سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ہفتے کی صبح کئی شاہی فرمان جاری کیے ہیں۔ نئے حکم کے تحت “بیورو آف انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن” کا نام بدل کر “آفس آف پبلک پراسیکیوشن” کر دیا گیا ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق اب یہ ادارہ مکمل خود مختاری کے ساتھ براہ راست فرماں روا کی نگرانی میں ہو گا۔
اس سلسلے میں کابینہ میں ماہرین کی کمیٹی کو ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ “بیورو آف انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن” کے نظام کا از سر نو جائزہ لے کر 90 روز کے اندر نظام میں ترمیم کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرے۔
نئے احکامات کے تحت بیورو آف انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن کے سربراہ شیخ محمد العرینی کو ان کے عہدے سے سبک دوش کر کے شیخ سعود المعجب کو وزیر کے منصب کا حامل اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
سعودی فرماں روا نے جنرل سکیورٹی کے ڈائریکٹر لیفٹننٹ جنرل عثمان بن ناصر المحرج کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ بریگیڈیئر جنرل سعود بن عبدالعزیز کو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر جنرل سکیورٹی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں شاہی فرمان کے مطابق عبدالحکیم التمیمی کو شہری ہوابازی کی جنرل اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے ، وہ وزیر کے عہدے کے حامل ہوں گے۔ سہیل ابانمی کو “جنرل اتھارٹی آف زکات اینڈ ٹیکس” کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ فیصل بن عبدالعزیز بن لبدہ کو شاہی دفتر میں مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالعزیز الحامد کو شہزادی سطام بن عبدالعزیز یونی ورسٹی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے۔
اسی طرح عقلا بن علی العقلا کو شاہی دیوان کے سربراہ کا نائب مقرر کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فہد المبارک کو شاہی دفتر میں مشیر اور تمیم بن عبدالعزیز السالم کو خادم حرمین شریفین کے خصوصی سکریٹری کا معاون بنا دیا گیا ہے ، وہ وزیر کے منصب کے حامل ہوں گے

SHARE

LEAVE A REPLY