نوازشریف 2013ء میں ملک کے تیسری بار وزیر اعظم بنے

0
179

تین بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف نے 1976ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، نواز شریف کی سیاسی میدان میں باقاعدہ انٹری 1980ء میں ہوئی جب اس وقت کے گورنر پنجاب غلام جیلانی خان نے انہیں صوبائی وزیر خزانہ تعینات کیا۔ 1981ء میں جنرل ضیاءالحق کے پنجاب ایڈوائزری بورڈ کے رکن بن گئے اور یوں جنرل ضیاءلحق کے زیر سایہ سیاسی تربیت کا موقع ملا۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ميں مياں نواز شریف قومی اور صوبائی دونوں سیٹوں پر کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے 9 اپریل 1985ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھایا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تاہم نواز شريف کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ 1988ء میں جنرل جیلانی کے ایماء پر اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا گیا۔ جنرل ضیاءالحق کے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا۔

بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو نواز شریف پھر وزيرِاعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے۔ اس دوران مرکز اور پنجاب میں محاذ آرائی عروج پر رہی۔ کراپشن کے الزامات پر بینظیر بھٹو حکومت ختم ہوئی تو اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990ء کے انتخابات ميں کاميابی حاصل کی۔ 6 نومبر 1990ء کو نواز شريف نے پہلی بار وزيرِ اعظم کا حلف اٹھایا۔ اس وقت کے صدر سے محاذ آرائی کے بعد غلام اسحاق خان نے اپریل 1993ء میں نواز شریف کی حکومت ختم کر دی۔

سپریم کورٹ نے 26 مئی کو ان کی حکومت بحال کر دی لیکن محاذ آرائی ختم نہ ہوئی اور جولائی 1993ء ميں صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف دونوں کو گھر جانا پڑا۔ 1993ء میں بینظیر دوبارہ وزیر اعظم بن گئیں لیکن نواز شریف کے ساتھ ان کی کشیدگی ختم نہ ہو سکی۔ نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ مل کر پی پی حکومت کے خلاف ٹرین مارچ بھی کیا۔ 1996ء میں بینظیر حکومت کو صدر فاروق لغاری نے ہٹایا تو 1997ء میں نواز شریف بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر دوسری بار وزیر اعظم بن گئے۔

صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کرانے کیلئے آئین میں چودھویں ترمیم منظور کرائی۔ آئینی امور پر سپریم کورٹ سے محاذ آرائی شروع ہو گئی، 1997ء میں مسلم لیگ کے وزراء اور کارکنوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا۔ بحران شدید ہونے پر سابق صدر فاروق لغاری اور جسٹس سجاد علی شاہ کو گھر جانا پڑا۔ 28 اپریل کو نواز شریف نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کئے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔ طاقت کے حصول کیلئے نواز شریف کی فوج سے محاذ آرائی بھی ہوئی۔

آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو نیشنل سیکورٹی کونسل کے معاملے پر اکتوبر 1998ء میں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اسی دوران کارگل ایشو پر بھی فوج سے محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی۔ اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے آرمی چیف پرویز مشرف کی جگہ نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کی کوشش کی تو مشرف نے حکومت کو ختم کر دیا اور نواز شریف کیخلاف طیارہ سازش کیس بنایا۔

عمر قید کے بعد مشرف دور میں مبینہ طور پر 10 سالہ معاہدہ کر کے نواز شریف خاندان سمیت سعودی عرب چلے گئے۔ جلاوطنی کے دور میں نواز شریف کی زندگی میں کئی تبدیلیاں آئیں، 2006ء میں اپنی سب سے بڑی سیاسی مخالف بینظیر بھٹو سے لندن میں میثاق جمہوریت کیا اور اقتدار سے فوج کا کردار ختم کرنے کا عزم کیا۔ 23 اگست 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔

دس ستمبر 2007ء کو نواز شریف لندن سے اسلام آباد پہنچے تو ان کو مشرف حکومت نے ائیر پورٹ پر اترنے نہ دیا۔ نواز شریف کا طیارہ جدہ ڈیپورٹ کر دیا گیا۔ سعودی مداخلت پر نواز شریف 25 نومبر2007ء کو لاہور پہنچ گئے۔ 2008 کے عام انتخابات کا نواز شریف نے پہلے بائیکاٹ کیا پھرآصف زرداری کے مشورے پر الیکشن میں حصہ لیا۔ گیلانی حکومت میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کیلئے لانگ مارچ کو لیڈ بھی کیا۔ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔

دھاندلی کے الزامات پر عمران خان نے نواز حکومت کیخلاف تحریک چلائی اورایک سو چھبیس دن سے زائد دھرنا دیا۔ ایک سال قبل پانامہ لیکس سامنے آنے پر نواز شریف کیخلاف اپوزیشن ایک ہو گئی اور استعفے کیلئے دباؤ بڑھا دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY