پاکستان نے کشمیری حق خوارادیت کے حامی کو دہشت گرد قرار دینے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندرمودی کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والےمشترکہ اعلامیہ کو مسترد کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تحریک آزادی کو دہشت گردی سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حامی کو دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے۔

پاکستان نے کشمیری حق خوارادیت کے حامی کو دہشت گرد قرار دینے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندرمودی کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والےمشترکہ اعلامیہ کو مسترد کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تحریک آزادی کو دہشت گردی سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حامی کو دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے درمیان ملاقات کے بعد امریکہ-بھارت مشترکہ اعلامیہ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کی وجہ جانے بغیر مشترکہ اعلامیہ مزید مسائل کا باعث بنے گا اور یہ اعلامیہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام میں ممد و معاون ثابت نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ-مودی ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے ایک اچھے موقعے کو ضائع کردیا گیا جہاں امریکا نے بھارت کی جانب سے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے نریندر مودی کی پالیسیوں کو ترک کرنے کا بہتر موقع بھی گنوا دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید ملٹری ٹیکنالوجی کی فروخت پر شدید تشویش ہے، اس قسم کی ٹیکنالوجی کی فروخت سے خطے میں فوجی عدم توازن پیدا ہوگا۔

پاکستان نے کشمیری حق خوارادیت کے حامی کو دہشت گرد قرار دینے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندرمودی کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والےمشترکہ اعلامیہ کو مسترد کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تحریک آزادی کو دہشت گردی سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حامی کو دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے درمیان ملاقات کے بعد امریکہ-بھارت مشترکہ اعلامیہ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کی وجہ جانے بغیر مشترکہ اعلامیہ مزید مسائل کا باعث بنے گا اور یہ اعلامیہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام میں ممد و معاون ثابت نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ-مودی ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے ایک اچھے موقعے کو ضائع کردیا گیا جہاں امریکا نے بھارت کی جانب سے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے نریندر مودی کی پالیسیوں کو ترک کرنے کا بہتر موقع بھی گنوا دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید ملٹری ٹیکنالوجی کی فروخت پر شدید تشویش ہے، اس قسم کی ٹیکنالوجی کی فروخت سے خطے میں فوجی عدم توازن پیدا ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے درمیان ملاقات کے بعد امریکہ-بھارت مشترکہ اعلامیہ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کی وجہ جانے بغیر مشترکہ اعلامیہ مزید مسائل کا باعث بنے گا اور یہ اعلامیہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام میں ممد و معاون ثابت نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ-مودی ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے ایک اچھے موقعے کو ضائع کردیا گیا جہاں امریکا نے بھارت کی جانب سے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے نریندر مودی کی پالیسیوں کو ترک کرنے کا بہتر موقع بھی گنوا دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید ملٹری ٹیکنالوجی کی فروخت پر شدید تشویش ہے، اس قسم کی ٹیکنالوجی کی فروخت سے خطے میں فوجی عدم توازن پیدا ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY