سب سے پہلے تو جشنِ آزادی سب کو بہت بہت مبارک اس دعا کے ساتھ کہ ملک میں انصاف ،قانون اور ایمانداری کا بول بالا ہو ۔اور حق اور سچائی کی طرف قدم گامزن رہیں ،آمین
واگہ برڈر پر سب سے بڑا پاکستانی پرچم لہرایا گیا ۔دعا ہے کہ سب سے اونچا یہ پرچم ہمارا رہے ۔

بہت دل چاہتا ہے کہ اچھے اچھے عنوانوں پر کالم لکھیں مگر بد قسمتی سے ملک کی محبت اور سیاست سے دلچسپی نے ہماری لکھائی کو بہت محدود سا کر دیا ہے ۔ہمیں خود بھی اب متلی سی محسوس ہوتی ہے جب ہم اُن سیاست دانوں پر قلم اُٹھاتے ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کی سیاست کو جھوٹ اور مکر سے آلودہ کر دیا ہے ۔میں نے شاید اپنی زندگی میں کبھی اتنی غلط بیانی نہیں سُنی ،جتنی اس دور میں لو گوں نے کی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ریکارڈ قائم کئے ۔نہ جانے کس مشیر با تدبیر نے مشورہ دیا ہے کہ جو کچھ رہا سہا ہے وہ بھی ڈبو د و ۔۔ شرمندگی کا شائبہ بھی کسی چہرے پر نظر نہیں آتا بلکہ رقص کر رہے ہیں اپنے اعمال پر ۔کچھ کا کہنا ہے کہ جزا سزا بس اللہ پر چھوڑ دو بالکل صحیح لیکن اُسی اللہ رحیم و کریم کے فرمان ہیں کہ جھوٹ نہ بولو ،خیانت نہ کرو ۔انصاف کرو ۔ملزم کو سزا دو ،تاکہ جرم بڑھیں نہیں قصاص لو کہ اس میں تمہارے لئے عافیت ہے ۔دنیا ہی میں آخرت کی تیاری کرو کہ“ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یہ حدیثِ بمارکہ ہے ۔پھر کس طرح جرائم سے آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔

ایک خبر نے دل دکھا دیا کہ شاید بارہ سالہ بچہ ریلی میں شامل کسی کار کے پہئیوں کے نیچے کچلا گیا ۔اور بر بریت کی انتہاء ہو گئی کہ کوئی رُک بھی نہ سکا کہ اُس معصوم کو اُٹھا لیتا ۔بلکہ داماد صاحب نے اپنی جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے اُسے جمہوریت کا شھید قرار دے دیا ۔ہم تو حیران ہیں کہ کس طرح یہ سنگدلی پیدا ہو گئی ہے ہمارے لوگوں میں کہ اپنا اقتدار اور اپنی انا کے آگے اُنہیں کچھ نظر ہی نہیں آرہا ۔کیا انہیں لیڈر کہا جاسکتا ہے ؟ ایک پچپن سالہ شخص بھی کسی اسکوٹر کی ٹکر سے ختم ہوگیا ہماری دعا ہے کہ اللہ اُن کے عزیزوں کو صبرِ جمیل عطا فرما ئے ۔موت برحق ہے اور جس طرح آنی ہے آئیگی ۔
جی ٹی روڈ بند ہے کس لئے ایک نااہل شخص کی ریلی کے لئے ۔سبزیاں مارکیٹ میں نہیں آرہیں ، پھل نہیں پہنچ رہے َ کھانے پینے کا سامان نہیں پہنچ رہا لوگ پریشان ہیں کس جرم کی سزا ہے عوام کے لئے ؟ شاید اب ہمیں بھی عقل آئے کہ خدا را اپنا مینڈیٹ ایسے کرداروں کے ہاتھ نہ دیں جو قوم اور عوام کی قسمت کو داؤ پر لگا کر پوچھتے ہیں کہ “ہم نے کیا کیا ہے ۔“ کہتے ہیں مجھے عہدے کی طلب نہیں تو پھر رونا کاہے کا ہے ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کس کے لئے آپ نے لوگوں کو تین دن کے لئے یرغمال بنا لیا ہے اور یہ لال بھجکڑ جو آپ کے سامنے ناچ رہے ہیں کل کسی اور کے سامنے ،کسی اور کے لئے ناچ رہے ہونگے ۔آپ کی پارٹی میں بھی یہ کہیں اور ہی سے آئے تھے ایسے لوگوں کا اعتبار کر کے آپ نے اپنی رہی سہی آبرو کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے کوئی مخلص آپ کے ساتھ نہیں کھڑا کوئی باشعور اور پارٹی ورکر جو سنجیدہ ہے آپ کی ریلی کا حصہ نہیں ہے ۔ہمیں لگتا ہے نواز صاحب کو کسی نے ہپنا ٹائز کر دیا ہے کہ بس جو ہو وہ آپ ہو اور وہ اُس کا معمول بنے ہر وہ بات کر رہے ہیں جو اُن کے حق میں کسی صورت بھی نہیں ہے ۔

کاش جب آپ کا فیصلہ عدالت میں گیا تھا آپ استعفیٰ دے دیتے اور الگ ہو جاتے اقتدار سے ۔لیکن آپ نے نوے کی دہائی کو بھلایا نہیں یا آپ نے نوشتئہ دیوار پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھی ورنہ آپ اس ازیت سے نہ گزرتے جس سے آپ گزر رہے ہیں اور ابھی تو بہت سے خونِ نا حق جواب کے منتظر ہیں ۔معصوم خواتین کی لاشیں احتساب ،مانگتی ہیں معصؤم بچیوں کی چیخ و پکار بدلہ چاہتی ہے ۔کہاں بچینگے وہ سارے جو ملزم ہیں ۔اور وہ ہی آپ کے ساتھی ہیں ۔اب یہ رَیت بھی بدلے گی کہ جو چاہے کر لو کوئی نہیں پوچھتا کہ سب آپ حاکموں کے غلام ہو تے ہیں ۔بس محترم نواز صاحب یہ ہی انقلاب لانا ہے کہ اب کوئی ہمیں لوٹ نہیں سکے گا ،اب کوئی گولیاں برسا کر بچ نہیں سکے گا ۔اب کوئی کچل کر فرار نہ ہو پائے گا ۔یہ ہی وطیرہ ہے ترقی کرنے والی قوموں کا کہ جرم پر پردہ ڈالو نہ مجرم کو چھوڑو ۔اور آپ شاید ابھی بھی نہ سمجھے کہ ستر کا ہندسہ بہت سخت بھی ہے اور طاقتور بھی ۔استغفار بھی ستر دفعہ کی جاتی ہے جو اب آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بھی کرنی چاہئے ۔

جس طرح دروغ گوئی کی جارہی ہے وہ بھی اپنی نزیر آپ ہے ۔چاہے سوشل میڈیا ہو یا ہمارے کچھ چینل ،ہم حیران ہیں کہ کیا ہو گیا ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو یا صرف اور صرف پیسہ اور مفادات ہی سب کچھ ہیں ۔جس طرح کچھ تجزیہ نگار جو ہمیں ہمیشہ بہت با شعور لگتے تھے ، غلط بات کا ساتھ دیتے اور حمایت کرتے نظر آرہے ہیں ہمیں دُکھ ہے کہ ملک کسی کے سامنے نہیں ہے عوام کسی کے سامنے نہیں ہیں ۔عدلیہ پر جس طرح لے دے کی جارہی ہے وہ بھی حیران کُن ہے کہتے ہیں “ایک منٹ میں فارغ کر دیا “حیرت ہے کہ سوا سال آپ کو ایک منٹ لگ رہا ہے آپ کو تو جتنا موقعہ دیا گیا شاید ہی کسی کو ملے ۔اور اب بھی آپ کو جس طرح نظر انداز کیا جارہا ہے وہ حیرت ناک ہے اور کوئی ہوتا تو شاید اب تک نہ جانے کہاں ہوتا ۔

آپ کے خطابات آپ کی مظلوم،یت نہیں آپ کی دروغ گوئی کو سب کے سامنے لا رہے ہیں در اصل آپ نے کبھی یہ سوچا ہی نہ تھا اور نہ ہی شاید آپ کے ان نادان دوستوں نے جو ہمیشہ ساری حکومتی مشینری کو اپنا غلام بنا کر رکھتی ہے کہ کوئی آپ کی بات نہیں سُنے گا ۔آپ نے ہمشہ ہر ادرے کو اپنا غلام بنا کر رکھا اب اگر غلاموں نے بیڑیاں توڑ دیئ ہیں تو آپ کی آہیں نکل رہی ہیں ،
ملک کو جس طرح کھلونا بنا کر کھیلنا چاہ رہے ہیں وہ شاید اب نہیں ہوگا اب لوگوں میں اچھے برے کی تمیز بھی پیدا ہو گئی ہے اور وہ دوست اور دشمن کی پہچان بھی کرنے لگے ہیں ۔اُنہیں جھوٹ اور سچ کا فرق بھی پتہ چل رہا ہے اور وہ اپنا حق بھی سمجھ رہے ہیں ۔اب شاید بے وقوف بنانا آسان نہیں ہوگا ۔حکومتی پیسہ اگر خرچ کیا جا رہا ہے تو کیا نئے وزیرِ اعظم جواب دہ ہونگے کہ وہ کیوں یہ سب کروا رہے ہیں ،پوچھنا بے کار ہے کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ وزیرِ اعظم میں نہیں ہوں اب ہم کیا کہیں ۔؟؟

ملک سے محبت کرنے والے کبھی اپنا مفاد نہیں دیکھتے ۔وہ ہمیشہ ملک کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں یہ ایک خاندان ہی نہیں جب اور بٹیرے پکڑے جائینگے تو پتہ چلے گا کہ ملک کو کس کس نے نوچا ہے ۔ہمیں اُمید ہی نہیں یقین ہے کہ اب انصاف ہر نہج اور ہر قیمت پر ہوگا کیونکہ ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ کوئی ایک زمے دار نہیں اُس کا ساتھ دینے والے اور ملک کی دولت لوٹنے والے بہت سارے ہیں جن سب کو اس سترویں سال میں سب کے سامنے لا کر ملک کی تقدیر کو نئی ڈگر پر ڈالنا ہو گا ۔جب مُنصف ،انصاف دینے لگیں تو رستے روشن ہو جاتے ہیں اور ہمیں اُمید ہے کہ یہ سترواں سال ہم سب کے لئے اُجالے لے کر آیا ہے ۔

اللہ میرے ملک اور آزادی کو قائم رکھے پاکستان زندہ باد آزادی پائیندہ باد ۔پاکستانی عوام زندہ باد ، ہر وہ شخص زندہ باد جو کرپشن کے خلاف کھڑا ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY