ملک کے معروف گٹارسٹ عامر ذکی 49 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔اہل خانہ کے مطابق عامر ذکی کا انتقال دل کے دورے کے باعث ہوا۔

عامر ذکی کا شمار ملک کے بہترین گٹارسٹس میں ہوتا تھا، وہ 1968 میں سعودی عربیہ میں پیدا ہوئے، انہوں نے پہلی بار 14 برس کی عمر میں گٹار بجایا۔

انہیں سب سے پہلے نامور موسیقارعالمگیر نے دریافت کیا، اس وقت عامر ذکی کی عمر محض 16 برس تھی، انہوں نے عالمگیر کے ساتھ کئی ممالک کا دورہ کیا، انہیں گٹار بجانے کے منفرد انداز کی وجہ سے شہرت حاصل تھی۔

عامر ذکی نے مختلف ممالک کا دورہ کرنے کے بعد اپنے بینڈ کو خیرآباد کہہ دیا اور 1994 میں اپنا پہلا البم ریلیز کیا۔

انہیں ان کے مشہور گانے ’میرا پیار‘ کی بے حد مقبولیت پر ساؤنڈ کرافٹ گولڈ ڈسک ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

عامر ذکی نے مختلف بینڈز کے ساتھ اندرون و بیرون ملک مل کر کام کیا، انہیں منفرد گٹار بجانے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

عامر ذکی کے انتقال پر علی گل پیر، حمزہ جعفری، فیصل رفیع اور بلال خان سمیت دیگر موسیقاروں، فنکاروں اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

عامر ذکی کو موسیقی کی دنیا میں ان کی بہترین کارکردگی کی بدولت ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کا شمار پاکستان کے بہترین گٹار بجانے والوں میں کیا جاتا رہا ہے۔

عامر ذکی کے بنائے ہوئے گانے آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے اپنی ریلیز کے وقت تھے۔

ان کے بارے میں آنے والے دنوں میں بہت کچھ لکھا جائے گا۔ گانے کے ساتھ انصاف کرنے کی ان کی صلاحیت کے بارے میں۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے گٹار ہیرو تھے

SHARE

LEAVE A REPLY