خطبہ امام زین العابدین کا پہلا حصہ

جب طویل مسافت کے بعد اسیران کربلا امام زین العابدین کے ہمراہ کوفہ سے شام پہنچے تو انہیں دربار یزید میں پیش کیا گیا ۔ یزید کے کہنے پر خطیبِ مسجد نے حضرت علی علیہ السلام کی برائی بیان کرنی شروع کی اور رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بنی امیہ کا شجرہ ملا یا تو امام سجاد اپنی جگہ سے اُٹھے اور بلند و بالا آواز سے خطیب پر ملامت کرتے ہو ئے کہا ” وائے ہو تجھ پر اے تقریر کرنے والے تو نے لوگوں کی خوشی کے لئَے اللہ تعالٰی کے غصے کی پرواہ نہیں کی اور یزید کی طرف دیکھ کر امام سجادع نے فرمایا ” اے یزید کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ لکڑی کے اس منبر پر بیٹھوں اور اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئَے کچھ تقریر کر سکوں ” اُس وقت مسجدِ بنی امیہ میں بے شمار لوگوں کا مجمع تھا ۔

یزید نہیں چاہتا تھا کہ امام سجاد ان سے خطاب کریں لیکن سب نے کہا ” اے یزید اس نوجوان کو بھی منبر پر جا کر تقریر کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم واقعات کی اصلیت کا اندازہ لگا سکیں ” ۔ یزید کی خاموشی پر لوگوں نے پھر اصرار کیا ” اے یزید تو اس نوجوان کی تقریر کرنے سے کیوں گھبرا رہا ہے “۔

یزید کا دل نہیں چاہتا تھا کہ امام سجادع منبر پر جا کر اصل حالات سے لوگوں کو با خبر کر یں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نبوت کا چشم و چراغ منبر پر آ کر سارے حقائْق بیان کر دے گا اور جو کچھ ملکِ شام کی حکومت نے برسہا برس سے علی بن ابی طالب کی توہین کی تھی اور دنیا اور زمانے کو دھوکا دیا تھا ، عوام الناس کو اس حقیقت کا بھی پتہ چل جائے گا اور بنی امیہ کے جھوٹ اور سازشوں کا پول کھل جائےگا۔

آخر کار عوام الناس کا اصرار بڑھا اور یزید مجبور ہو گیا اور اُس نے امام سجادع کو اجازت دے دی کہ امام منبر پر جا کر اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔

امام سید الساجدین زین العابدین نے یزید بن معاویہ کے دربار میں کوفیوں اور شام کے درباریوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطبہ کے آغاز میں اللہ سبحانہ تعالی کی تعریف یوں بیان کی ۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالٰی کا بے انتہا شکر ہے
جو بہت مہربان اور نہایت ہی رحم والاہے
جس کی تعریف کی کوئ انتہا نہیں ہے
وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا
اُس کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے
اُسے کوئی زوال نہیں ہے
وہ سب سے پہلے تھا اور سب کے آخر تک رہے گا
وہی لوگوں کو دن اور رات روزی تقسیم کرتا ہے
( جاری ہے )

ڈاکٹر نگہت نسیم

(مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے مضامین اور نہج البلاغہ سے مدد لی گئی
خصوصاً بیانِ خطبہ از ناسخ التواریخ ج ۲ صفحہ 167 ، طبع جدید زندگی حضرت سید الشہداء)

SHARE

LEAVE A REPLY