نو ستمبر 1948ﺍُﺭﺩﻭ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﺧﺘﺮ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ

0
359

اردو کے معروف شاعر جناب اختر شیرانی 4 مئی1905ء کو ریاست ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔

اختر شیرانی اردو کے نامور محقق حافظ محمود خان شیرانی کے فرزند تھے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں بسر ہوا۔ وہ اردو کے کئی ادبی جرائد کے مدیر رہے۔ انہیں شاعر رومان بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں اخترستان، شعرستان، شہناز، جہاں ریحانہ رہتی ہے، صبح بہار، طیور آوارہ اور لالۂ طور کے نام سرفہرست ہیں۔
٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔

اختر شیرانی لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ان کی قبر کا کتبہ پاکستان کے مشہور خطاط صوفی خورشید عالم خورشید رقم کی خطاطی کا شاہکار ہے

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
مرے سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں
محبت کے اقرار سے شرم کب تک
کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں

بھلا کیسے نہ ہو راتوں میں نیندیں بے قرار اس کی
کبھی لہرا چکی ہو جس پہ زلف مشکبار اس کی

اپنی ایک مشہور نظم ’’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘‘میں وہ کہتے ہیں :
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ
یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اختر شیرانی کی مشہور نظموں میں’’اے عشق ہمیں لے چل‘‘،’’میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو‘‘،’’برسات‘‘ اور ’’تمہیں ستاروں نے بے اختیار دیکھا ہے‘‘شامل ہیں۔ انہوں نے ذاتی زندگی میں بڑے دکھ جھیلے ،پہلے ان کے چھوٹے بیٹے جاوید محمود کا انتقال ہوا، پھر ان کے قریبی دوست مرزا شجاع خان نے خود کشی کر لی۔ان کے داماد بھی ایک حادثے کا شکار ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ سلمیٰ نامی جس عورت سے وہ محبت کرتے تھے، اس نے بھی انہیں ٹھکرا دیا۔ غموں کا ایک طوفان تھا جس کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ حالات نے انہیں بادہ نوش بناد یا، جس باعث دن بدن ان کی صحت خراب ہوتی گئی.
9 ستمبر 1948ء کو اختر شیرانی کا رشتہ ٔحیات منقطع ہو گیا۔ اختر شیرانی لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ان کی قبر کا کتبہ پاکستان کے مشہور خطاط صوفی خورشید عالم خورشید رقم کی خطاطی کا شاہکار ہے۔
شاعر رومان نے صرف 43 برس کی عمر پائی ، اگرچہ انہوں نے زیادہ عمر نہیں پائی لیکن کام بہت کیا۔ اردو ادب میں جب بھی رومانوی شاعری کا ذکر ہو گا اختر شیرانی کا نام سر فہرست ہو گا۔ ان کی شعری عظمت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

SHARE

LEAVE A REPLY