سینیٹر نہال ہاشمی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد

0
153

سپریم کورٹ نے دھمکی آمیز تقریرکےالزام میں نہال ہاشمی پرفردجرم عائد کردی گئی ،سابق ن لیگی رہنما نے کمرہ عدالت میں چارج شیٹ پر دستخط کئے۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے دھمکی آمیز تقریر کیس کی سماعت کی اور نہال ہاشمی کو مزید وقت دینے سے انکار کردیا ۔
جسٹس اعجاز افضل نےنہال ہاشمی سے کہا کہ آپ سمندرمیں اتریں گے تو ہی تیریں گے ،صبر و تحمل سے سماعت کرتے ہیں، آپ کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔
سینیٹر نہال ہاشمی نے عدالت سے کہا کہ وہ اپنےجمع کرائے گئے دلائل پر جواب دینا چاہتا ہوں ،ججز نے کہا کہ جب ہم جواب سےہی مطمئن نہیں تودلائل کی ضرورت بھی نہیں ۔
نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس نے تقریر کا نوٹس لیا تھا سوموٹو نہیں ،عدالت کے سامنے وضاحت کرنا میری ذمہ داری ہے، نہال ہاشمی کی پارٹی نے بھی انہیں نوٹس جاری کردیا۔
وکیل نے نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر کا حصہ عدالت میں پڑھ کر سنادیا،جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حساب لینے والوں تمہارا یوم حساب بنا دیں گے ، یہ اشارہ کس کی طرف تھا؟کیا یہ حصہ آپ کی تقریر کا نہیں ہے؟
نہال ہاشمی کے وکیل نے جواب میں کہا کہ یہ تقریر کا حصہ ہے مگر اسے غلط انداز سے پیش کیا گیا،عمران خان تو روز کہتے ہیں ہم تلاشی لے رہے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آج حاضرسروس ہو کل ریٹائرڈ ہوجاؤگے،یہ اشارہ کس کی جانب تھا؟نہال ہاشمی کے وکیل نے جواب میں کہا کہ جج تو کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے ، جج ہمیشہ جج ہی رہتا ہے ۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یوم حساب کا ذمہ تو آپ نےلےلیا،اب دلوں کے حال کا بھی ذمہ لے لیں ،جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم نہال ہاشمی پر فرد جرم عائد کررہے ہیں۔
نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ شیطان کو بھی پہلے وارننگ دی گئی تھی ،نہال ہاشمی کمرہ عدالت میں موجود ہیں انہوں نے توہین کی ہی نہیں،جب توہین ہی نہیں کی تو فرد جرم بھی نہیں بنتی۔

SHARE

LEAVE A REPLY