طارق بٹ ۔۔ معذرت میں فارغ نہیں ہوں

0
72

میرے دوست معروف ٹیلی ویژن آرٹسٹ آغا وحید الرحمن مرحوم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہم میں سے کسی سے بھی پوچھ لو یہی کہے گا پل نی فرصت نہیں تے ٹکے نی آمدن نہیں ۔ ان کا کہا آزما کے دیکھ لیں کسی بھی ملنے والے سے پوچھ کے دیکھ لیں صاحب آج کل کیا ہو رہا ہے؟ جواب ملے گا کچھ بھی نہیں دوسرا سوال داغیے تو پھر صاحب وقت کیسے گزرتا ہے ؟۔ رٹا رٹایا جواب کیا بتاوں صاحب پل بھر کی فرصت نہیں حتی کہ سر کھجانے کے لئے بھی بڑی مشکل سے وقت نکال پاتا ہوں ۔ وسائل میسر نہیں ورنہ سر کھجانے کے لئے کوئی ملازم رکھ لیتا۔

یہ حالت یا کیفیت کسی ایک کی نہیں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں ہم سب بے حد مصروف ہو گئے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ہم نے اپنے آپ کو مصروف کر کیا ہے۔ یہ مصروفیات ہیں کیا ؟ کھانا اور لیٹ کر ٹیلی ویژن دیکھنا، کھانا اور لیٹ کر موبائل فون پر فیس بک، واٹس ایپ اور ٹویٹر سے محظوظ ہونا۔ یہ ہیں ہماری مصروفیات جنہیں ہم نے اپنے آپ پر طاری کر رکھا ہے ۔ ہماری سوشل سرگرمیاں سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ۔ صبح یا شام کی سیر عرصہ ہوا ہم ترک کر چکے ۔ ایک دوسرے سے ملنے ملانے کا رواج بھی ختم ہو گیا کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے کوئی پوچھے کہ وقت کیوں نہیں صاحب سارا سارا دن آپ بستر پر پڑے اینٹھتے رہتے ہیں سوائے ٹیلی ویژن دیکھنے یا پھر فیس بک اور واٹس ایپ پر دوستوں کے پیغامات کے جوابات دینے کے آپ کرتے ہی کیا ہیں ؟ تو جواب ملتا ہے اس کے بعد ہمارے پاس وقت بچتا ہی کتنا ہے کہ ملاقاتوں کے لئے نکل کھڑے ہوں۔

زیادہ عرصہ نہیں بیتا کوئی برسوں پرانی بات نہیں یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو شام کے اوقات میں دوستوں کی محفلیں جما کرتی تھیں مختلف موضوعات زیر بحث آیا کرتے تھے اکثر اوقات چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں دوست اکٹھے ہو کر لمبی واک پہ نکل جاتے راستے میں بھی خوب باتیں ہوتیں اور جب تھک جاتے تو کسی زمین کے ٹکڑے کا انتخاب کر کے چوکڑی بنا کر بیٹھ جاتے اور پھر بین الاقوامی، ملکی اور گاوں یا شہر کے مسائل پر سیر حاصل بحث چھڑ جاتی ۔ ہر کوئی اپنے اپنے دلائل کی مار مارتا نہ کسی کی ہار ہوتی نہ جیت ، تھکاوٹ ختم ہوتی تو دوبارہ سے واک کا سلسلہ آغاز ہو جاتا مگر اب تمام کا رخ واپسی کی طرف ہوتا گھر پہنچ کر غسل کیا جاتا اور جسم میں ایک نئی تازگی اور توانائی کا احساس انگڑائیاں لینے لگتا۔

مردوں کا تو ذکر ہی کیا اب تو خواتین نےجن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ گھر کے اندر خواہ تین گھنٹے تک بیٹھ کر باتیں کر لیں وقت رخصت دروازے کی دہلیز پر ایک گھنٹہ مزید ضرور لگائیں گی انہوں نے بھی آپس کی محفلوں سے کنی کترانا شروع کر دیا ہے شہر کی خواتین تو ایک دوسرے کو اتنا جانتی نہیں مگر ہمارے دیہات کی خواتین جو شام کے اوقات میں سروں پر خالی گھڑے لئے کنووں کا رخ کیا کرتی تھیں اور وہاں گھڑا بھرنے کے بعد اپنی سکھیوں سے کم از کم آدھہ گھنٹا ضرور گاوں کی ون سونی خبریں سنتی اور سناتی تھیں وہ چلن بھی اب تمام ہوا کہ انہوں نے بھی کچن کے بعد اپنا زیادہ وقت ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ کر ساس بھی کبھی بہو تھی دیکھنا ہوتا ہے اور ایسے ڈراموں میں ہونے والی تمام تر سازشوں کو ذہن نشین کر کے اپنے گھر پہ آزمانا پھر لازم ٹھہرتا ہے ۔کنویں پر دو چار چکر دماغ اور جسم کی جس ورزش کا سبب بنتے تھے اس کے نہ ہونے سے اب ہر دوسری عورت اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ کو چھپانے کی نا کام کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے مگر پیٹ ہے کہ چھپنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گھٹنوں کے درد اس کے علاوہ کہ زمین پر بیٹھنا محال ۔

ٹیلی ویژن، فیس بک، واٹس ایپ اور ٹویٹر نے ہمیں جتنا اپنے قریب کر لیا ہے اتنا ہی اپنوں سے، ان کے پیار محبت سے ان کے دکھ سکھ سے بہت دور کر دیا ہے اب جب تک ہمیں اطلاع نہ کی جائے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارا کون سا عزیز یا دوست کس حال میں زندگی کے دن گزار رہا ہے اوروں کے لئے جینا ہم عرصہ ہوا بھول چکے اب ہم صرف اور صرف اپنے لئے جی رہے ہیں اور جیتے چلے جا رہے ہیں ۔ اپنے بستر اپنے ٹیلی ویژن اور اپنے موبائل فون نے جہاں دنیا کو ہمارے لئے گلوبل گاوں بنا دیا وہیں اپنے گاوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ اپنے پاس پڑوس کی تو بات ہی کیا ہمیں تو اپنے قریبی عزیز و اقارب اور دوست احباب کی بھی کوئی خبر نہیں ہوتی ۔بستر پر پڑے پڑے ہم اتنے سست اور کاہل ہو گئے ہیں کہ ہمارے جسم کے ایک ایک حصے کو مختلف قسم کے دردوں نے اپنے شکنجے میں لے لیا ہے ۔

میل جول کو ترک کرنے سے ہم اس معاشرے کا حصہ نہیں رہے جو خالصتا ہمارا معاشرہ تھا ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والا معاشرہ ۔اپنوں کے دکھ میں آنسو بہانے والا اور خوشیوں میں قہقہے لگانے والا معاشرہ ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم واپس لوٹ جائیں اس سے پہلے کہ کہیں اتنی دیر نہ ہو جائے کی بالکل ہی اندھیر ہو جائے ۔ آغاز کیجئے اپنوں سے ملنے ملانے کا وہی پہلے والی رونقیں اور بیٹھکیں بحال کیجئے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ کسی اپنے سے ملنے کے لئے پہنچیں تو وہ پوچھ بیٹھے صاحب کیسے آنا ہوا ؟۔ آپ فرمائیں بس بڑے دنوں بعد آج فارغ تھا سو ملنے چلا آیا تو آ گے سے جواب ملے معذرت میں فارغ نہیں ہوں ۔ اور یہ کہہ کر وہ موبائل فون پر مصروف ہو جائیں ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY