کراچی میں پکنک کے لیے ہاکس بے کے ساحل پر جانے والے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی،سمندر میں نہاتے ہوئے 12افراد کو بپھری ہوئی لہریں نگل گئیں۔
ڈوبنے والے 10افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ 2کو زندہ نکالا گیا،بچنے والے دونوں افراد بھی بعد ازاں دوران علاج اسپتال میں چل بسے، جس کے بعد اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیے: بلدیہ، شیرشاہ میں 2 لڑکے ڈوب کر جاں بحق
ہاکس بے پر پکنک مناتے ہوئے 3افراد ڈوب رہے تھے، جن کو بچانے کے لیے دوسرے لوگ گئے تو وہ بھی منہ زور لہروں کے سامنے بے بس ہوگئے۔
کراچی میں پکنک کی خوشی بھی دکھ دینے والے واقعات میں بدل گئی، بچوں کے اسکولوںکی چھٹی بھی تھی،تو شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے شہریوں نے سمندر کا رخ کیا، پر سمندر ان پہ نامہربان نکلا۔
کراچی کے ساحل ہاکس بے پر بپھری ہوئی بے رحم موجوں نے نارتھ کراچی اور شادمان ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 12افراد کو نگل لیاجن میں سے 10 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ 2 افراد کو ماہر غوطہ غوروں نے بے ہوشی کی حالت میں باہر نکال کر اسپتال منتقل کیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے، ڈوبنے والے افراد میں 2خواتین بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سمندر میں نہانے کے دوران 3 افرادبڑی لہروں کے آگے بے بس ہوگئے تھے، جنہیں بچانے کے لیے دیگر افراد بھی سمندرکی حدود کے اندر چلے گئے اور بس پھر تیز لہروں نے سب ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،ڈوبنے والوں میں سے 3لاشوں کی شناخت 25سالہ علی ،28سالہ وہاج اور30سالہ عمیر کے نام سے ہوئی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہاکس بےمیں ڈوبنےکےواقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔













