ایک پیچیدہ ڈھانچہ ہے ۔ اس کی تقسیم در تقسیم کبھی نہ ختم ہونے والی ہے اور بے انتہا ہے ۔ اس پہلو کا کوئی آخری سرا ، کوئی کنارہ ، کوئی آخری حد نہیں ہے ۔

زمان ( وقت ) کے اعتبار سے کائنات کتنی بھی پیچھے چلے جائیں ، اس کے پیچھے ایک لامتناہی ماضی اور مستقبل میں کتنا ہی آگے چلے جائیں ، جہاں رکیں گے وہاں سے آگے لامتناہی مستقبل ہے ۔ وقت کا نا کوئی آغاز ہے اور نا کوئی انجام ہے ۔ مادے کی ہر صورت ، اور حرکت کی ہر شکل ، ہر معروضی وجود کائنات میں شامل ہے ۔۔ کائنات سے باہر موجود ہونے کا کوئی طریقہ ، کوئی رستہ نہیں ہے ۔ یہ ازبس ناممکن ہے ۔

کائنات سے باہر کچھ نہیں ، کائنات ہر شے پر حاوی ہے ، کائنات ہی کل ہے ۔ بعض مغربی سائنسدانوں نے یہ تصور پیش کیا کہ کائنات سے باہر ایک “‌ضد کائنات “‌ہے ۔ جو ضد مادہ پر مشتمل ہے ۔ جس چیز کو سائنس دان ضد مادہ کہہ رہے ہیں وہ مادہ ہی کی مخصوص شکل ہے ۔ اس کی اندرونی ساخت ایسی ہے جو اس مادے سے مختلف ہے ، جس کو ہماری سائنس کچھ سمجھ سکی ہے اور جس کی مزید پرکھ میں سائنس مصروف کار ہے ۔ یقیناً کائنات میں ایسی مادی صورتیں اپنا معروضی وجود رکھتی ہیں ، جو ہمارے جانے پہنچانے سے مختلف ہیں ۔ یہ چیز خود اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مادہ لامتناہی طور پر قابل تقسیم ہے ۔ اس کی تقسیم در تقسیم کا عمل کہیں نہیں رک سکتا ہے ۔ اس کا کوئی انجام ، کوئی حد ، کوئی آخری کنارہ نہیں ۔ اگر کوئی ایسے اجزام فلکی موجود ہیں جو ضد مادے پر مشتمل ہیں تو یہ سب اجرام فلکی بھی کائنات کا حصہ ہیں ۔یا یہ کائنات سے باہر کسی نام نہاد ضد کائنات کا حصہ ہیں تاہم سائینس یہ جاننے میں ہنوز ناکم ہے ۔

کائنات لامتناہی زمان اور لامتناہی مکان کی وحدت پر مشتمل ہے، کائنات کے بارے میں انسانی علم ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ سورہ مدثر کی آیت اکتیس میں ارشاد باری تعالی ہے “‌اللہ کے لشکروں کا علم صرف اللہ ہی کو ہو سکتا ہے ۔
جاری ہے

تحریر و تحقیق :‌ڈاکٹر نگہت نسیم

 نوٹ ؛ )
تحریر کے لئے مندرجہ زیل زرائع سے استفادہ حاصل کیا گیا
قران پاک کا ترجمہ و تفسیر
کتاب “‌دو قران”‌ ڈاکٹر غلام جیلانی برق
وکی پیڈیا
نیٹ کے مضامین
ڈاکومنٹری فلم زمین کی پیدائش
(نیشنل جیوگرافک فلم زمین کی کہانی

SHARE

1 COMMENT

  1. بہترین اور معلوماتی تحریر ، ہمیں اسی جہت پر سوچنا اور سمجھنا چاہیے قرآن بہت وسیع ہے اور آج کی ہی نہیں آنے والے ہر علم کی تفصیل موجود ہے ، بس ذرا غور و فکر چاہیے ، جسکی دعوت قرآن بار بار دے رہا ہے
    مزید اقساط کا منتظر رہوں گا

LEAVE A REPLY