نواز شریف کی رہائش گاہ پر نیب کے نوٹسز چسپاں

0
115

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی امراء کے مرکزی دروازے پر 2 نوٹس چسپاں کرتے ہوئے انہیں رہائشی ملکیت کی فروخت سے باز رہنے اور 26 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کردیا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ان نوٹسز میں سے ایک میں نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ ’الزامات کا جواب دینے کے لیے آپ کی حاضری نہایت اہم ہے لہذا آپ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے کورٹ نمبر 1 میں 26 ستمبر کی صبح 9 بجے پیش ہونے کی ضرورت ہے‘۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدےدار نے ڈان کو بتایا کہ دوسرے نوٹس میں سابق وزیراعظم کے اپنی رہائش گاہ کو فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

عہدےدار کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ پر یہ دونوں نوٹس جمعہ (22 ستمبر) کو جاتی امراء کا دورہ کرنے والے نیب حکام کی جانب سے چسپاں کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے نواز شریف کے لیے جائیداد کی فروخت کے حوالے سے جاری کردہ نوٹس کی کاپیاں پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو بھی بھجوائی ہیں۔

عہدےدار کے مطابق نیب کی جانب سے ان تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ہر صورت عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح نیب نے نوٹس کی دوسری کاپیاں ملک کے تمام بینکوں کو بھی بھجوائی ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت شریف خاندان کے خلاف دائر ہونے والے تین نیب ریفرنسز میں محدود پیش رفت یقینی بنا سکی ہے جبکہ شریف خاندان کا کوئی بھی فرد 19 ستمبر کو طلب کیے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا۔

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کی جانب سے نواز شریف کی رائے ونڈ میں موجود رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کرنے کا مقصد کیس کی کارروائی تیز کرنا ہے۔

یاد رہے کہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے نیب کو 6 ہفتوں کے اندر نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ احستاب عدالت نے 6 ماہ میں ان پر فیصلہ سنانا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما فیصلے پر عملدرآمد اور ٹرائل کورٹ کی کارروائی کی نگرانی کے لیے جسٹس اعجاز الحق کو نگراں جج بھی مقرر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب نیب لاہور کے دفتر نے بھی جمعرات (21 ستمبر) کو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی اسلام آباد اور لاہور میں موجود رہائش گاہوں پر نوٹس بھیجتے ہوئے انہیں اپنی جائیدادوں کی فروخت سے باز رہنے کا حکم جاری کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر اپنی آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ شریف خاندان اور اسحٰق ڈار اِن دنوں لندن میں موجود ہیں جہاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے گلے کا کینسر کا علاج جاری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY