سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر پاناما عمل درآمد کیس کی چوتھی سماعت کے دوران وزیراعظم کے بچوں کےوکیل سلمان اکرم راجا نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادئیے، جس میں رپورٹ اور شواہد مسترد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے جب سوال اٹھایا جاتا ہے تو دستاویز لے آتے ہیں۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا نجی دستاویز میں تو یہ بھی لکھا جا سکتا ہے کہ سامان ٹائی ٹینک میں گیا، کوئی مصدقہ دستاویز لائیں۔جے آئی ٹی کے نتائج پر حملے نہ کریں، ان کی دستاویزات کا جواب دیں۔
سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر پاناما عمل درآمد کیس کی چوتھی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جاری ہے، وزیراعظم کے بچوں کےوکیل سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے ہیں۔
وزیراعظم کے بچوں کےوکیل سلمان اکرم راجہ نے لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔
سماعت کے آغاز پرجسٹس عظمت نے ریمارکس دئیے کہ سلمان صاحب آپ نے میڈیا کے سامنے اپنا کیس پیش کیا، تمام دستاویزات میڈیا میں زیر بحث آئیں، باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے، وہاں دلائل بھی دے آئیں۔ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولیں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سے کہا کہ یواے ای سے بھی حسین نواز کے دستاویزات کی تصدیق مانگی گئی تھی۔
جس پر سلمان اکرم راجا نے یو اے ای کی وزارت انصاف کا خط پڑھ کر سنایا، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یو اے ای کے خط پر حسین نواز سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا،حسین نواز کی تصدیق شدہ دستاویزات کو بھی نہیں مانا گیا،جے آئی ٹی نے یو اے ای کے خط پر نتائج اخذ کیے۔
جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے نام پر چند دستاویزات ہمیں موصول ہوئی ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک دستاویز قطری شہزادے ایک برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے۔
سلمان اکرم راجا اکرم راجا نے وضاحت کی کہ میڈیا کو میری طرف سے دستاویزات نہیں دی گئیں۔
جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ تمام دستاویزات لیگل ٹیم نے ہی میڈیا کو دی ہوں گی۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے یو اے ای کے خط پر نتایج اخذ کیے،یو اے ای کے خط پر حسین نواز سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا، حسین نواز کی تصدیق شدہ دستاویزات کو بھی نہیں مانا گیا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قطری خط میں کیا ہے یہ علم نہیں،جے آئی ٹی نے اسی وجہ سے تصدیق کے لئے دستاویزات بھجوائیں، مریم نواز کے وکیل نے عدالت میں منروا کے دستاویزات سے لاتعلقی ظاہر کی، یواے ای سے بھی حسین نواز کے دستاویزات کی تصدیق مانگی گئی تھی۔
وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل نے کہا کہ خط میں کہا گیا کہ مشینری کی منتقلی کا کسٹم رکارڈ بھی موجود نہیں،بارہ ملین درہم کی ٹرانزیکشنز کی بھی تردید کی گئی،یو اے ای حکام نے گلف ملز کے معاہدے کا ریکارڈ نہ ہونے کا جواب دیا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ آمد کے موقع پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ کا غذات پہلے بھی موجود تھے ،جے آئی ٹی نے نظر انداز کیا، دستاویزات تھیں مگر انہوں نے کہا کہ ان کا وجود ہی نہیں۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب موجود ہے ؟انہوں نے کہا کہ آج دلائل دوں گا آپ بھی سن لیں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا فروخت کے وقت عزیزیہ مل پر کوئی بقایاجات تھے؟
جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عزیزیہ مل پرجو بقایا جات تھے ادا کر دیے گئے تھے،مل کا بینک ریکارڈ بھی موجود ہے۔
سلمان اکرم راجا کی طرف سے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات بھی سپریم کورٹ میں داخل کردئیے گئے۔
وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نے 17صفحات پر مشتمل پراعتراضات جمع کراتے ہوئے استدعا کی کہ عدالت جے آئی ٹی کی رپورٹ اور شواہد کو مسترد کرے۔













