امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار وائٹ ہاؤس میں مسلمانوں کے اعزاز میں افطار عشائیےکا اہتمام کیا۔

تقریب میں امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان ایک ساتھ ٹیبل پر موجود تھے۔

دعوت افطار میںعرب امارات، اردن، مصر، تیونس، عراق، قطر، بحرین، مراکش، الجزائر اور لیبیا کے سفیروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں پہلے افطار عشائیے میں امریکی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل تھے، تقریب سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حاضرین اور دنیا بھر کےمسلمانوں کو ماہ صیام کی مبارک باد پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ سب حاضرین اور دنیا بھرکے مسلمانوں کو رمضان مبارک ہو، آج کی شام اس تقریب میں ہم سب دنیا کے عظیم ترین مذہب کی ایک مقدس روایت کا اہتمام کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ مسلمان پورے دن پر محیط روزے کے اختتام پر افطار کرتے ہیں جو ماہ مبارکرمضان بھر کے دوران روحانیت کی عکاسی کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس افطار عشائیے کا مسلمانوں کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور کئی مسلم تنظیموں نے بائیکاٹ کیا۔

انہوں نے امریکی صدر کی مسلم مخالف پالیسیوں کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاجاً افطار بھی کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY