مجھے ہے حکم اذاں،لا الہٰ الا اللہ ۔۔۔۔ شمس جیلانی

0
302

علامہ اقبال (رح) نے اس ایک مصرع میں ہر مومن کو اپنا یہ فرض یاددلایا ہے کہ “ ساری دنیابھی منحرف ہوجائے ،ساری ترجیحات بدل جائیں۔ مگر ایک مومن کی ذمہ داریاں نہیں بد ل سکتیں؟ اس کا کام نہ مساعد ہ حالات میں بھی کلمہ حق ادا کرنا ہے؟ ہم اس مہینے سے گزر رہے ہیں جس میں مومن کبھی رمضان کی تیاریاں قطعی مختلف طریقہ سےکیا کرتے تھے اور تیاریاں کیا ہوتی تھیں کہ روزہ داروں کو روزہ کے سلسلہ میں زیادہ سے سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی مسکین کو بھی احساس ِ کمتری نہ پیدا ہونے دیا جئے اسے اچھے سے اچھے کانے دیئے جائیں عید پر پہننے کے لیے نئے کپڑے دیئے جائیں؟ کیونکہ اس کا بڑا ثواب ہے۔یہ نہیں جو آج کے دور میں ہے کہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا ئے جبکہ پہلے وہاں غریبوں کے جسم پر کپڑے نہیں ہیں وہ بھی اتار لیے جائیں؟ دکاندر ذخیرہ اندوزی کرنے میں لگ جا ئیں اور بازار سے چیزیں غائب کردیں۔ نوکر شاہی رشوت کے ریٹ بڑھادے کہ اس کے بچوں کو اور صاحب کے بچوں کو عید کے موقع پر مزید قیمتی کپڑوں کی ضرورت ہے؟ “ جبکہ اس کے بجائے اسلامی ذخیرہ اندوزی کا رواج تھا “ آپ میری یہ بات سن کر چونک پڑینگے کہ “ اسلامی ذخیرہ اندوزی بھی ہوتی ہے “ کیونکہ ذخیرہ ا ندوزی کا لفظ ہی برا ہے اور جس کی مذمت اسلام نے بے انتہا ہے کی ہے ؟جو مسلمان رمضان میں سب سے زیادہ کرتے ہیں اوراللہ سے زیادہ ڈرنے کے بجا ئے با لکل نہیں ڈرتے!۔ جس طرح کوئی پیدا برا نہیں ہو تا اسے حالات اور ماحول بنا تا ہے۔ اسی طرح کو ئی لفظ بھی برا نہیں ہوتا ہے جب تک کہ اسے بری نیت سے بروئے کار نہ لایا جا ئے؟ آپ نے یہ حدیث ضرور سنی ہوگی کہ جوکہ متفقہ علیہ ہے اور جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اعمال کا دار مدار نیت پر ہے۔“اگر کوئی مسلمان یہ سوچ کر ذخیرہ اندوزی کرے کہ میں اسے اس وقت سستے داموں بیچ کر ان لوگوں کا مقابلہ کرونگا جو روزہ داروں کی حیات تنگ کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزی کر تے ہیں تو کرنے والے کو دہرا ثواب ملے گا ،ایک رمضان میں کار خیر کرنے کا دوسرے روزے داروں پرعرصہ حیات تنگ کرنے والوں کے دل میں یہ خوف پیدا کرنے کاکہ اس نے ایک دن کے لیے بھی اپناذ خیرہ نکال کر چیزیں سستی کر دیں توان کے تمام منصوبے ناکام ہو جائیں گے۔

