حماس کے مطابق اس کے ایران کے ساتھ تعلقات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں اور وہ ایران کی مالی و فوجی امداد کے باعث اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نئی جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایران سن دو ہزار بارہ تک حماس کا مضبوط حلیف تھا لیکن ان دونوں میں اس وقت اختلافات پیدا ہو گئے تھے، جب ایران نے شام کی خانہ جنگی میں صدر اسد کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کا ساتھ ہی زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی اور ہر وہ ممکن راستہ اختیار کرے گی، جس سے جنگ نہ ہو۔ فروری میں حماس کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد سے السنوار کی صحافیوں سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY