ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
پاکستان میں خفیہ ایجینسیاں عام سول ملازمین کی زندگیوں پر کیسے سایہ فگن ہیں۔اس کا مجھے پہلی مرتبہ ذاتی تجربہ اس وقت ہوا جب میں بی بی سی کی عالمی سروس کے لئے منتخب ہوئی، سرکاری طریقہ کارکے مطابق مجھے ملک چھوڑنے کے لئےایک خفیہ ادارے کا اجازت نامہ درکار تھا، مگر بلکل آخری مرحلے پر ادارہ نے مجھے کلیئرنس دینے سے انکار کردیا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ میں تقرری اور وزیر اعظم کے منظوری کے باوجود بیرون ملک نہیں جاسکتی۔ گویا میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر۔
اس وقت میں جس ذہنی اذیت سے گزری وہ کیفیت شائد میں کبھی الفاظ میں بیان نہ کرسکوں سوائے اس کے کہ مجھے زندگی میں کبھی ایسی بے بسی کا احساس نہیں ہوا۔
بالکل یوں لگا جیسے میں کسی فرعون کی خدائی میں رہ رہی تھی۔ اپنی زندگی کے اہم سنگ میل پر اگے بڑھنے کے لئے میں ایک خفیہ ایجنیسی کے احکامات کی محتاج تھی۔ ملکی سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار سے میں تو میں واقف تھی۔ مگرایگزٹ کنٹرول فہرست میں میرا نام؟ کس لیے میں نے بارہا سوچا: میرا تعلق سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے تھا اور یہ حکومت کی مدح سرائی کے سوا اور کیا کرتے تھے۔
خیر داستان طویل ہے اور تکیف دہ بھی۔ مختصراً یہ کہ آئی بی کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل خواجہ مسرورمیری ایک کزن کے بہت ہی قریبی سسرالی عزیز تھے کی مدد سے اس وقت کے ڈی جی سے ملاقات کا وقت ملا۔
میں ڈی جی صاحب کے بہترین فرنیچر سے آراستہ کشادہ کمرے میں داخل ہوئی تو ایک چمکتی ہوئی طویل و عریض سے میز کے پیچھے سرخ وسفید ڈی جی صاحب سفید براق شلوار قمیض میں ملبوس فائلوں پر جھکے ہوئے تھے۔
لمحے تو وہ شائد چند ہی تھے۔ مگر بہت ہی بھاری
میرے کمرے میں داخل ہونے پرانھوں نے نظریں اٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، مجھے عجیب لگا۔
نظریں فائل پرسے اٹھائے بغیر بولے ’جی فرمایے بی بی میں کیا کرسکتا ہوں آپ کے لیے‘ حا لانکہ ان کے فوری جواب سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے آنے سے پہلے میری فائل دیکھ چکے تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ میں کیوں آئی تھی۔ کسی خفیہ ادارے کے سربراہ سے میری زندگی میں با لمشافہ یہ پہلی ملاقات تھی،
میں خاصی نروس تھی۔
میں نے کہا کہ میری جانے کی تاریخیں طے ہوچکی ہیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ مجھے سفر کے لئے کلیرنس کیوں نہیں دی جارہی۔ اب انھوں نے نظریں اٹھائیں اور مجھے دیکھتے ہوئے بولے’بی بی آپ کا ایک سابق وفاقی وزیر سے ملنا جلنا ہے یعنی تعلقات ہیں‘۔ چند لمحوں کو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آگیا اور مجھے سمجھ میں نہیں آیا کیا جواب دوں کہ اس قدر کریہہ جھوٹ میرے لیے بالکل خلاف توقع تھا۔ وزیر موصوف پیپلز پارٹی کا تختہ الٹے جانے کے ساتھ ہی میرے اسلام آباد آنے پہلے برسوں ہی سیاسی افق سے مکمل غائب ہو چکے تھے،
بہر حال چند لمحوں میں خود کو مجتمع کرچکی تھی۔ میں نے جواب دیا کہ ان محترم سے چند ماہ قبل جوش ملیح آبادی کی برسی پر ہالیڈے ان میں میری پہلی اور آخری مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ جوش کی برسی کی تقریب میں میرے شوہر صفدرہمدانی کو جوش کے بارے میں بات کرنے کے لئے جوش صاحب کی پوتی نے مدعوکیا تھا اور میں ان کے ہمراہ گئی تھی۔ میں کیا کہہ رہی تھی شائد ڈی جی صا حب کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ ان سے زیادہ حقیت احوال سے کون واقف ہوگا۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بولے بی بی آپ جن کے توسط سے آئی ہیں وہ میری محترم ہیں۔ گھر جائیے دو تین روز میں آپ کو کلیرنس مل جائےگی۔ گویااجازت جاری ہونا جوایک معمول کی کاروائی ہوتی ہے،میرا حق تھا مجھ پر احسان جتا کر دیا گیا،
اور یوں چند دن بعد دو لائنوں پر مسشتمل اجازت نامہ میرے ہاتھ میں تھا، اللہ اللہ ٗ خیر صلی،
الزام جیسے ہوا میں لگا ویسے ہی ہوا میں تحلیل ہوگیا، ظاہر ہے میرے خلاف الزمات کی یہ فائل تیار ہونے میں ادارے کے کچھ وسائل خرچ ہوئے ہونگے، مگر کس لئے ؟؟
غریب عوام کو شائد یہ اندازہ بھی نہیں کہ جو مالی اور انسانی وسائل ان کی بہبود پرخرچ ہونے چاہیں۔ وہ کس طرح بیجا تصرف میں لائے جاتے ہیں۔ جن اداروں یا اھلکاروں کے پاس اختیارات ہیں وہ کس قدرغیرذمے داری سے جھوٹ کا سہارا لیکر کسی عورت کا کرئیر خراب کر سکتے ہیں،
برسوں گزر گئے، مگر یہ ذہنی کوفت یہ کسسک اور کئی سوال آج بھی ذہن سے محو نہیں ہوتے،
کیا یہ تھا وہ اسلامی نظام تھا جو ایک ڈکٹیٹرہمارے لئے چھوڑ کر گیا تھا، جس میں ایک پروفیشنل عورت کواپنے کردار کی تصدیق سرکاری ایجنسی سے کروانی پڑی۔ کیا یہ الزام جرم کی اس زمرے مین آتا تھا جس پر ملک سے باہر جانی پر پابندی لگا دی جائے
کاش میں کبھی جان سکتی کہ یہ کہانی کیوں بنائی گئی،اس کا مقصد کیا تھا، مجھے کیوں اپنی صفائی پیش کرنی پڑی اور نہ جانے کتنی پروفیشنل خواتین اب بھی اس اذیت سے گزرتی ہونگی۔
میرے ملک واپس نہ جانے کی جوکئی وجوہ ہیں، ان میں سے ایک یہ فر عونی رویہ اور یہ خوف بھی تھا، جانے کب برسوں کی کمائی عزت کو ہوا میں اچھال دیں۔
ماہ پارہ صفدر












