داعش‘ اپنی آمدن کے 80 فی صد ذرائع سے محروم ہوچکی

0
128

شام اور عراق میں اپنی سلطنت کو تیزی سے کھونے والی شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کو بدترین معاشی مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’داعش‘ اپنی آمدن کے 80 فی صد ذرائع سے محروم ہوچکی ہے۔ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ لوٹی گئی دولت کو اسمگل کر کے پورا کرنا چاہتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 2014ء میں جب شام اور عراق کے علاقوں میں داعش نے اپنی خود ساختہ خلافت کا اعلان کیا تو اس وقت اس تنظیم کے پاس دونوں ملکوں کے تیل کے ذخائر آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ اب تیل کے بیشتر وسائل سے داعش محروم ہوچکی ہے۔ اس نے مال غنیمت میں جو لوٹ مار کررکھی ہے اسے عراق اور شام سے باہر اسمگل کرکے جنگی اخراجارات پورے کونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مالیاتی امور میں تحقیق کرنے والی ’HIS Markit‘ فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطالعے سے بھی گذری ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے پاس ذرائع آمدن صرف 20 فی صد باقی بچے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق داعش نے نہ صرف وسیع پیمانے پر عراق اور شام کے علاقے کھو دیے ہیں بلکہ تیل کی دولت اور اس کی بلیک مارکیٹنگ پر انحصار کرنے والی داعش کے 80 فی صد ذرائع آمدن ختم ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش کو یہ دن عراق اورشام میں تنظیم کے خلاف جاری آپریشن کے باعث دیکھنا پڑے ہیں۔
مالیاتی فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں داعش کی ماہانہ آمدن 16 ملین ڈالر بتائی گئی جب کہ اپریل 2015ء کو یہ رقم 81 ملین ڈالر ماہانہ تھی۔ گویا داعش مجموعی طور پر 80 فی صد ذرائع آمدن سے محروم ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق داعش کو سب سے زیادہ مالی نقصان عراق میں موصل کے چھن جانے سے اٹھانا پڑا ہے۔ اسی طرح شام کے الرقہ شہر میں عرب اور کرد فورسز پر مشتمل ڈیموکریٹک فورسز کے حملوں میں بھی غیرمعمولی معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آخری قدم تک تیل کی تجارت
ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں داعش نے بڑے پیمانے پر تیل کے وسائل پرقبضہ کیا اور ان کی لوٹ سیل شروع کر رکھی تھی۔ داعش اپنے عروج کے دو میں شام اور عراق کے تیل سے کل آمدن کا 90 فی صد صرف تیل سے حاصل کررہی تھی۔ سنہ2015ء میں داعش کی تیل سے آمدن80 فی صد تھی۔
رپورٹ کے مطابق داعش نے اپنے زیرتسلط علاقوں میں جو ٹیکس لگا رکھے تھے وہ غیرمعمولی تھے۔ ان میں مزید اضافے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بھی آمدن میں پیدا ہونے والی کمی پوری نہیں کرسکی۔
اخبار ’فائنشیل ٹائمز‘ کے مطابق داعش نے پیسہ کمانے کے لیے تیل کو جنون کی حد تک فروخت کیا۔ خفیہ ذرائع سے تیل بیرون ملک اسمگل کیا گیا اور اس کے ذریعے ہونے والی آمدن کو عراق اور شام میں جنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق شام میں ’العمر‘ اور ’التنک‘ نامی تیل صاف کرنے والے کارخانوں سے داعش 25 ہزار بیرل تیل روزانہ فروخت کرتی رہی ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں دکھائی جانے والی ویڈیو فوٹیجز میں 60 آئل ٹینکروں کو داعش کے زیرتسلط علاقوں میں آتے جاتے دیکھا گیا جو قریبا روزانہ کی بنیاد پر تیل اسمگل کرتے ہیں۔
فائنشیل ٹائمز کی رپورٹ کے مطاب ان گئے گذرے حالات میں بھی داعش 20 سے 45 ڈالر فی بیرل کے حساب سے روزانہ دس لاکھ ڈالرتک کما رہی ہے۔

جعلی کرنسی
داعش نے شام میں اپنے زیرتسلط علاقوں میں شامی لیرہ ختم کرتے ہوئے اپنی کرنسی جاری کی۔ وہاں کی آبادی کو مجبورا داعش کی طرف سے جاری کردہ کرنسی میں لین دین کرنا پڑا ہے۔
داعش کی جانب سے جعلی کرنسی جاری کرنے کا مقصد مالیاتی بحران سے نکلنے کی کوشش ہے مگر اس کوشش نے بھی کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچایا۔ داعش کی طرف سے الرقہ اور دوسرے شامی شہروں میں مقامی آبادی سے کہا گیا کہ وہ سرکاری کرنسی، ڈالر یا دوسری کرنسیوں میں موجود رقوم داعش کےقائم کردہ بنکوں میں جمع کرائیں اور اس کے بدلے میں داعش کی تیار کردہ نئی کرنسی حاصل کریں۔

فائینشیل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق داعش نے اپنےزیرتسلط علاقوں مین قریبا 1 لاکھ ڈالر کے’دینار‘ جاری کیے۔ داعش کی کرنسی کی قیمت مارکیٹ میں سونے کے تناسب سے بہت زیادہ ہے مگر داعش نے اس حربے بھی لاکھوں ڈالر کی رقم حاصل کی ہے۔
حوالہ اور منی لانڈرنگ
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق شام اور عراق کی جنگوں کے منفی پہلوؤں کا ایک جزو بڑی تعداد میں لوگوں کی مغربی ملکوں اور یورپ کو نقل مکانی ہے۔
نقل مکانی کے دوران بہت سے لوگ اپنے ساتھ بھاری رقوم بھی لے گئے۔ داعش کو بھی مغربی ملکوں میں اپنی رقوم منتقل کرنے کا موقع ہاتھ آگیا، چنانچہ شدت پسند گروپ نے غیرقانونی طور پر رقوم کی مغربی ملکوں میں اپنے مخصوص ایجنٹوں اور نمائندوں تک پہنچانے کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کا سہارا لیا۔
فائنشیل ٹائمز کے مطابق داعش نے منی لانڈرنگ مافیا کے ذریعے خطیر رقم یورپی ملکوں میں اپنے جنگجوؤں تک پہنچائیں۔ منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ حوالہ کے ذریعے بھی بھاری رقوم بیرون ملک بھیجی گئی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

SHARE

LEAVE A REPLY