شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر امریکا ،جنوبی کوریا،جاپان،روس اور برطانیہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ،دوسری طرف چین نے فریقین پر معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپانی وزیراعظم شنزوایبے نےٹیلیفونک گفتگو میں شمالی کوریا کو امریکا ،جاپان اور جنوبی کوریاکے لئے براہ راست بڑاخطرہ قرار دیااور میزائل تجربے کے بعد پیانگ یانگ پر دبائو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دونوں رہنمائوں نے کہا کہ عالمی برداری کو بھی شمالی کوریا پر دبائو بڑھانے کے لئے قائل کریں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ دھمکیاں اور غیر مستحکم اقدامات پیانگ یانگ کو دنیا میں تنہا کردیں گے۔
دوسری جانب امریکا اور جنوبی کے وزراء خارجہ نےشمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیاہے۔
شمالی کوریاں کے میزائل تجربے پر چین نے بھی ردعمل دیا اور کہا کہ جزیرہ نما کوریامیں کشیدگی بڑھ گئی ہے شمالی کوریا پر دبائو یا پابندیاں مسئلے کا حل نہیں۔

ادھر روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرے،جارحانہ اقدامات ترک کرکے تحمل کا مظاہرہ کرے۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کو جارحیت سے تعبیر کیا ہے،دوسری طرف یورپی یونین نے پیانگ یانگ کے اقدام کو عالمی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر نے امریکا کو تباہ کن نتائج کی دھمکی دی اور کہا کہ واشنگٹن جزیرہ نما کوریاکو تباہی کے دہانے پر پہنچارہا ہے،خطے میں مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد ہمارا سخت اقدامات کرنا جائز ہے۔
شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY