لاہورفیروز پور روڈ خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی جے آئی ٹی قائم

0
163

کومت پنجاب نے لاہور میں فیروز پور روڈ پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کر دی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزارت داخلہ کی جانب سے لاہور دھماکے کی تحیقیقات کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 19 ایک کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سینیئر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) محمد اقبال جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی)، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے نمائندگان اور سی ٹی ڈی لاہور کے تحقیقاتی افسر شامل ہیں۔

جے آئی ٹی کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دہشتگردوں نے اس دھماکے میں ویسا ہی دھماکا خیز مواد استعمال کیا جو مال روڈ پر ہونے والے بم دھماکے میں استعمال ہوا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خودکش بمبار اور سہولت کار قصور سے لاہور موٹر سائیکل پر آئے جبکہ سہولت کار نے خودکش بمبار کو ارفع کریم آئی ٹی ٹاور کے قریب چھوڑا اور خود کلمہ چوک تک چلا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خود کش بمبار اس مقام تک واپس گیا اور اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جہاں پولیس اہلکاروں اور مزدوروں کی ایک بڑی تعداد ایک درخت کے سائے کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی سہولت کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں تاکہ شہر میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ لگایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع سے شواہد کو جمع کیا گیا جنہیں پنجاب فارینسک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کو جانچ کے لیے بھیجا گیا جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

جے آئی ٹی کے رکن نے یہ بھی بتایا کہ خودکش حملہ آور کے جسم کی باقیات کو جمع کیا جاچکا ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے اس کی شناخت کی ممکن ہوسکے گی۔

یاد رہے کہ لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں واقع ارفع کریم انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) ٹاور کے قریب فیروز پور روڈ پر 24 جولائی کو ایک خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد جاں بحق اور 58 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پنجاب پولیس نے لاہورکے فيروز پور روڈ پر ہونے والے خود کش دھماکے کی ابتدائی تحقيقات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکے ميں 10 سے 12 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

ڈان اخبار

SHARE

LEAVE A REPLY