اسلامی طرزِ زندگی(13)۔۔شمس جیلانی

0
947

ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہنچے تھے کہ کسی بھائی کو مصیبت میں دیکھ کرمت ہنسوورنہ اللہ تعالیٰ اسکو مصیبت سے نکال کر تمہیں اس میں مبتلا کر دے گا۔اب آگے بڑھتے ہیں۔حضرت براء بن عازب ؓ راوی ہیں کہ حضو ر ﷺ نے ہمیں کچھ چیزوں کی اجازت عطا فرمائی ہے اورکچھ چیزوں سے منع کیا ہے۔(1)مریض عیادت کرنا(2) جنازے کے ساتھ جانا(3)چھینکنے والے کی لیئے یرحکم اللہ کہنا(4 )قسم کو پورا کرنا(5)مظلوم کی مدد کرنا(6) سلام کو رواج دینا(7)دعوت کرنے والے کی دعوت کو قبول کرنا۔اور منع فرمایا (1) سونے کی انگوٹھی پہننا(2چاندی کے بر تنوں کے استعمال سے(3)سرخ کپڑے پہننے سے اورزریں پوش بنانے سے(4) مردوں کوقسی،تافتہ، دیبا اور حریر پہنے سے(متفقہ علیہ)
ابن زریں ؓ راوی ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تجھے ایسا امر(دین) نہ بتادوں کہ تو اس کے ذریعہ سے دنیااور آخرت کی بھلائی حاصل کرسکے۔
(1) تو اہلِ ذکر کی محفل میں بیٹھا کرجو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں (2)اور جب تنہا ہو تو جتنا ممکن ہواللہ تعالیٰ کی یاد میں لبوں کوحرکت میں رکھ(3)اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیئے محبت کر اور بغض رکھ۔اے زریں کیا تو جانتا ہے کہ جب کوئی مسلمان، مسلمان بھائی کی زیارت کے لیئے چلتا ہے توکیا ہوتا ہے۔اس کے پیچھے ستر ہزار فرشتے ہوتے ہیں جو اس کے لیئے دعا اور استغفار کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں اے پرور دگار اس نے تیری رضا کے لیئے تیرے بندے سے ملاقات کی ہے تو شفقت اور رحمت سے ملادے پس اگر یہ تجھ سے ممکن ہو ملاقات کو ضرور جا۔(بہقی،مشکواۃ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان، مسلمان کا آئینہ ہے اگر وہ اس میں عیب دیکھے تو اس کی اصلاح کی طرف متوجہ کردے(بخاری۔ادب المفرد)
حضورﷺکا ارشاد ہے کہ اگر جب کوئی دل میں اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرے خلوص اور محبت کے جذبات ہوں توچاہیئے کہ دوست کو جتادے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے۔(ادب المفرد،مشکواۃ)
سوال کی مذمت۔۔۔حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ لینامحمدﷺ اور آل ِ محمد ﷺمیں حلال نہیں ہے۔(الخطیب)
جو بلا ضرورت سوال کرتا ہے وہ آگ کی چنگاری ہاتھ میں لیتا ہے(بیہقی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھےﷺ قسم ہے اس ذات ِ پاک کی جس کے ہاتھ میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی رسی لیکر جنگل چلا جا ئے اور لکڑی کا گٹھا لے آئے اس سے بہتر ہے جو کسی کے آگے سوال کرے۔وہ دے یا نہ دے(مالک)
حدیث شریف میں ہے کہ لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو اگر گھوڑے پر سوار ہو اور چابک تمہارے ہاتھ سے گر جا ئے تو اتر کر خود اٹھاؤ مگر کسی سے مانگو مت(مسند احمد) حدیث میں ہے کہ مسلمانوں سوال مت کرواگر ضرورت مجبور کرے تو ایسے سے مانگو جو نرم دل ہو(مسند احمد)
عذر قبول کرنا۔۔۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی نے کسی بات پر عذر کیااور مسلمان بھائی نے نہیں مانا تو اس کے اوپر اتنا گناہ ہو گاجتنا ایک نا جائز تاوان وصول کر نے والے پراس کے اس ظلم کا گناہ ہوتا ہے
ایمان کے ساتھ عمل۔۔۔۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓفرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ پوچھا کہ ایمان کے ساتھ کوئی عمل بتا ئیے؟ فر مایا جو روزی اللہ نے دی ہے اس میں سے دوسروں کو دے۔عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر وہ خودمفلس ہو۔فرمایا اپنی زبان سے نیک کام کر ے۔عرض کیا اس سے معذور ہو۔فرمایا مغلوب کی مدد کرے۔عرض کیا وہ ضعیف ہو مدد کر نے کی قوت نہ رکھتا ہو۔ فرمایاجس کوکوئی کام کر نا نہ آتا تو اس کا کام کردے۔ عرض کیا وہ خود بھی ایسا ہی ناکارہ ہو۔فر مایا اپنی ایذا رسانی سے لوگوں کو بچا ئے رکھے۔(مستدرک۔ حاکم۔ سیرۃالنبیﷺ)
احسان کا شکریہ۔حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺاللہ نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتاوہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا(مسند احمد۔ترمذی۔مشکواۃ)
حضرت اسامہ بن زیدؓ راوی ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص پر احسان کیا جا ئے وہ اپنے محسن کے حق میں یہ الفاظ کہے کہ جزاک اللہ خیراًتو اس نے اپنے محسن کی پوری تعریف کی(مسند احمد۔ترمذی۔ مشکواۃ)

SHARE

LEAVE A REPLY