عالمی نمبر آٹھ پاکستان نے چیمپیئنز ٹرافی کے اہم میچ میں عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کو ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت 19 رنز سے شکست دے کر اپ سیٹ کردیا۔

یہ پاکستان کی ایونٹ میں آٹھ سال بعد پہلی کامیابی ہے جس کی بدولت گرین شرٹس نے سیمی فائنل میں رسائی کی امیدیں بھی برقرار رکھیں۔

ایجبسٹن میں کھیلے گئے گروپ بی کے میچ میں جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

ہاشم آملا اور کوئنٹن ڈی کوک نے پروٹیز کو 40 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، عماد وسیم نے ہاشم آملا کو پویلین واپسی پر مجبور کردیا۔

فاف ڈیو پلیسی اور ڈی کوک نے اسکور 60 تک پہنچایا ہی تھا کہ محمد حفیظ نے 33 رنز بنانے والے جنوبی افریقی بلے باز کی اننگز کا خاتمہ کردیا جبکہ اگلے ہی اوور میں ڈی ویلیئرز گولڈن ڈک کا شکار ہوئے۔

مزید پڑھیں: فخر زمان نے سابق عظیم کپتانوں کو اپنا مداح بنا لیا

تین وکٹیں گرنے کے بعد ڈیوڈ ملر اور ڈیو پلیسی نے اسکور کو بتدریج آگے بڑھانا شروع کیا لیکن اسکور 90 تک پہنچا ہی تھا کہ سرفراز احمد نے حسن علی کو باؤلنگ پر متعارف کرایا جنہوں نے ڈیو پلیسی کی وکٹیں بکھیر کر کپتان کا اعتماد درست ثابت کیا۔

جین پال ڈومینی اور ملر نے ٹیم سنبھالا دینے کی کوشش لیکن حسن نے ڈومینی اور پھر پہلی ہی گیند پر وین پارنیل کو آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کو چھٹا نقصان پہنچایا۔

118 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد جنوبی افریقی ٹیم مشکلات میں گھری نظر آتی تھی لیکن اس موقع پر ڈیوڈ ملر نے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا۔

انہوں نے 28 رنز بنانے والے مورس کے ہمراہ ساتویں وکٹ کیلئے 47 رنز کی شراکت قائم کی لیکن جنید خان نے اس شراکت کا خاتمہ کردیا۔

دوسرے اینڈ سے ملر نے عمدہ بیٹنگ جاری رکھی جس کی بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 219 رنز بنانے میں کامیاب رہی، ملر نے 75 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ شروع کی تو پہلا میچ کھیلنے والے فخر زمان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 23 گیندوں پر 31 رنز بنا کر جنوبی افریقی باؤلرز کی خوب خبر لی

جنوبی افریقہ کی طرح پاکستانی اوپنرز نے بھی ٹیم کو 40 رنز کا آغاز فراہم کیا ہی تھا کہ مورنے مورکل نے ایک ہی اوور میں فخر اور اظہر کو آؤٹ کر کے پاکستان کو یکے بعد دیگرے دو نقصان پہنچائے۔

ابتدائی نقصان کے بعد محمد حفیظ اور بابر اعظم نے انتہائی محتاط انداز اپنایا جس کے سبب رن ریٹ بہت زیادہ گر گیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے 94 گیندوں پر 52 رنز کی شراکت قائم کی اور اس خطرناک ثابت ہوتی شراکت کو توڑنے کیلئے جنوبی افریقی کپتان ایک مرتبہ پھر مورنے کورکل کو باؤلنگ کیلئے لائے جنہوں نے یہ فیصلہ درست ثابت کرتے ہوئے حفیظ کو چلتا کردیا جنہوں نے 26 رنز بنانے کیلئے 53 گیندیں کھیلیں۔

اس کے بعد شعیب ملک اور بابر اعظم نے ٹیم کی سنچری مکمل کرائی اور ابھی اسکور 119 تک ہی پہنچایا ہی تھا کہ بارش کے سبب کھیل روک دیا گیا۔

اس کے بعد مستقل جاری بارش کے سبب کھیل دوبارہ شروع نہ ہو سکا اور پاکستان نے ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت پروٹیز کو 19 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی کی امیدیں بھی برقرار رکھیں۔

یہ پاکستان کی چیمپیئنز ٹرافی میں آٹھ سال بعد پہلی کامیابی ہے جہاں اس نے آخری مرتبہ 2009 کے ایونٹ میں کوئی میچ جیتا تھا اور ایونٹ کے گزشتہ چھ مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY