فرانسیسی صدر امانیوئل ماکغوں نے نو منتخب قانون ساز اسمبلی میں اپنے تاریخی خطاب کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان کی تعداد میں تیس سے پینتیس فیصد کمی کا اعلان کر کے ملکی سیاست میں ہل چل مچا دی ہے۔

صدر کےڈرامائی انداز میں کمی کے منصوبےپراکثر سیاسی جماعتوں کے بیشتر رہنما سیخ پا ہو گئے۔ تین جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔
بائیں بازو کے کٹر سیاسی رہنما ژاں لوک میلیخوں نے الزام لگایا کہ’ صدر ماکغوںنے ’صدارتی شہنشاہیت‘ کے ’فرعونی پہلو‘ کی لکیر عبور کر لی ہے ۔
اجلاس کو بعض دیگر رہنماؤں کی جانب سے’ صدر کی مطلق عنانی کا آئینہ دار‘ قرار دیاگیا۔

صدر نے یہ خطاب تاریخی مقام ’ورسائی محل‘ میں ڈیڑھ گھنٹے دورانئے کا طویل خطاب کیا۔خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ قانون سازوں کی تعداد میں ایک تہائی کمی لانا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ موثر حکومت تشکیل دی جا سکے اور ملک مزید ترقی کی راہوں پرگامزن ہوسکے۔

سیاسی رہنماؤں نے صدارتی بیان کو مسترد کردیا ہے تاہم صدر کاکہنا ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں عوام نے انہیں انقلابی اقدام کےلئے بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ اگر ایک سال میں آپ لوگ میرے ان اقدام کو قانونی حیثیت نہیں دیں گی تو میں عوام سے ریفرنڈیم کےلئے رجوع کروں گا ۔

صدر ماکغوں کے ایوان پارلیمنٹ کی تعداد کم کرنے کے منصوبے کو قانونی حیثیت حاصل ہونے کی صورت میں نیشنل اسمبلی کی نشستیں 577 سے کم ہوکر 385 رہ جائے گی جبکہ سینیٹ کے ارکان کی تعداد 348 سے کم ہو کر 232 ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں پہلے ہی پرانے ارکین میں سے صرف 143 ارکان کی واپسی ہوئی ہے جبکہ باقی سارے ارکان نئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY