پاکستان اور بھارت شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے نئے ارکان بن گئے ہیں۔ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے اس تنظیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں جنوبی ایشیا کی ان دو ہمسایہ ریاستوں کو باقاعدہ طور پر مکمل رُکن تسلیم کر لیا گیا۔
چینی صدر شی جِن پِنگ اس اجلاس میں شاہراہ ریشم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے کو اٹھا رہے ہیں۔ 1996ء میں قائم ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کے علاوہ روس، قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔
بھارت کو 2005ء سے ’مبصر‘ کا درجہ حاصل ہے۔ ایران اور منگولیا بھی تنظیم کے رُکن بننے کے خواہش مند ہیں۔













