چیف جسٹس نے ملتان زیادتی واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا

0
726

چیف جسٹس آف پاکستان نے ملتان میں پنچایت کے حکم پر 17 سالہ لڑکی سے ریپ کے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس سے واقعے پر رپورٹ طلب کرلی۔

گذشتہ روز میڈیا نے ایک واقعہ رپورٹ کیا تھا کہ وسطی پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے مطفر آباد میں ایک 12 سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ کے بعد ایک پنچایت نے مبینہ ملزم کی 17 سالہ بہن کے ریپ کا حکم جاری کردیا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ 20 اراکین پر مشتمل پنچایت نے کم عمر لڑکی سے زیادتی کا حکم دیا تھا، 20 رکنی پنچایت میں 4 خواتین بھی شامل تھیں.

چیف جسٹس نے میڈیا پر نشر ہونے والی ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ 24 گھنٹے میں سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ وسطی پنجاب کے شہر ملتان میں ایک 12 سالہ بچی کے مبینہ ریپ کے فیصلے کے لیے منعقد ہونے والی پنچایت نے بدلے میں ملزم کی بہن کے ریپ کا حکم سنادیا تھا۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایچ او ملک راشد کا کہنا تھا کہ ملتان کے علاقے مظفرآباد میں رواں ماہ 16 جولائی کو ایک 12 سالہ بچی گھاس کاٹنے گئی تو وہاں موجود ایک شخص نے اسے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔

مذکورہ بچی نے یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی، جس کے بعد 18 جولائی کو وہاں مقامی افراد کی ایک پنچایت منعقد کی۔

تقریباً 40 افراد پر مشتمل پنچایت کے دوران اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ریپ کرنے والے شخص کی 17 سالہ بہن کو بھی بدلے میں ریپ کا نشانہ بنایا جائے۔

اس فیصلے کے بعد ملزم کی بہن کو وہاں لایا گیا اور ریپ کا شکار ہونے والی 12 سالہ بچی کے بھائی نے پنچایت کے حکم پر 17 لڑکی کو بدلے میں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا۔

اس پنچایت کے بعد ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کے گھر والوں نے ویمن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کردیا، یہ بات جب ملزم کے اہلخانہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے بھی ویمن پولیس سینٹر میں مقدمہ درج کروا دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY