یکم ستمبر 1985ء سر ظفراللہ خان کا انتقال

0
260

سرمحمد ظفراللہ خان۔ تحریک پاکستان کے سرگرم رکن، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ۔

سر محمد ظفر اللہ خان کا آبائی گاوں ڈسکہ تھا۔ ان کے والد نصر اللہ خان ساہی جاٹ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ان کی والدہ باجوہ جاٹ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ظفر اللہ خان اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے اور ان کے متعلق ایک کتاب “میری والدہ “کے نام سے لکھی۔ ان کی پیدائش 6 فروری 1893 کو ہوئی۔

ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے مزید تعلیم اور پھر کنگز کالج لندن سے وکالت کی ڈگری 1914 میں حاصل کی۔ لندن میں لنکن ان بار میں شمالیت اختیار کی۔ وطن واپسی پر سیالکوٹ میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور پھر 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ممبر بن گئے۔

سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ممبر بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔

1935 سے 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے ممبر رہے۔ اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ کو لکھا[1]:
” میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لئے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لئے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے۔ لارڈ لیتھینگو 12 مارچ 1940 “
وائسرائے نے مزید بیان کیا کہ ظفر اللہ خان احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اگر عام مسلمانوں کو اس بارہ میں پتہ چلا تو ان کی جانب سے تحفظات کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔

ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال اس عہدہ پر برقرار رہے۔

ان کے بطور وزیر خارجہ کام کے دوران میں ہی لاہور میں 1953 میں فسادات برپا ہوئے جن میں مذہبی جماعتوں نے ان کے استعفا کا مطالبہ کیا۔ ان فسادات کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں فوجی قانون یعنی مارشل لا لگایا گیا۔ ان فسادات پر عدالتی کمیشن بنایا گیا جو منیر عدالتی کمیشن کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کمیشن کی رپورٹ میں فسادات کی وجوہ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبر بھی رہے۔ 1954 سے 1961 تک عرصہ عالمی عدالت انصاف میں بطور منصف فرائض سر انجام دینے کے بعد 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے۔ وہ 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس، مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لئے کام کیا۔

1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1973 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے۔

محمد ظفر اللہ خان مذہبی طور پر احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ان کے احمدی خلفاء کے معتمد رہے۔ وہ جماعت احمدیہ کے اہم عہدوں پر فائز رہے اور مذہبی امور پر متعدد کتب کے مصنف ہیں۔1953 میں ہونے والی احمدیہ مخالف تحریک کے اہم مطالبات میں سے ایک ظفر اللہ خان کے استعفا کا مطالبہ بھی تھا۔ اس تحریک کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں فوجی قانون لاگو ہوا۔اس تحریک کے کئی سال بعد ظفر اللہ خان نے 1967 میں سعودی عرب جا کر حج کا فریضہ سر انجام دیا۔ اس سے پہلے وہ 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کر چکے تھے۔

ایک لمبا عرصہ نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش کے بعد واپس پاکستان آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں اور 1 ستمبر 1985 کو میں وفات پائی۔ ان کی تدفین احمدیہ جماعت کے مرکز ربوہ میں واقع بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY