اردو مرثیے اور نوحے کی روایت کسی نہ کسی صورت میں برسوں سے موجود ہے لیکن رواں صدی نے غم کی ان اصناف کو ایک نیا اور جدید رخ دیا ہے تا ہم اسکے باوجود قدیم نوحوں اور مراثی کی طاقت،قوت اورتازگی اپنی جگہ ہے

زمانوں سے سماعتوں سے آشنا ایک نوحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسین تیرے لہو کی خوشبو فلک کے دامن سے آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج بھی کل کی طرح آنکھوں سے اشک غم بہانے کے لیئے پُر تاثیر ہے

ایسے ہی نوحوں میں سے ایک۔۔۔۔۔۔۔۔ مارا گیا حسین جو مہمان کربلا۔۔۔۔۔۔بھی ہے جسے زمانے گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سوز خوانوں اور نوحہ خوانوں نے یوں بھی پڑھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مارا گیا حسین جو میدان کربلا۔۔۔ اس کلام کا بھی لکھنے والا معلوم نہیں ہے

اس نوحے کو کتنے ہی لوگوں نے پڑھا لیکن کمال یہ ہے کہ اسکی دھن اور لحن تبدیل نہیں ہوا

یہ دور بزنس اور تجارت کا ہے یہاں تک کہ دین اور عبادات میں تجارت در آئی ہے۔ نوحہ نویس،نوحہ خوان، نعت خوان بھی باقاعدہ بھاری معاوضے لیتے ہیں لیکن اسکے باوجود بہت سے لوگ ہنوز ایسے بھی ہیں جو اس کام کو فقط عبادت سمجھ کر کسی شہرت کی لالچ کے بغیر کرتے ہیں

ایسے ہی لوگوں میں ایک ڈاکٹر امتیاز ترابی اور اور انکے تینوں بیٹے بھی ہیں اور اعلی تعلیم یافتہ اور بہترین ملازمتوں میں ہونے کے باوجود سوز خوانی و نوحہ خوانی کو فقط خوشنودی آل رسول کے لیئے اپنائے ہوئے ہیں

ڈاکٹر امتیاز ترابی اپنے طور پر ایک مکمل مضمون کے حامل ہیں اور یہ قرض انشااللہ جلد ادا کرونگا

اسوقت امتیاز ترابی اور انکے دو بیٹوں تاثیر رضا اور توثیق رضا کا پڑھا ہوا یہ قدیم نوحہ آپکی خدمت میں پیش کرنا ہے کہ اسے سن کر اسکے سوز کو محسوس کیجئے

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY