آج میں ایک بہت ہی حساس آو ر اہم مسئلے پر انتہائی دُکھی اور افسُردہ دِل کے ساتھ یہ کالم رقم کر رہی ہوں ،اُن تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے جو عورت کی عذت حُرمت اور تقدس پر یقین رکھتے اور اُسے قابلِ احترام اور اپنا آدھا حصہ تصور کرتے ہیں ۔میں اُن تمام مذہبی اور اور عورت کے حق میں بات کرنے والوں سے بھی مخاطب ہوں جو ہر دم اس بات کے حامی ہیں کہ عورت کی سیاست میں شمولیت ،ملکی معاملات میں حصے داری اور اُنکا وجود ضروری ہے ۔کیا آپ سب آج طلال چودھری،عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ کی بات پر بھی گونگے بنے رہینگے جنہوں نے عورت کے تقدس اور احترام کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔کیا میرے منلک کے وہ تمام حضرات جو عورت کو اُسکا حق دلانے اور اُسکی حفا ظت کی زمے داریاں لینے کی بات کرتے ہیں کیا کہیں جاچُھپیںگے ؟ یا خواتین خود بھی اپنی اس تضحیک اور تزلیل پر خاموش رہینگی اور ان ہی کے جلسوں میں شریک بھی ہونگی اور انکی ایلیکشن کیمپین بھی چلائینگی ؟ کیا عابد اور طلال صاحب اور شناء اللہ صاحب کے گھر خدانخواستہ بیٹیوں، بہپنوں اور شریکِ حیات سے خالی ہیں ،بغض اور عناد میں اتنا آگے نہ جائیں کے لینے کے دینے پڑ جائیں ،ہم تو ان سب کی گھریلو خواتین سے بھی استدعا کرتے ہیں کہ خدا را آپ بھی اپنے مردوں کو سمجھائیں کہ خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے محطاط رہیں کہ نہیں پتہ اللہ کو کب کس کی بات بری لگ جائے،،،جب کہ آپ سب ہی بُھگت رہے ہیں اپنا کیا ِ
میرا تعلق پاکستان سے ہے اسکے رہنے والوں سے ہے کہ وہ سب میرے ہیں ۔میں کسی پارٹی کی نہ لیڈر کی حامی ہوں نہ مخالف کیونکہ یہ سب میرے ہیں لیکن جہاں زیادتی ہے جہاں بے جا بات چیت ہے وہ مجھے بہت دکھ دیتی ہے خاص کر جب آپ خواتین کو بلا وجہ بیچ میں لاتے اور اُنکی کردار کُشی کرتے ہیں ،ذرا خود کو اس آئینے میں رکھ کر دیکھیں آپ کو شرمندگیئ کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا ووٹ کی عذت کی بات کرنے والے خود اتنے بے عزت ہونگے ہمیں نہیں پتہ تھا ۔کیونکہ آپ کے بیانات بھی آپ کو عزت دیتے یا آپ سے عزت چھین لیتے ہیں ۔
ہمیں دکھ ہے کہ ملک کا وہ طبقہ جو تقریبا` پچاس فیصد ہے اُسے اس طرح اپنے بیانات اور اپنی سیاست کے لئے نا زیبا الفاظ اور نا زیبا جملوں کا شکار بنایا جائے ذرا اپنے ووٹوں میں سے خواتین کے ووٹ نکال دیں نواز صاحب آپ کسی صورت بھی جیت نہیں سکتے ۔ذرا مریم صاحبہ کو ہی اپنے ان ہر کاروں کو دیکھنا چاہئے جو کوئی بھی موقعہ خواتین کی تزلیل کا فرو گزاشت نہیں کرتے اور آپ ان ہی کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی بات کرتی ہیں ۔کیا ایسے لوگوں کو چھوٹ ملنی چاہئے کہ وہ جو چاہیں کہیں ؟اور کوئی معافی مانگنے کو بھی نہ کہے ۔
خواتین کا ملک کی ترقی اور ملک کی ہر تحریک میں ہمیشہ بہت مُثبت اور طاقتور کردار رہا ہے ہم نہیں سمجھ پائے کہ کس طرح خواتین کو اس طرح کے القابات اور جملوں سے نواز کر آپ خود کو تعلیم یافتیہ یا با کردار سمجھتے ہیں ۔یقین جانیں آپ کی بھی عزت دو کوڑی کی ہوجاتی ہے جب ملک کے ایک کمزور اور ایسے طبقے پر الفاظ کی گولہ باری کرتے ہیں جو خود اپنے حق میں آپ جیسے کارندوں کے سامنے بے بس ہے ،کیونکہ وہ آپ کو آئینہ دکھانے کے لئے نہیں آسکتی ۔
یہ وہ ہی خواتین ہیں جو آپ کی ماں بہنیں اور بیٹیاں بھی ہیں ،جو آپ کی اینکرز بھی ہیں جو آپ کے ساتھ آفسزز میں بھی ہیں جو پہلو بہ پہلو آپ کے ساتھ کھڑی ہو کر ملک اور قوم کے لئے کام کرتی ہیں ،جو آپ کی بُزدلی کو برداشت بھی کرتی ہیں کیونکہ بُز دل ہی کمزوروں پر وار کرتے ہیں ۔
جہاں تکل یہ سوال ہے کہ خواتین کا جلسوں جلوسوں میں شرکت کرنا تو یہ ایک بہت مُثبت بات ہے کہ خواتین ملک کے ہر شعبے میں فعال ہیں ۔اور ہماری خواتین تو لے کر پائلیٹ سے انجینئر تک اور ڈاکٹر سے آرکیٹیکچر تک ہر محکمے اور شعبے میں شامل ہیں اور کامیابی سے اپنی زمہ داریاں نبھاتی ہیں ۔لیکن جب آپ کسی بھی جلسے میں موجود خواتین کو اپنے نشانے پر لیتے ہیں تو وہ سب کی ہی ماں بیٹیاں ہیں ۔ہم نے جب سے ہوش سنبھالا اور جلسے جلوس دیکھنے شروع کئے تو بھٹو سے لے کر بے نظیر تک اور میاں صاحب سے لے کر بلاول تک سب کے جلسوں میں خواتین کو ڈانس کرتے اور خوش ہوتے دیکھا بلکہ ہم تو اُس وقت بہت محظوظ بھی ہوتے تھے کیونکہ اچھا لگتا تھا کہ کتنا جوش اور جزبہ ہے سب میں ۔آپ سب نے اور آپ کے ساتھ شامل مولاناؤں نے خواتین کی بے عزتی کرنے اور انہیں نشابنہ بنانے سے کبھی دریغ نہیں کیا ۔آپ کے جلسے کی خواتین بہت باعزت بہت باوقار ،دوسرے کے جلسے میں شامل خواتین کی کوئی عزت نہ وقار یہ کیسا دوہرا معیار ہے ۔ ہم کیا پوچھ بیٹھے ان کے دوروں میں تو سارے ہی دوہرے معیار ہیں ۔آ
ہم ان تمام باتوں پر سخت احتجاج بھی کرتے ہیں اور یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ نہ صرف مریم نواز بلکہ تمام ہی لوگ ان لوگوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرینگے اور ان کی باز پُرس کرینگے کیونکہ ابھی ایلیکشن سامنے ہے اگر ان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تو یہ کسی کی بھی عزت نہیں کرینگے ۔
یہ الگ بات کہ ایسی باتیں کرنے والے کس گنتی شمار میں آجاتے ہیں اور کس طرح خود کو بے توقیر کر لیتے ہیں وہ شاید وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کیونکہ جو ماؤں ،بہنوں بیٹیوں کی چاہے وہ کسی کی بھی ہوں عزت نہیں کر سکتے وہ خود بھی کسی عزت کے لائق نہیں ہیں ۔
محترم طلال صاحب آپ ہماری ہی قسم میں سے کچھ خواتین کے سامنے سر جھکائے کھڑے رہتے ہیں کیا وہ بھی خواتین ہی نہیں ہیں تو آپ کیا کہینگے اس بارے میں ۔ہمارا سوال اُن خواتین سے بھی ہے کہ کیا وہ شرم محسوس نہیں کرتیں ایسے لوگوں کے سامنے کھڑی ہونے سے جو اُن ہی کے طبقے کی دھجیاں بکھیرتے ہیں بلا جواز ۔۔طلال صاحب نے جو بات کی وہ ہماری سمجھ سے باہر ہے لیکن طلال صاحب یہ تو آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ چھپا کر رکھیں ،یا شو پیس بنا دیں ۔
ہماری تمام خواتین جہاں بھی ہیں اور جیسی بھی ہیں سب قابلِ تعظیم ہیں اگر انہیں آپ عزت نہیں دے سکتے تو اُن کے بارے میں بات کرنے کا حق بھی آپ کو کوئی نہیں دیتا ہمیں سراج الحق صاحب بھیئ کہیں نظر نہیں آئے جبکہ اُن کے تمام قائدین جن کو سُن سُن کر ہم بڑے ہوئے ہمیشہ عورت کے خلاف بات پر سخت سرزنش کیا کرتے تھے ۔ہم نے مولانا مودودی کے وعظ بھی سُنے ہیں اور باقی جماعت کے سربراہوں کے بھی ۔لیکن اب ہمیں کوئی ایسا جئید نظر نہیں آتا جو مفادات کے خلاف کوئی بات کر سکے چاہے کیسا ہی مولانا ہو یا مذہبی ہو سب ہی سیٹوں کی سیاست کرتے ہیں ۔ ہمیں بہت افسوس ہے کہ یہ سب کچھ لکھنا پڑا ۔ لیکن بات حق ہے کہ احترام لازمی ہے ۔مخالفت اتنی نہ کریں کہ اچھے برے کی تمیز ہی مٹا دیں اس میں آپ کی خواتین بھی شامل ہیں ۔کیونکہ وہ بھی عورتیں ہی ہیں ۔
مخالفت اپنی جگہ ،سیاست اپنی جگہ خدا را بد تہزیبی اور بد کلامی کو اختیار مت کریں ۔یہ کسی کے بھی حق میں نہیں ہے ۔خواتین تو کمزور ہیں چُپ ہو جائینگی مگر ایک طاقت ہے جو سب پر گرفت رکھتی ہے اللہ سے ڈریں اور سب خواتین سے معافی مانگیں۔اینکرز بھی ایسے معاملات میں ہاتھ ہولا کر دیتے ہیں کیوں ؟ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔
اللہ میرے ملک کے با شعور اور ہمئیت والے لوگوں کی راہیں کھولے ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY