سدرۃ المنتہی کی تحاریر عالمی اخبار کے لیئے

1
1026

سدرۃ المنتہی کوادارہ عالمی اخبار قلم کاروں کی فہرست میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتا ہے۔

صفدر ھمدانی،،،،،،،،،،مدیر اعلیٰ عالمی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا نام سدرۃ المنتہی ہے اور میرا تعلق شہرِ پشاور سے ہے۔
میں شعبۂ تعلیم سے وابستہ ایک ماہرِ تعلیم، لکھاری، براڈ کاسٹر، آرٹسٹ اور گرافک ڈیزائنر ہوں۔ اس وقت میں پروان ایجوکیشن سسٹم کی ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہی ہوں، جبکہ اس سے قبل مختلف کالجز میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے چکی ہوں۔
میں نے مختلف مضامین میں تین ماسٹرز کیے ہیں۔ فنونِ لطیفہ سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہوں اور آئل پینٹنگ اور واٹر کلر آرٹ کے ذریعے اپنے احساسات کو رنگوں میں ڈھالتی ہوں۔
بطور براڈ کاسٹر مختلف ریڈیو پلیٹ فارمز پر ہفتہ وار لائیو پروگرامز کرتی ہوں، جن میں ملک کے معروف ادیبوں، شاعروں، مصنفین اور ماہرینِ تعلیم کے انٹرویوز شامل ہوتے ہیں۔
میں بچوں کے ادب سے وابستگی رکھتی ہوں اور بچوں کے لیے کہانیاں تحریر کرتی ہوں، جبکہ سنجیدہ اور بالغ ادب پر بھی کام جاری ہے۔ میری زیرِ تکمیل کتاب پچھلی صدی کے آخری لوگ عنقریب منظرِ عام پر آئے گی۔
تنظیمی سطح پر بھی مختلف علمی، ادبی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ وابستہ ہوں، جن میں
جنرل سیکرٹری، ہب آف پرائیویٹ ایجوکیشن (ہوپ) خیبرپختونخوا فیمیل ونگ
جنرل سیکرٹری، انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز پشاور
جنرل سیکرٹری، ادبیاتِ اطفال پشاور
ممبر، میجر کمیٹی، اباسین آرٹس کونسل
تعلیم، ادب، فن اور تخلیق… یہی میری پہچان ہیں

…………………………………………………………………………………………………………..

مجھے نیند نہیں آتی
رات امی کے ساتھ گزارنے کے بعد جب میں ہسپتال سے تھوڑی دیر کے لیے بچوں سے ملنے گھر آئی آتے ہوئے بچوں کے چہرے راستے میں آنکھوں کے سامنے آتے رہے، میں شرجیل کے لیے بسکٹ اور عرصم کے لیے چاکلیٹ وغیرہ ساتھ لے آئی۔ گھر پہنچی تو دونوں بچے میرے ساتھ لپک گئے، کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزارنے کے بعد جب میں دوبارہ جانے لگی تو دونوں بچے اداس ہو گئے ،شرجیل سمجھدار ہے جلد ہی بات سمجھ گیا لیکن عرصم ابھی صرف چار سال کا ہے وہ مجھے کہنے لگا مما نہ جائیں ،میں نے کہا بیٹا ،امی بیمار ہیں وہ ٹھیک ہو جائیں تو ہم جلد ہی گھر آ جائیں گے ۔عرصم نے تھوڑی ضد کی پھر میں نے کہا اچھا بتاؤ اگر میں بیمار ہو گئی تو مجھے کون ہسپتال لے کر جائے گا؟ دونوں بچے ایک دم سے بول پڑے ہم لے کر جائیں گے۔ میں نے کہا میری امی بھی بیمار ہیں تو میں ہی ان کو لے کر جاؤں گی نا، اب عرصم نے آہ بھرتے ہوئے کہا ٹھیک ہے مما چلی جائیں مگر جلدی آنا ۔میں سیڑھیاں اتر ہی رہی تھی کہ عرصم نے پھر پیچھے سے آواز دی ،مما مجھے رات کو نیند نہیں آتی آپ کے بغیر۔
میری آنکھیں بھر آئیں ۔ میں نے اسے دیکھے بغیر کہہ دیا بیٹا بھائی کے پاس سو جانا ۔اس دن بارش بھی بہت تیز تھی جیسے آسمان بھی میرے اندر کے درد کو محسوس کر رہا ہو۔ میں ہسپتال پہنچی، امی کی آنکھیں اسی طرح کھلی ہوئی تھیں۔ میں جھکی اور ان کے کان میں آہستہ سے کہا ،امی میں آ گئی ہوں ،انہوں نے سر ہلا یا۔ میں نے امی سے کہا میں آپ کو کسٹرڈ کھلاتی ہوں ،کھلانے سے پہلے میں نے امی سے پوچھا پہلے پانی(زم زم) پلا دوں تو انہوں نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا ۔ پانی کا ایک گھونٹ پیا دوسرا گھونٹ پیا تو تھوڑا سا پانی منہ سے باہر آیا اور بالکل ہلکی سی آواز ان کے منہ سے مجھے سنائی دی، میں خوش ہوئی کہ شکر ہے امی آپ کے منہ سے میں نے اتنے دنوں بعد کوئی آواز سنی ہے اور پھر تیسرا گھونٹ پیتے ہی وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔مجھے اپنی خوشی میں محسوس ہی نہ ہوا کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔ میں نے انہیں ٹھیک طرح سے لٹا دیا اور امی سے یک طرفہ باتیں کرنے لگی۔ امی اب آپ ٹھیک ہو جائیں گی، اب آپ پھر سے بولنے بھی لگیں گی اور کھانے پینے بھی۔ ہم خوب باتیں کریں گے ۔پھر مجھے اچانک کچھ عجیب سا محسوس ہوا کہ امی بظاہر تو مجھے دیکھ رہی ہیں پر اب ان کی انکھوں میں وہ روشنی دکھائی نہیں دے رہی جو پہلے تھی۔ میں نے ان کے پیٹ پر ہاتھ رکھا تو سانس محسوس نہیں ہوئی، پھر دل پر ہاتھ رکھا تو دھڑکن بھی نہ تھی ۔میں فورا ڈاکٹر کو بلا لائی ۔جس نے معائنہ کیا اور پھر ڈاکٹر کے الفاظ میرے دل پر قیامت بند کر گرے” وہ نہیں رہیں”۔
اس طرح ان کی جدائی کے بعد میں کئی دنوں تک سو نہ سکی اور آج بھی میں سکون سے سو نہیں پاتی۔ جب سب سو جاتے ہیں، میں جاگتی رہتی ہوں۔ روتی رہتی ہوں اور پھر اچانک عرصم کا وہ جملہ کانوں میں گونجتا ہے۔ “مما، مجھے رات کو نیند نہیں آتی آپ کے بغیر”
واقعی ماں ایسی ہستی ہے کہ اس کے چلے جانے کے بعد سکون کی نیند بھی نصیب نہیں ہوتی۔ اس کمی کو ایک چار سال کا بچہ بھی محسوس کر سکتا ہے ۔ اس دکھ کا اندازہ مجھے اُس وقت حقیقی طور پر ہوا، جب میری ماں مجھے اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔ تب سمجھ آیا کہ ماں کے جانے کے بعد واقعی نیند بھی روٹھ جاتی ہے اور سکون بھی کہیں کھو جاتا ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

SHARE

1 COMMENT

  1. تحریر انتہائی زبردست ہے، بلکہ صدرہ کے احساسات ہیں، آنکھوں میں آنسو آئے اور اپنی امی یاد دلائی۔ اللہ انہیں صبر دیں اور ان سے اچھے کام لیں۔
    صدرۃ المنتہیٰ جنرل سیکرٹری ادبیات اطفال خیبر پختونخوا ہے۔ ہمیں آپ پر ناز ہے۔
    شاہ محمود خان مومند
    ایڈمینسٹریٹر ادبیات اطفال خیبر پختونخوا

LEAVE A REPLY