آزاد کشمیر میں بنیادی سہولیات اور حقوق کی تحریک ,سید نذیر گیلانی 

0
810

آزاد کشمیر میں بنیادی سہولیات اور حقوق کی ایک عوامی سطح پر تحریک جاری ہے۔ عوام کے مطالبے کی حمائیت کرنا، کشمیر کے اندر اور کشمیر کے باہر، رہنے والے ہر کشمیری کا فرض ہے۔ حقوق کے مطالبے کی کوئی کوشش یا تحریک مقامی نہیں ہوتی بلکہ دنیا کا ہر شہری بنیادی سہولیات اور حقوق کے مطالبے میں شریک سمجھا جاتا ہے۔

ریاستی عوام کی ایک تحریک عالمی سطح پر بھی تسلم شدہ ہے اور اس تحریک کے درج ذیل 4 جز ہیں :
1. Rights, 2. Dignity, 3. Security and 4. Self-determination

اس عوامی تحریک کو سمجھنے میں پہلی اور بنیادی دشواری یہ ہے کہ، حکومت میں شامل لوگ اور منتخب نمائندے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ہدائیت کے پابند ہیں۔ یہ غیر عوامی ہوکر رہ گئے ہیں۔

پاکستان کی یہ سیاسی جماعتیں خود بھی کسی نہ کسی حد تک اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہیں اور ان کا ایک کمپرومائز ہے۔ اس لئے وزیراعظم، سابق وزیراعظم، سپیکر، اپوزیشن لیڈر، اور دوسرے کشمیری لیڈر اس عوامی تحریک کی درست ترجمانی اور تشریح کرنے میں، غلطی ہی نہں کر رہے بلکہ خود کو گمراہ بھی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اور سابق وزیراعظم ایک دوسرے کے خلاف، اظہار بد پر اتر آئے ہیں۔ پارلیمانی زبان کی جگہ “چرسی اور درزی” کی یاری کا کلام سامنے آگیا۔

اپنے ذاتی مفاد اور مقصد کے لئے، عوام کے ان مطالبات کو پاکستان مخالف تحریک کا رنگ دینا ، نامناسب ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا ایک بہت پرانا ہتھیار ہے۔ یہ جرم کشمیری قیادت مارچ 1957 میں 5 کشمیریوں کی گرفتاری اور پش بیک کرنے کے بعد سے، لگاتار کرتی چلی آرہی ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر اور سابق وزیراعظم، سپیکر یا اپوزیشن لیڈر اگر اپنی عوام کے جائیز مطالبات کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہوں اور عوامی خدمت میں ناکام یو جائیں، وہ پاکستان کے مفادات کا کیا تحفظ کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے مفادات کا تحفظ 3 یا 4 حکومتی شخصیات یا کراچی ایگریمنٹ کی شق نو کے تحت تعینات کیا گیا چیف سیکرٹری یا پولیس کا IG نہیں کر سکتا۔ نہ ہی اس کا تحفظ فرنٹیئر کانسٹیبلری یا رینجرز کر سکتے ہیں۔

آج کی تاریخ میں آزاد کشمیر کے عوام کے خلاف فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کو استعمال کرنا، عوام کے خلاف ایک اعلان جنگ قرار پائے گا۔ حکومت پاکستان نے اس سوال کا جواب خود ہی 19 دسمبر 1958 کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں تحریری طور دیا ہے۔

ہندوستان نے 24 اکتوبر 1958 کو تحریری طور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں یہ دعوٰی کیا کہ پاکستان کا جموں وکشمیر کے کیس میں کوئی  عملی صورتنہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستان نے اپنے دلائل پیش کئے۔

اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے 19 دسمبر 1958 کے جواب میں بھارت کے 17 جنوری 1948 آور دوسرے ریفرنسز کو (لغو) قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
“It is the equal sub-ordination of the interests of the parties to the will of the people of Kashmir which is the basis of the very principle and programme of a plebiscite in Kashmir”.

پاکستان نے 19 دسمبر 1958 کے مکتوب میں سیکیورٹی کونسل پر واضح کیا، کہ کشمیر میں فریقین، (انڈیا اور پاکستان) کے مفادات کشمیری عوام کی مرضی کے تابع ہیں۔ اور رائے شماری کے اصول اور رائے شماری کا پروگرام بھی کشمیری عوام کی مرضی کے تابع ہیں۔

پہلی اولیت کشمیری عوام کی مرضی قرار پائی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے مفادات کا مرحلہ ابھی نہیں آیا اور یہ مفادات بھی کشمیری عوام کی مرضی کے تابع ہیں۔

حکومت آزاد کشمیر میں شامل لوگ اور منتخب نمائندے عوامی مطالبات کی درست تشریح نہیں کر رہے بلکہ علم کشمیریات کی کمی اور اپنی پاکستانی سیاسی جماعتوں کے زیر اثر رہ کر، خود کو گمراہ کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان میں شامل شخصیات اور کشمیر کو ہینڈل کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کو ہندوستان کی 24 اکتوبر 1958 آور 5 مارچ 1959 کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی دستاویزات اور پاکستان کا 19 دسمبر 1958 کا جواب پڑھ کر اپنی اضافی ذمہداری کا احساس کرنا چاہئے۔

ابھی تک تو حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ اور قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آزاد کشمیر میں بنیادی سہولیات اور حقوق کے مطالبے کی راہ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کی رکاوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔

اگر ہم آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے لئے کوئی اقدام نہیں کر سکتے، صاف پانی، سستی بجلی اور سستا آٹا تو فی الحال دے سکتے ہیں۔ عوام کے خلاف کسی بھی فورس کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔

سید نذیر گیلانی 

SHARE

LEAVE A REPLY