کوئٹہ میں شدید دھماکا،پولیس اہلکاروں سمیت15افرادجاں بحق

0
177

کوئٹہ کے آئی جی آفس کے سامنے شہدا چوک پر زور دار دھماکے کے نتیجے میں4پولیس اہلکاروں سمیت15افراد جاں بحق جبکہ 10سالہ بچی اور پولیس اہلکاروں سمیتدرجنوں افراد زخمی ہوگئے۔

دھماکاکوئٹہ کے گلستان روڈ پر واقع آئی جی آفس کے سامنے شہداء چوک پراس وقت ہوا ، جب پولیس اہلکاروں نے مشکوک کار کو روکنے کی کوشش تو اس میں سوار حملہ آور نے خود کو اڑالیا۔
دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے میں دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچااور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد کا رمیں نصب کیا گیا تھا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق کار میں مبینہ خودکش حملہ آور بھی سوار تھا، جس کا ممکنہ ہدف آئی جی آفس تھا۔
امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کوسول اسپتال کیا، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لےکر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ میں سیکورٹی بڑھادی گئی ہے جبکہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا تقریباً پونے نو بجے اس وقت ہوا جب پولیس اہلکاروں مشکوک گاڑی کوروکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو اڑا لیا۔ان کا کہنا تھا کہ جس نوعیت کا دھماکا تھا اتنا نقصان نہیں ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ دہشت گرد حملے کے خدشات تھے اورسیکورٹی کے تمام ممکنہ انتظامات کیے گئے تھے۔
آئی جی ایف سی میجرجنرل ندیم انجم نے بھی دھماکےکی جگہ کا دورہ کیا اور واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔
دھماکے کی مذمت، رپورٹ طلب
وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کی ہےاور حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایک بیان میں وزیرداخلہ نے جاں بحق افرادکے اہل خانہ دلی ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
وزیراعلی ٰبلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پراظہارافسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نےزخمیوں کوفوری بہترین طبی امداد کی فراہمی اورشدیدزخمیوں کوکراچی منتقل کرنےکےانتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ کوئٹہ بھرمیں سیکورٹی انتظامات بڑھائے جائیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY