اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار میں جاری تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ممکنہ طور پر ایک ہزار سے زائد ہو سکتی ہے، جس میں بڑی تعداد روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔
اس سے قبل میانمار کی حکومت نے یہ تعداد چار سو بتائی تھی۔ میانمار میں تعینات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے یَنگ ہی لی نے میانمار کی نوبل امن انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس تشدد کی روک تھام کے لیے آواز اٹھائیں۔
یَنگ ہی لی کے مطابق ماضی میں ہونے والے فسادات اور عینی شاہدین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ راکھین میں ہلاک شدگان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔













