تئیس اگست 634ء حضرت ابوبکر صدیق کا یوم وفات

0
325

آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درخشندہ ستاروں میں سب سے روشن نام یار غار رسالت، پاسدار خلافت، تاجدار امامت، افضل بشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق کا ہے جن کو امت مسلمہ کا سب سے افضل امتی کہا گیا ہے۔ بالغ مردوں میں آپ سب سے پہلے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے محبوب زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

صحابہ کی نظر میں

حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ” حضرت ابوبکر ہمارے سردار، ہمارے بہترین فرد، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔
ایک موقع پر حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا کہ ” اگر ابوبکر شب ہجرت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اور مرتدین سے قتال کا کارنامہ مجھے دے کر میری ساری عمر کے اعمال لے لیں تو میں سمجھوں گا کہ میں ہی فائدے میں رہا”۔
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ ” ابوبکر نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ اپنے بعد آنے والے کو مشقت میں ڈال گئے”۔
اس عظیم خلیفہ نے ہر معاملے میں اپنا وہ ہی معیار رکھا جو اس وقت کسی عام مزدور کا ہوا کرتا تھا۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس رب کی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری رسول بنا کر بھیجا اور ابوبکر سے اس کی تصدیق کروائی۔ (تاریخ خلفاء)
حضرت معصب بن عمیر فرماتے ہیں “اس امرپر تمام امت کا اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے کیونکہ آپ نے بے خوف و نڈر ہوکر رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی جھجک سرزد نہیں ہوئی۔

حدیث میں ذکر

ان 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:
عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں ، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔

وفات

22 جمادی الثانی 13 ہجری بمطابق 23 اگست 634 ء کو آپ نے 63 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ ۔ اپنی وفات سے پہلےآپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کی وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیں۔ لوگوں نے آپ کی ہدایت پر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ وفات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہ تمام رقم جو بطور وظیفہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیت المال سے دوران خلافت لی تھی اپنی وراثت سے بیت المال کو واپس کر دی۔ ۔ آپ کی مدت خلافت دو سال تین ماہ اور گیارہ دن تھی۔ زندگی میں جو عزت واحترام آپ کو ملا ۔ بعد وصال بھی آپ اسی کے مستحق ٹھہرے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکے پہلو میں محو استراحت ہوئے۔ آپ کی لحد سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب اس طرح بنائی گئی کہ آپ کا سر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شانہ مبارک تک آتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY