پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے بارے نازیبا زبان استعمال کرنے کے بعد اہل کشمیر میں اشتعال پایا جاتا ہے۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے نئیے پاکستان کے نام پہ موجودہ پاکستان کا ستیاناس کردیا ہے۔ اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے۔ پاکستان کے حالات دیکھ کون محب وطن کشمیری یہ نہیں سوچتا کہ “اس پاکستان سے الحاق کی بات کی جا رہی ہے”؟ یہ نہ قائد کا پاکستان ہے نہ اقبال کا تصور، یہ ہی بات فاروق حیدر صاحب نے کہی ہے جسے غلط رپورٹ کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ان الفاظ کو ایسے رپورٹ کیا گویا کہ فاروق حیدر کہہ رہے ہیں کہ ” میں سوچوں گا کہ کس ملک سے اتحاد کرنا ہے” جبکہ ویڈیوز دیکھیں تو بات کے تسلسل میں بانیانِ پاکستان کے کارہائے نمایاں و خیالات کی تائید اور موجودہ منفی سیاسی طرزِ عمل پہ تنقید کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کہہ رہے ہیں کہ ” کل اس نے (عمران خان نے) کہا کہ علامہ اقبال کا پاکستان بنا رہا ہوں اگر یہ ہی ہے علامہ اقبال اور قائد کا پاکستان تو مجھے سوچنا پڑے کا بحیثیت کشمیری میں کس ملک کے ساتھ قسمت کو جوڑنے جا رہا ہوں”۔ ایسیا باتیں اور بیانات عموماً مختلف صوبہ جات کے سیاست دانوں، میڈیا اینکرز، مبصرین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے کہے جاتے ہیں جو کہ ہمیشہ مثبت طور پہ ہی لیئے جاتے ہیں۔
مجھے میری فیس بک کی پوسٹوں کے بعد پی ٹی آئی کے لوگوں نے ہی ویڈیوز ان بکس کیں ہیں جھنیں بلا تعاصب دیکھا جائے تو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بات دراصل کیا کہی جا رہی ہے اور اس بات کا بتنگڑ کیسے بنادیا گیا ہے۔

ہم وزیر اعظم آزاد کشمیر سے اسلام آباد کی بیساکھیوں کے سہارے چلنے پہ اختلاف کر سکتے ہیں اور مختلف امور میں ان کے نقاد بھی ہیں لیکن یہ بھی عیاں ہے کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ نون حکمران جماعت ہے اور کشمیری عوام نے نون لیگ کو ووٹ دیکر منتخب کیا ہے۔ وزیر اعظم کی اپنی جماعت سے وابستگی کوئی پوشیدہ بات نہیں اور ان کا اپنی جماعت کے قائد میاں محمد نواز شریف سے بھی اظہار ہمدردی و یکجہتی ان کے سیاسی عقائد کے عین مطابق ہے۔ وزیراعظم کو عمران خان کی جانب سے گالیاں دینا ذلیل انسان کہنا ان کو جوتے مارنے والی شیخ رشید کی بات قابل مزمت اور ناقابل قبول ہے۔

وزیر اعظم آزادکشمیر پہ زبان درازی کرنے والے باون باون گز کے بڑبولوں کو خیال رہنا چائیے کہ فاروق حیدر خان منقسم ریاست جموں کشمیر کے منتخب وزیر اعظم ہیں اور ان کی توہین و تذلیل کشمیری قوم کی توہین و تذلیل کی مترادف ہے۔ عمران خان کی سیاسی روش کو مثبت طور پہ تاریخ میں یاد نہیں رکھا جائے گا۔ جس ملک (برطانیہ) میں ان کے بچے ان کی سابق اہلیہ کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کا گہرا ربط و تعلق ہے اس ملک کے ساتھ یہ صاحب وہاں کے ہی سیاسی طرز عمل اپناتے تو بات آج مختلف ہوتی۔ عمران خان اپنے سابق بردار نسبتی ذیک گولڈ سمتھ کی بطور مئیر آف لندن ایک مسلمان امیدوار اور موجودہ مئیر آف لندن صادق خان کے مقابلے ایلکشن مہم تو چلاتے رہے ہیں لیکن اس ملک کی وضع داری اور عظیم روایات پہ مشتمل انداز سیاست سے کچھ بھی نہیں سیکھ سکے۔ کیا برطانیہ میں “اوئے ہوئے اور ہُو ہکار” کی سیاست ہوتی ہے ؟۔

عمران خان کا شیخ رشید کو بطور وزیر اعظم نامزد کرنا شیخ صاحب کے ساتھ کسی پرانی رنجش کا نتیجہ لگتا ہے اگر ایسا نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ “اگر پی ٹی آئی کے پاس پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے انتیخاب کے لئے عددی اکثریت پوری ہوتی تو تب بھی شیخ رشید ہی ان کے امید وار ہوتے ؟۔ خالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ رشید کو پی ٹی آئی کیادت نے سیاسی ذلیل۔۔۔ معاف کیبئے گا سیاسی دلیل کے طور پہ وزیراعظم نامزد کیا ہے تاکہ ویراعظم کے انتیخاب کا مرحلہ گزر جائے۔ ہاں اگر پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے انتیخاب کے دوران اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے کسی “معجزے” کی منتظر ہے الگ بات ہے ظاہر ہے عمران خان صاحب نے بطور منتخت رکن پارلیمنٹ سیاسی مفادات کے حصول کیلئے حربِ اختلاف کی جنگ پارلیمنٹ میں لڑنے کے بجائے باہر غیرمنتخب طاقتوں کی مدد سے سڑکوں پر لڑی ہے اب وزیر اعظم نے انتیخاب کے دوران “میدانِ کارزار میں فرشتوں” کی نصرت کے بھی امکانات نہیں۔
عمران خان جو کُوڑ کبار، لوٹے لفافے اور چمچے چماٹے اکٹھے کر کر نیا پاکستان بنانے جا رہا ہے انھوں نے ہی پرانا پاکستان کھٹارہ بنایا ہے۔ عمران خان کی ٹیم میں موجود لوگوں کا کریکٹر اتنا ڈھیلا ہے کہ فوجی بوٹوں کے تسموں سے کس کے باندھیں تو بھی بات نہیں بنتی۔

محمد رفیق مغل/ لندن

SHARE

LEAVE A REPLY