اسلام کے پہلے دور میں ہرایک کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ روزہ داروں کو سہولیات پہونچا ئے اب کیا ہیں ہر ایک اپنے گریبان میں جھانک دیکھے اپنا بار بار جایزہ لے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات بدل گئیں ہیں ان کی ترجیحات یہ تھیں کہ“ ہم دنیا میں اپنی ابدی زندگی بنا نے آئے ہیں، جبکہ آج کے نام نہاد مسلمان کی ترجیحات یہ ہیں کہ وہ اپنا ااور بچوں کا شاندار مستقبل بنا نے آئے ہیں۔ جس کے بارے میں سورہ منافقین کی آیت نمبر (9 ) میں پہلے ہی خبردار کردیا گیا ہے کہ کہ تمہں کہیں اولاد ک محبت فتنوں میں مبتلا نہ کردے ، جو اس چکر میں پھنس گئے تو وہ خسارے میں رہیں گے ‘‘ ان تمام خطرات کو دفع کرنے اور تمام ضرور پیش بندیاں کرنے کے بعد اور ان بلا ؤں سے دامن چھڑانے کے بعد پھر سب اپنا یہ جائزہ لیں کے ہم توحید کے کس مرتبے پر فائز ہیں ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نےیہ فرماکر بات ختم کردی ہے کہ “روزے اجر میں خود ادا کرونگا اور یہ بھی فرمادیا ہے کہ میں سب کچھ معاف کرسکتا مگر “شرک “معاف نہیں کرسکتا ، جبکہ شرک میں ریاکاری بھی آتی ہے ۔ ریا کاری کیا ہے ہر وہ کام جو دکھاوے کے لیے کیا جائے اس طرح یہ شرک میں شامل ہے کہ وہ غیر اللہ کے لیے ہوتی ہے؟ کتنی ہی اچھی عبادت ہو اگر وہ غیراللہ کے لیے ہے تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے اپنا اجر ضائع کر دیا؟ اگر وہ خالص اللہ کے لیے ہے تو یقین کیجئے آپ نے میدان مارلیا اور ان میں شامل ہو گئے جنہوں نے صرف اس کی رضا کے لیے روزے رکھے اور مہینے بھر دوسرے بھلائی کے کام کیئے ؟ جنہوں اس کے برعکس کام کیا کہ“ لوگ مجھے مخیر کہیں ا نہوں نے اپنا سب کچھ گنوا دیا“ انہوں نے بھی جنہو ں نے رشوت خوری کی چوری کی کم تولا ، جھوٹ بولا اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا سیکڑوں کے حساب سے دسترخان سجائے۔یا سیاسی مقصد کے لیے افطار پارٹیاں کیں؟ کیونکہااس سے نیت چھپی ہوئی نہیں ہے جس کو کہ اجر دیناہے۔ جبکہ شیطان اس تاک میں رہتا ہےکہ وہ غلط کام کرنے والے کو اس کیے ہوئے برے کام بھی اس کی نظر اچھے کر کے دکھا ئے۔ اللہ سے دعاکریں کہ شیطان کے ہرحربے سے ہم کو محفوظ رکھے (آمین) ۔

پہلے آپ خود کو شیطان کی دستبرد سے محفوظ کرنے کی کوشش کریں پھر دیکھیں کہ غیب سے کیا نمودار ہوتا ہے؟ اگر آپ اپنی تشہیر نہ بھی کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی شہرت خود دنیا والوں تک پہونچا دیگا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کی پہچان کیا ہوگی ؟ اس کا جواب بہت سیدھا سادہ سا ہے ور ایک ہی شکل میں ہے کہ آپ کا دل اپنی شہرت پر خوش تو نہیں ہو رہا ؟کیونکہ حدیث یہ ہے کہ کسی غیر کی پرستش کرنےوالا اور اپنی پرستش پر خوش ہونے والا دونوں جہنمی ہیں “ نہ غیر کی پرستش کیجئے اور اپنے نفس کی اس خوہش کو روک کر رکھیں کہ وہ آپ کی توصیف اور تعریف پر خوش تو نہیں ہورہاہے جو کہ صرف اور صرف راز ہے آپ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے درمیان۔ جبکہ ماحول کا یہ عالم ہے کہ آج کل ہم بری طرح شرک میں مبتلا ہیں؟

ہم اپنےپچھلے کالم میں غیروں کی عقل کا ماتم کر رہے تھے کہ وہ کس حد جاچکیں ہیں کہ جانوروں کوپوجھتے ہیں؟ لیکن لکھتے ہوئے یہ بھول گئے تھے ۔ کہ ایسے لوگوں کی ہم بھی کمی نہیں ہے۔ جومنھگو پیر پر جاکر مگر مچھوں کو پوجتے ہیں، درختوں میں درخواستیں باندھتے پھر تے ہیں ۔ ہم نے ڈیلا پیر بھی جب انڈیا میں تھے تو دیکھے کہ وہاں سے جو گذرتا تھا تو ایک ڈھیلا اس پر ضرور چڑھا کر جاتا کہ اس کاسفر بخیر گزرے، اس طر ح بعد میں وہ ڈھیلا پیر کا مزار بن جاتا ، لٹھا پیر کے مزار بھی پاکستان میں پائے گئے کہ بعد میں میں انکشاف ہوا کہ لٹھا دفن ہے۔ اس معاملہ میں بنگلا دیش بی پیچھے نہیں تھا وہاں بھی لوگ سلہٹ میں واقع ایک کنوئیں سے پانی بھر بھر کے لے جاتے تھے۔ جوکہ جلال بابا (رح) کے مزار سے ملحق واقع تھا اس کی وجہہ تسمیہ یہ مشہور تھی کہ ایک زائر حرم کی گٹھری حرم شریف میں واقع چاہ زم زم میں گر گئی ور وہ اس کنوئیں سے بر آمد ہوئی لہذا اس کا رشتہ زمزم سے ہے۔ ہر قسم کے باباؤں کا بھی ہم نے ذکر کیا مگر پچھلے دنوں ہم یہ خبر سنکر دنگ رہ گئے کہ ایک بالکل ہی جاہل آدمی نے ، مال کمانے کا عجب طریقہ اپنا یا کہ اس نے لوگوں کوبتایا کہ مجھے خواب میں بشا رت ہو ئی ہے کہ فلاں جگہ ایک بہت ہی مقدس“ کچھوا “ موجود ہے جس پر بہت سے مقدس نام لکھے ہو ئے ہیں۔ وہاں وہ لوگوں کو لیکر پہونچا تو گواہوں کی موجودگی میں وہ عجیب الخلقت“ کچھوا“ جس کے پیٹھ پر الٹی سیدھی لکیریں بنی ہو ئی تھیں اس نے وہاں سے بازیاب کر لیا۔ وہ اسے لیکر پنے چک سنبڑیال پہونچ گیا اور ایک گڑھا کھود کر اس کی خانقاہ بنادی پھر کیا تھا وہاں دھمال بھی شروع ہو گیا۔ دیگیں بھی چڑھنے لگیں ۔ اور اس کی چاندی ہو گئی۔ حتیٰ کہ لوگ اس سڑے ہوئے پانی کوبھی پینے لگے اور ساتھ میں بطور تبرک لے جانے لگے ۔ جوا نسانوں کے پینے کہ قابل تو کیا خود “کچھوئے بابا کے استعمال کے قابل بھی نہ تھا“ شدہ شدہ یہ خبر تھانے تک پہونچ گئی پولس بھی آگئی۔ مگر اسے جب پتہ چلا کے یہ رکن صوبائی اسمبلی کا آدمی ہے تو وہ الٹے پا ؤں واپس چلی گئی، یا پھر اپنے حصہ طے کرکے واپس چلی گئی۔ جوکہ ہر میلے ٹھیلے سےاس کا حق بنتا ہے۔ یہ اس ملک کے حالات ہیں جو اللہ کے نام پر قائم ہوا تھا اور جس کے دستور میں لکھا ہوا ہے کہ یہاں حاکمیت ِ اعلیٰ اللہ کی ہو گی۔ اور اتباع صرف رسول (ص) کاہوگا۔جبکہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں سب کچھ معاف کرسکتا ہوں مگر شرک نہیں ؟لیکن ہمارے یہاں شرک کا کیا عالم ہے وہ اس زبوں صورت حال سے اخذ کرلجیے جو حقائق ہم نے اوپر بیان کردیے ہیں ۔ اس حالت می کسی توقع کرنا چھلنی میں دودھ دوہ کر اپنی قسمت کوکوسنے کے مترادف ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY