چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے پاک-چین دوستانہ تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ جائیں گے اور پاکستان اس پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق مسعود خالد نے بیجنگ میں فوجان یونیورسٹی شنگھائی میں پاکستان اسٹڈی سینٹر کے زیراہتمام سی پیک سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

سی پیک کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں سفیر مسعود خالد کے علاوہ سفارت کاروں، پالیسی سازوں اور دونوں ملکوں کے ماہرین نے شرکت کی جن میں شازو کانگ، ڈاکٹر عشرت حسین، پروفیسر سن ہو نگی، پروفیسر تانگ منگ شنگ، ڈاکٹر رفعت حسین اور قونصل جنرل نعیم خان شامل تھے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ سی پیک دونوں ملکوں کے لیے بالخصوص اور خطے کے لیے بالعموم بڑی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین گزشتہ چھ دہائیوں سے قریبی شراکت دار ہیں اور مستقبل میں دوستانہ تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سی پیک پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور آئندہ دنوں میں اس میں مزید تیزی آئے گی۔

مسعود خالد نے کہا کہ باہمی عزت و احترام، عدم مداخلت اور برابری کے اصولوں کی بنیاد پر پر امن ہمسائیگی کا فروغ پاکستانی خارجہ پالیسی کا سنگ میل ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے جو قربانیاں پاکستان نے دی ہیں وہ کسی دوسرے ملک نے نہیں دیا۔

پاکستانی سفیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے پالیسی بیان میں پاکستانی قوم کی بے پناہ قربانیوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ پاکستان عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کو ششوں کا حصہ ہے اور رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے افغانستان، پاکستان اور خطے کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔

پاکستان نے امریکی صدر کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY