آپریشن خیبر فور مکمل کرلیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر

0
123

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آپریشن خیبر فور مکمل کرلیا گیا ہے،جس کے دوران 250 مربع کلو میٹرکا علاقہ کلیئر کرالیا گیا ہے۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ راجگال اوروادی شوال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے گئے،آپریشن کے دوران 152 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، راجگال میں 91 نئی پوسٹس بنائی گئی ہیں،پنجاب میں 1728 انٹیلی جنس بیس آپریشنز کیے گئے، پاکستان نے اپنی طرف سے بارڈر مینجمنٹ مضبوط کی ہے، 95 فیصدتک آئی ڈی پیز واپس جاچکے ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ خیبر 4آپریشن 15 جولائی کو شروع کیا گیا تھا،آپریشن بہت مشکل تھا، جس کے دوران 2سپاہی شہید اور 6زخمی ہوئے،خیبر ویلی میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے،اب تک کل 253 کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کرایاگیا،اس آپریشن میں 52 دہشت گرد مارے گئے، 31 زخمی ہوئے، ایک کو زندہ گرفتار کیاگیا، 4نے خود کو حوالے کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن میں تیار آئی ای ڈیز بھی برآمد ہوئیں، آئی ای ڈی بنانے کے ایک مواد پر میڈ ان انڈیا کا لیبل ہے،راجگال اور شوال میں ایک ایک دہشت گرد ہمارے نشانے پر تھا، خیبر فور آپریشن کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز سے بھی تعاون لیا گیااور مشاورت بھی کی گئی،افغانستان سےبات چیت میں بھارت کامعاملہ بھی زیر غور آتا ہے،اب تک 124ہزار آپریشن پورے پاکستان میں کر چکے ہیں،2017ء میں کراچی میں دہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آیا، پولیس مضبوط ہوگی تو اسٹریٹ کرائم میں وقت کےساتھ کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں انٹیلی جنس اطلاعات پر 1728 آپریشن کیے، آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3300آپریشن کیے گئے، فاٹا میں اصلاحات بہت ضروری ہیں، سیاسی نظام میں اس کا طریقہ کارہوتاہے ،پاک فوج کی طرف سے فاٹا میں اصلاحات کی تجاویز حکومت کودی جا چکی ہیں،فوج نے فاٹا اصلاحات کی مخالفت نہیں کی، ہم نے سیکیورٹی تناظر میں اپنی سفارشات فاٹا ریفارمز پر دی تھیں، آرمی کا کوئی پوائنٹ نہیں تھا کہ فاٹا ریفارمز ہونی چاہئیں یا نہیں ہونی چاہئیں، آپریشن شروع ہوا تو فاٹا کے بہت سے لوگ آئی ڈی پیز بن گئے،کسی بھی آئی ڈی پی کو زبردستی واپس نہیں بھیجا گیا، وہاں کے بہت سے کیڈٹس پاک فوج میں تربیت لے رہے ہیں،فاٹا کے نوجوانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی،وہاں 147اسکول،17ہیلتھ یونٹس، 27مساجد قائم کی گئی ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ دہشت گردوں کا ہدف وزیراعلیٰ پنجاب تھے لیکن آخر میں دہشت گردوں نے اپنا ہدف تبدیل کیا،پاکستان سب کاہے،کئی غیرملکیوں نے پاکستانیوں کے لیے کام کیا،59غیرمسلم پاکستانیوں نےدفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،ہم سب پاکستانی ہیں اور سب مل کرپاکستان کا دفاع کریں گے،پاکستان کی سرحدکےباہرہم ایک ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ کے دوران کالعدم تحریک طالبان باجوڑ کے دہشت گرد اجمل خان کا ویڈیو بیان میڈیا کو دکھایا گیا، میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں 2013ء کے دوران ایک مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا، مسجدمیں آگ لگانے والوں کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا،مسجد پر حملہ کرنےوالے اسی مسلک کے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے یوم آزادی پر واہگہ بارڈر پر جنوبی ایشیا میں سب سے بلند پرچم لہرایا، جس پر بھارت نے الزام لگایا کہ بلند پرچم انٹیلی جنس معلومات کے لیے لگایا گیا ہے،قومی پرچم سے جاسوسی کا بھارتی الزام غلط ہے،ملک کےان حصوں میں بھی قومی پرچم لہرایاگیاجہاں لوگ بات کرتے ہوئےبھی ڈرتےتھے،ملٹری کورٹس میں کیسز صوبائی حکومت کی جانب سے دیے جاتے ہیں۔
نواز شریف کو این آر او دینے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ این آر او ایک سیاسی معاملہ ہے، فوج کو کسی این آر او کی منظوری نہیں دینی،فوج نظام کا حصہ ہے، چیئرمین سینیٹ کی تجویز پر کوئی مکالمہ ہوا تو فوج اس کا حصہ بنے گی، سیاست سے متعلق پرویز مشرف بحیثیت سیاست دان بیان دیتے ہیں۔
ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ تاثردیا جارہا ہےسول ملٹری تعلقات آئیڈیل نہیں؟ جس پر میجر جنرل آصف غفور نے جواب دیا کہ سول ملٹری تعلقات پرآج کھل کربتانا چاہتا ہوں، سول ملٹری تعلقات پربات کرنے سے پہلے آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں،میرا تعلق ملٹری سے ہے،آپ سویلین ہو،کیا ہمارے تعلقات میں خرابی ہے؟ سویلین جس ماحول میں رہتے ہیں،وہاں سیاست ہے اورالزام تراشی ہے،میں جس بیک گراؤنڈ سے ہوں،میرے علاوہ سب سویلین ہیں، ریٹائرہونے کے بعد میں بھی سویلین ہوجاؤں گا،سویلین اورملٹری میں کوئی تفریق نہیں،دونوں ایک ہیں،کبھی اختلافات ہوبھی تواسے سول ملٹری تعلقات سے نتھی نہ کریں،پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی سرگرمیاں چلتی رہتی ہیں، چلتی رہنی چاہئیں،سول ملٹری کی کوئی تقسیم نہیں،اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اسے سول ملٹری تعلقات سے نہ جوڑیں ،فنکشنل معاملات میں اختلاف رائےہوتا ہے جیسا کہ خونی رشتوں میں ہوتا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہناہے کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی اختلاف نہیں ہم ایک پیج پر ہیں،ڈان لیکس رپورٹ حکومت کو کھولنی ہے فوج کو نہیں،ڈان لیکس انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کااختیار حکومت کا ہے،جو بھی چاہتاہے ڈان لیکس انکوائری منظرعام پر آئے وہ حکومت سے درخواست کرے،حقائق جاننا عوام کا حق ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں،کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں ہے اور وہاں کی تحریک آزادی کی ہے،کشمیر میں جو بھی تحریک ہوبھارت اسے دہشت گردی قرار دے دیتا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق وفاقی حکومت فوجی عدالتوں کو کیس بھیجتی ہے،حکومت کے فیصلوں کے مطابق دہشت گردوں کے کیس کو آگے چلائیں گے،جو بھی انکوائری گورنمنٹ کھولناچاہتی ہے یہ اس کا حق ہے،آپریشن ضرب عضب کے تحت شمالی وزیرستان میں بلاامتیاز آپریشن کیا گیا،پاکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کا منظم نیٹ ورک نہیں ،اس وقت پاکستان میں جتنے بھی علاقے ہیں سب کلیئر کرالیے ہیں، اس وقت ملک میں کسی دہشت گرد تنظیم کاکوئی انفرا اسٹرکچر نہیں،امریکی وفود کو واضح بتایا گیاہے کہ پاکستان میں بلاامتیازآپریشن کیےگئےہیں،ٹرمپ کا پاکستان پالیسی سے متعلق بیان پر تبصرہ دفتر خارجہ کرے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کی، بیرونی مداخلت کےتمام شواہد شیئر کیے جاتے ہیں، جو پاکستان کاپرچم جلاتاہے کیا وہ پاکستانی ہے؟ وہ ہر گز پاکستانی نہیں، کوئی بھی پاکستانی پرچم کی توہین برداشت نہیں کرسکتا، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کا اکیلے مقابلہ کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY