شہکارِ تصوف”اسرارِ کبیری“ایک تبصرہ

0
1220

شہکارِ تصوف”اسرارِ کبیری“ایک تبصرہ
مقالہ نگار:- ڈاکٹر مجدّدی مصطفی ضیفؔ
سرینگر جموں وکشمیر

نگہ بلند، سخن دلنواز، جان پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کار واں کے لیے (اقبال)
قطب العارفین، سراج السالکین، ماہر اسرار شریعت و طریقت حضرت میاں عبد اللہ لارویؒ المعروف بابا جی صاحب ؒکا شمار مسلم دنیا کی عظیم المرتبت روحانی شخصیات میں ہو تا ہے۔وہ مادر زاد ولی تھے، جنہوں نے اپنے عہد کے معروف ولی اللہ خواجہ نظام الدین اولیاء کیانویؒ سے سلسلۂ نقشبندیہ و قادریہ میں بیعت و خلافت کر کے خود کو تصوف کے ان سلاسل کے خلعت فیوض و برکات سے نوازا۔ حضرت صاحبؒ نے ظاہراً صرف سات پارے قرآن مجید ناظرہ قاری عبداللہؒ سے پڑھا مگر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور مہربانی سے علم لدنی سے اتنا نوازا کہ اس عہد کے جید علماء آپؒ کے آفتاب علم کے رو برو مثل شمع تھے۔ اس کی زندہ مثالیں بابا جی صاحب ؒ کی تصانیف ” ملفوظات نظامیہ“،مجموعہ” سی حر فی حا“ اور ان کی آخری تصنیف” اسرار کبیری “ جو علمِ تصوف و معرفت اور سلوک کا بحر بے کراں ہے، شامل ہیں یہ تصانیف نہ صرف ان کے عظیم علمی مرتبے کا کھلا ثبوت ہیں بلکہ حضرت مصنفؒ کی زندہ کرامات بھی ہیں۔
پیر رومی خاک رہ تعمیر کرد
از غبارم جلوہ گاہ تعمیر کرد (اقبال)
” اسرار کبیری “حضرت میاں عبداللہ ؒ (بابا جی صاحبؒ) کی تیسری اور آخری تصنیف ہے، جس میں طالب حق کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ سالک و سلوک کے جہان کے ان پوشیدہ رازوں پر مدلل و مفصل بحث کی گئی ہے جن کی تفہیم و تشریح کے بغیر کوئی بھی شخص منصبِ ولایت کا عرفان حاصل نہیں کر سکتا، یہ تصنیف نہ صرف مشائخ نقشبندیہ کی تصنیفات میں منفرد مقام کی حامل ہے بلکہ دنیا میں تصوف کی اسلامی روایات کا پیش بہا خزینہ اور امین بھی ہے۔
دورِ جدید جو کہ مغرب کی مختلف عقلی یا فلسفیانہ تحریکات(PHILOSOPHICAL OR RATIONAL MOVEMENTS] کی بنیادوں اور تہذیبی تصادم (CLASHES OF CIVILIZATION )کی بدولت ہماری روحانی اقدار کی بنیادیں کھوکھلی کر کے عقائد کو متزلزل کر رہا ہے، وہیں یہ کتاب اپنے مختلف موضوعات جن کی اساس کلام مجید، سیرت مصطفی ﷺیا قوانیں شرعیہ ہیں کی بنیاد پر طالب حق کی انگشت پکڑ کر صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کی طرف اشارہ کر تے ہوئے مصنفؒ شعر کی ہیت میں فرماتے ہیں۔
باہر قرآن حدیثوں بھائی قدم مول نہ دھریا
اوپر سنت رسول پیارے کیتا جو کج سریا ۱
ترجمہ:۔ (یہ کتاب تصنیف کرتے ہوئے میں نے قرآن و حدیث کے دائرے سے باہر ذرّہ برابر بھی
قدم نہیں رکھا اور میرے فکر کی پرواز سرکار دوعالم ﷺکی سنت یا سیرت کے اصولوں کے تابع رہی۔)
” اسرار کبیری “ جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مصنفؒ کے آخری تصنیف ہے (اس کی طباعت کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کی وفات ہو گئی ) کی طباعت اول 1925ء بمطابق 1345ھ یا 1983 بکرمی میں ہوئی، ان کی اس الہامی تصنیف کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ:۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے (غالب) اس کتاب کی وجہ تسمیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے باباجی صاحبؒ فرماتے ہیں:۔
اسرار کبیری سفنے اندر کسے ولی بتایا
اسے مجبوری کارن میں بھی ایہی نام رکھا یا ۲
ترجمہ۔ (مجھے ایک ولی اللہ نے کتاب تحریر کر نے اور ”اسرار کبیری“ اس کا نام رکھنے کے لیے فرمایا ، اور اس ولی اللہ کے فرمان کی تعمیل کرتے ہوئے میں نے بھی کتاب کا یہی نام رکھا۔)
اپنے موضوعات کے تنوع کے اعتبار سے” اسرار کبیری“ دنیائے تصوف کی تصنیفات کے چمنستان میں وہ گلدستہ ہے جس کے پھولوں کی خوشبو با شعور یا بیدار دماغوں کو مدہوش نہیں بلکہ راہِ نجات کے سراغ دکھاتی ہے۔
حضرت خواجہ بہاﺅ الدین نقشبندی البخاری ؒکا ارشاد ہے”ہم فضل والے لوگ ہیں ہمارے طریقہ میں محرومی نہیں ہے“۔ اس قول کے مدنظر” اسرار کبیری“ کا مطالعہ قاری پر اس حقیقت کے در کھول دیتا ہے کہ ایک مسلمان صرف اسی صورت میں فضل والی جماعت میں شامل ہوتا ہے جب وہ گزشتہ انبیاء پر کامل ایمان کے ساتھ ساتھ حضرت محمدﷺ کی رسالت اور خدا کی وحدانیت کا اقرار و تصدیق زبان و قلب سے کرتے ہوئے سیرت مصطفیﷺ، ان کے اصحاب کے طریقوں اور صالحین (اولیاء کرام) کی زندگیوں سے سبق اخذ کرکے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ استدلال کے طور پر اس کتاب کے چند موضوعات پیش کیے جا سکتے ہیں جو اس طرح سے ہیں۔
1)حمد باری تعالیٰ(منظوم)۔ 2)درصفت آنحضرتﷺ(منظوم ۔فارسی)۔ 3)انبیاء اور ملائکہ کی حکا یتیں۔ 4)صحابہ کرام اور اگلے لوگوں کی حکایتیں۔ 5)قرآن مجید عقائد و اعمال کی درستی کے لیے نازل ہوا۔ 6)اور حضور پر نورﷺ کے اصحاب کے ساتھ عقیدت درست رکھنا وغیرہ ۔
اس تصنیف کے درج بالا موضوعات میں سے کسی کا بھی جائزہ اگر موجودہ اسلامی دنیا کی مذہبی صورت حال کے حوالے سے لیا جائے تو مجھے یہ حقیقت بیان کر نے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ اس دور میں امت وسطی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یا قضیہ چند ایک یا بہت سارے بنیادی مسائل کو لے کر اختلاف رائے ہے جن کے متعلق حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے لہجہ تاسف و تعجب کے ساتھ لکھا ہے
حرم پاک بھی ایک، اللہ بھی ایک، قرآن بھی ایک!
کچھ بڑی بات تھی کہ ہوتے مسلمان بھی ایک!
دین محمدی ﷺ کے ان عظیم المرتبت خادمین علامہ اقبال ؒ اور حضرت عبداللہ عبد (بابا جی صاحبؒ) نے بیسوی صدی کی ابتدائی تین چار دھائیوں کا مشاہدہ اپنی چشم رمز شناسوں سے کیا تھا نیز بلاد اسلامیہ اور خاص کر کے برصغیر میں اس طرح کے اختلافانہ نظریات ومسائل کی اٹھان، کم علم و فہم لوگوں یا عوامی سطح پر قبولیت کا زمانہ تھا اور پھر دھیرے دھیرے فرقہ پرستی کی اصطلاح نے ناسور بن کے ملت کو اپنی دلدل میں اس طرح جکڑا جس کی بدولت امت نہ صرف ذہنی یا نظر یاتی طور پر منقسم ہوئی ہے بلکہ اس نے بلاد اسلامیہ کو سیاسی اعتبار سے بھی اتنا پسماندہ کر دیا کہ وہ اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے سبب ہر لحاظ سے شکنجہ اغیار میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔
حضرت شیخ و مرشد میاں عبداللہ عبدؒ (باباجی صاحبؒ) نے اپنی اس شہرہ آفاق تصنیف میں بلاد اسلامیہ اور عالمی دنیا کے مسلمانوں کو در پیش اس خطر ناک صورت حال کے حل کا راستہ دکھاتے ہوئے عنوان ” قرآن مجید عقائد و اعمال کی درستی کیلئے نازل ہوا“ میں فر مایا ہے۔
”واضح رہے کہ قرآن مجید عقائد کے صحیح کرنے، ایمانیات کے قوی کرنے اور اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ اور باہمی معاملات کو بخوبی انجام دینے کے لیے نازل ہوا ہے“ 3
اگر تو می خواہی مسلماں ذیستن
نیست محمد کن جلوہ قر آن ذیستن (اقبال) یہ فسادات کے طوفان نہ اٹھتے ہر گز
تو اگر واقف رہ سنت قر آن ہو تا (عبد الرحمن عاجز)
چونکہ اولیائے کرام مشن انبیاء کے علمبردار اور مبلغ ہوتے ہیں اور اس دینی منصب کی بدولت ان کا پیغام فرد اور جماعت کے ساتھ ساتھ پورے عالم کے انسانوں کی فلاح و راہبری کے لیے بلا لحاظ رنگ و نسل، لسان، قوم و قبیلہ ہے۔ اس تناظر میں ” اسرار کبیری“ کی درج بالا عبارت کا جائزہ یہ حقیقت منکشف کرتا ہے کہ حضرت مصنف عوام و خواص کو یہ معاملہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ وہ امت میں پیدا ہو نے والے اختلافی مسائل اور معاشرتی و نظریاتی فلسفوں کی قبولیت سے پہلے انہیں قرآن مجید کی کسوٹی پر پرکھیں تاکہ ان کے کامل یا ناقص ہونے کے بارے میں کوئی واضح رائے قائم کی جاسکے۔ یاد رہے کہ حضرت مصنفؒ کی یہ نصیحت حضور رسالت مآب ﷺ کے اس فرمان کے عین مطابق ہے کہ میں تمہارے درمیان تین چیزین چھوڑ کے جا رہا ہوں (۱)قرآن مجید(۲)اپنی سیرت(۳)اور اپنے اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
”اسرار کبیری “میں بھی فرمان مصطفی ﷺ کے مطابق ہر بات کی تفہیم اور استدلال کے طور پر قرآن مقدس کی آیات، سیرت مطہرہ اور عظیم المرتبت اہل بیعت محمد ﷺ کی زندگیوں سے حوالہ جات کثرت کے ساتھ مل جاتے ہیں ۔
آٹھویں صدی عیسویں میں عربوں کے سندھ اور ملتان پر قابض ہونے کے بعد اسلامی فکر و نظریات نے بھی برصغیر میں ہندوؤں کے فکر و فلسفہ کو متاثر کیا یہ وہ دور تھا جب اسلامی تصوف بھی اپنی باقائدہ مابعد الطبعیات (METAPHYSICS) مرتب کر رہا تھا، اور اسلام کے وہ غنی مزاج درویش جو ترک وطن کر کے سر زمین ہندوستان میں داخل ہوئے انھوں نے تبلیغ عام کے مقاصد کے حصول کی غرض سے در بار عام لگائے عوامی زبان میں شاعری کی اور عوام الناس کو محبت، مساوات اور خدمت خلق کا وہ درس دیا جس کی داغ بیل حجاز مقدس کی سر زمین پر حضور رسالت مآب نے رکھی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس خطہ ارضی میں مشرق وسطی (MIDDLE EAST) کے صوفیانہ فکر کا فروغ بھی ہوا اور نتیجہ کے طور پر جسم و روح کی درمیان آویزش کو اہمیت، مادّی زندگی کا روحانیت کے مقابلے میں ادنیٰ تصور اور پھر توحید کا سلسلہ مکمل طور پر فلسفہ وحدت الوجود سے ملا دیا، یہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود تصوف کے دو نظر یات (of Mysticism Theories) یا فلسفے (philosophies) ہیں جن کے ماننے والے بے شمار صوفیائے کرام ہیں۔ اسی طرح ملت میں صوفیائے کرام کا مسلک بھی مختلف معلوم ہوتا ہے بعض صوفی خدا مست اور مجذوب نظر آتے ہیں۔ اور بعض طریقت کو ہی عرفان کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ مگر حضرت داتا گنج بخش لاہوریؒ فرماتے ہیں کہ:
”جو شخص توحید و تحقیق کے خلاف چلتا ہے اسے دین میں کچھ نصیب نہیں ہوتا اور جب دین جو اصل ہے مضبوط نہ ہو تو تصوف جو اس کی شاخ ہے کس طرح مضبوط ہو سکتا ہے“ 4
حضرت داتا گنج بخش لاہوریؒ کا یہ فرمان رسول اللہ ﷺ کی اس مقدس سیرت کے عین مطابق ہے جس کی روشن جھلکیاں ہمیں حرّا کی تنہائیوں سے لے کر ملک شام کی طرف جانے والے تجارتی قافلوں تک اور طائف، بدر، خندق اور فتوحات خیبر سے لے کر غدیر خم اور عرفات کے میدان میں حجةالوداع کے عظیم و تاریخی خطبے تک دکھائی دیتی ہیں اور حضرت میاں عبداللہ عبدؒ (بابا جی صاحبؒ) اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”اسرار کبیری“ میں قدم قدم پر عوام الناس کو عین اسی طرح کی تعلیمات سے روشناس کراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
جب جنوبی ہندوستان میں رامانج اور بھگتی کی تحریک کے شمالی ہند میں سامنے آنے والے دوسرے بھگتوں کی فکر کی بدولت ہندوستانی مسلمانوں میں بھی تصوف کے غیر اسلامی یا اضافی نظریات کی درآمد شروع ہوئی تو نتیجہ کے طور پر عوام الناس کے عقائد بگڑنے لگے جس کی مثال تہذیبی یا فکری سطح پر شیخ سرمد (مجذوب) اور داراشکوہ سے دی جا سکتی ہے، تصوف کے اسی غیر اسلامی تصور کی طرف اشارہ کر تے ہوئے حکیم الاامت شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ اپنی شہکار اردو نظم ” ساقی نامہ “ میں فرماتے ہیں:۔
مسلماں ہے تو حید میں گرم جوش
مگر دل ابھی تک ہے زنار پوش
تمدن، تصوف، شریعت، کلام
بتان عجم کے پجاری تمام!
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی!
لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب
مگر لذت شوق سے بے نصیب!
بیاں اس کامنطق سے سلجھا ہوا
لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا
وہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مرد
محبت میں یکتا حمیت میں فرد
عجم کے خیالات میں کھو گیا
یہ سالک مقامات میں کھو گیا
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے۔
تو اس قسم کی بد اعتقادی یا غیر شرعی ماحول یا فضا سے سادہ لوح عوام کو نجات دلانے کے لیے حضرت اورنگ زیب عالمگیرؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور پھر سب سے بڑھ کر ثانوی ہزاریے کے مجدّد اعظم حضرت شیخ احمد فاروقی سر ہندیؒ سامنے آئے، جن کے متعلق علامہ اقبالؒ ” بال جبریل“ کی ایک نظم بہ عنوان ”پنجاب کے پیر زادوں سے“ میں فرماتے ہیں کہ:۔
حاضر ہوا میں شیخ مجدّد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شر مندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آ گے
جس خاک کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار
فکری سطح پر مصنف شاہ کار تصوف ”اسرار کبیری“ مبلغ و مدرس شریعت محمدی حضرت میاں عبداللہ عبدؒ (باباجی صاحبؒ) (برصغیر کے حوالے سے اگر بات کی جائے ) تو انہی عظیم اسلامی اسکالروں خاص طور پر حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی ؒکے نظریات جو عجم کی صوفیانہ روایات سے بہت پرے یا لاتعلق اور نظام شرعیہ کے عین مطابق ہیں سے ہی متاثر نظر آتے ہیں نہ صرف باباجی صاحبؒ بلکہ ان کے مرشد آفتاب فکر و ولایت غوث الزماں حضرت نظام الدین کیانویؒ بھی ان کے گرویدہ تھے، یہی وجہ تھی کہ آنجناب نے پہلے سلسلہ قادریہ اور بعد میں نقشبندیہ میں خلعت بیعت و خلافت سے سر فراز ہو کر دین محمدی کی خدمت کا فریضہ انجام دیا۔ چنانچہ ” اسرار کبیری“میں حضرت مصنف رقم طراز ہیں:۔
”ہم امام العلما ء و محققین مولانا حضرت مجدّد صاحب ؒکا اتباع رکھتے ہیں۔ آنجناب کو جو بارگاہ الٰہی جو ”رب زدنی علما“ کے صادق قول کا قبول کرنے والا ہے، معارف مرحمت ہوئے۔ آپ نے عالموں اور داناؤں پر وہ معارف ظاہر کر دیئے “ 5
حضرت شیخ احمد سر ہندی ؒ سے باباجی صاحب ؒ کی نظریاتی وابستگی، عقیدت اور تاثر کی یہ اور بہت ساری مثالیں ان کی اس کتاب کے علاوہ زندگی، اقوال اور دوسری دو تصنیفات جو نظم و نثر کی ہیت میں ہیں سے مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں مصنف ؒ شاہ نقشبندؒ کے حالات واقوال، حضرت خواجہ گنج شکرؒ کی باتیں، حضرت مجدّد الف ثانی ؒ (جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے)، امام جعفر صادقؒ، حضرت یوسف ہمدانیؒ، حضرت خواجہ عبداللہ احرارؒ، حضرت خواجہ محمد پارسا ؒ اور اپنے پیر و مرشد حضرت نظام الدین کیانویؒ کے حالات و اوصاف پیش کرتے ہوئے طالب حق کو نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا وآخرت کی بھلائی اور بہتری کی خاطر ان اور اس طرح کی دیگر تمام ہستیوں کی زندگیوں سے استفادہ کیا جائے جو شرعی قوانین کے مطابق بسر ہوئی ہیں، اپنے اس مقصد عظمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بابا جی صاحب ؒ کتاب ھذا کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
” حمد ہزار ہا و سپاس بے قیاس خلاق اکبر جن و بشر کو سزا وار ہے کہ جس نے اپنی قدرت کاملہ سے انبیاء کو نبوت و امامت کا خلعت پہنایا۔ شریعت و طریقت کا امام بنایا، ان کی نبوت کی تصدیق کے لیے بڑے بڑے معجزے ان کے ہاتھ سے ظاہر کیے۔ اولیاﺅں کو دین حق کی تکمیل کا تاج پہنا کر نیابت کا کام، زمانہ کا انتظام ان کے سپرد کیا۔ اور ولایت کا اختیار بھی ان کے ہاتھ میں دیا۔ ہزاروں کرامات اور خوارق عادات ان کے شاہد حال بنائے، جن کے دیکھنے سے انسان ضعیف نے جہل کی ظلمت سے نکل کر علم الیقین کی روشنی حاصل کی۔“ 6
حضرت میاں عبداللہ عبد ؒ ( بابا جی صاحب ؒ)کی یہ تصنیف اسلامیات میں تصوف کے شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے، ایسا شاہ کار جس کے تمام حدود کا دائرہ شریعت محمدی سے ایک معین سے نقطے کے برابر بھی باہر نہیں ہے۔ ایسا شہکار تصوف جو سالک کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ عمومی ذہن و فکر کے مالک عوام الناس کی اہل کمال کی شناخت کے عمل میں مکمل رہبری کرتا ہے نیز اندھیروں سے روشنی کی سمت سفر کراتا ہے۔ مثلاً صاحب کتابؒ موضوع” اہل کمال کی پہچان“ کے ذیل میں فرماتے ہیں:۔
”دربیاں آنکہ شناخت سے معلوم کرنا کہ کمال کی صفتیں و کمالیت کس طرح پہچانی جاتی ہے، اور جو طائفہ رند و خامکار، مشائخی و شیخی کا دعویٰ کرنے والے کس طرح سے پہچانے جاتے ہیں، کیونکہ ان ہر دو قافلوں کا پہچاننا اور فرق کرنا، اس زمانہ میں محال اور دشوار ہے۔ اس واسطے کہ جو مشائخ کمال ہیں ان کے مطلب و دام اپنے مالک کے ساتھ ہوتے ہیں کہ بنیاد شریعت کے قائم کرنے سے سنّت نبویہ کے زندہ کرنے میں غرقاب ہو جاتے ہیں۔ اس واسطے کہ ظاہراً تن پرستی و آراستگی کو ترک کر دیتے ہیں۔ اور کشف و کرامات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، کہ صرف محبّت کے شعلہ کو روشن کر کے مثل پتنگ انوار ربوبیت اور تجلیات وحدیث میں جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کو ماسواے اللہ کے کوئی خبر نہیں ہوتی۔ بر خلاف طائفہ خامکار رنداں کے وہ اپنے آپ کو تن پرستی و جسم آراستگی کما حقہ بجا لاتے ہیں۔ مگر غور کی نظر سے دیکھا جائے تو حدود و بنیاد شریعت کے قاطع ہو کر، نائب رسولوں کے رہزن ہو کر دعوائے شیخی و مشائخی کا قائم کر کے مشائخ منتہی بن بیٹھتے ہیں، لیکن بہ ذریعہ استد راج کشف و کرامات وغیب گوئی کے مستحق نیکی بدی کے ہو جاتے ہیں، تو اس طائفہ شقیہ و بد بخت کے ذہن میں بھی بات ہوتی ہے کہ اولیائی یہی ہے۔ مگر جو گمان ان بدبختوں کا ہے وہ بالکل بعید ہے۔“ 7
مشائخی و شیخی یا ولایت کی جانچ پرکھ کا یہ ایسا میٹر یا کسوٹی(METER OR TOUCH STONE) ہے جس پر کھرا اترنا ہر کس و ناکس کے بس کا روگ نہیں، نیز وہ اس طبقہ کو جو اپنی وضع قطع سے تو صوفی دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ اور قوانین شرعیہ سے نا آشنا لوگوں کو ماسوائے دھوکے اور گمراہی کے کچھ بھی دینے کے اہل نہیں ہوتے، اور ان لوگوں کو مصنف ؒ ”اسرار کبیری“ درج بالا اقتباس میں”نائب رسولوں کے رہزن “ اور ”بدبخت “قرار دیتے ہوئے انہیں اور ان کے دائرہ صحبت میں بیٹھنے والے ان کے پیروکاروں کو نہ صرف تنبیہ کرتے ہیں بلکہ سچائی کا ایسا آئینہ دکھاتے ہیں جس میں ان نفس پرستوں کو گمراہی اور ہدایت کے راستے صاف اور واضح دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اور اس کتاب میں اس طرح کا ہر اقتباس صاحب کتابؒ کی عالمانہ نگاہ، صوفیانہ بصیرت، معر فت الٰہی اور عشق حضور رسالت مآب کا پختہ ثبوت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دور جدید کے انسان کو جو مختلف مسائل و مصائب میں گھرا ہوا ہے کے ایمان کی دولت بھی ان رہزنوں سے بچانے کی سعی مسلسل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مختصر یہ تحریر نہ صرف اہل اللہ اور غیر اللہ کے درمیان قوائد شرعیہ کے مطابق حد فاصل (DIVIDING LINE) قائم کرتی ہے بلکہ ہر اس شخص کے دعویٰ ولایت کو بھی خارج کرتی ہے جس کا ظاہر و باطن درس حدیث کے برعکس ہو یا جو ظاہری شکل و صورت تو بنا لیتے ہیں مگر ان کے دل میں خالق حقیقی کی محبت کے بجائے نفس پرستی اور مال و زر کی ہوس ہوتی ہے۔ زیر بحث کتاب میں باباجی صاحب ؒ کا فرمان جو انہوں نے ”چار چیزیں حجاب ہیں“ کے عنوان سے رقم کیا ہے بھی طالب حق کی راہبری کے لیے آفتاب نصف النہار کا درجہ رکھتا ہے:۔
” ناطے رشتے وغیرہ بہت ہی حجاب ہیں۔ جب تو ان پیوندوں کو توڑ دے خداوند تعالٰے کی درگاہ کا واصل ہے۔
علم سلوک کے ایک رسالہ میں دیکھا گیا ہے کہ اس راستہ میں خدا کے طالب کے لیے جو حجاب ہیں، وہ چار چیزیں یعنی دنیا، خلقت، نفس اور شیطان۔ دنیا آخرت کا پردہ ہے۔ خلقت عبادت کا، شیطان دین کا اور نفس خدا تعالیٰ اور بندہ کے درمیان کا پردہ ہے۔ جب سالک زہد و پرہیز گاری پر تل جائے اور تھوڑے ہی پر راضی ہو جائے تو وہ دنیا کے پردہ سے نکل جاتا ہے۔ اور جب تنہائی اور خلوت اختیار کرے اور لوگوں سے میل ملاپ ترک کر دے تو خلقت کے پردہ سے نکل جاتا ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں پورے حوصلہ سے مستقل رہے تو شیطان کے پردے سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اور جب ریاضت و مجاہدہ اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو تو ماسویٰ اللہ کے پردہ سے خلاصی پاتا ہے۔ اور نفس کے حجاب اور غفلت کے پردے سے باہر آ جاتا ہے، جب ایسا ہو جائے تو قرب ہی قرب اور حضور در حضور ہے۔“ 8
حضرت میاں عبداللہ عبدؒ( بابا جی صاحب ؒ) کی بیان کر دہ اسی نثری عبارت کو حکیم الاامت شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ منظوم شکل میں اس طرح پیش کرتے ہیں۔
یہ مال دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں لاالٰہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سو دا
فریب سود و ذیاںالٰہ الا اللہ
اسی طرح اس کتاب میں حضرت مصنف ؒ” اہل کمال کی پہچان “ کے عنوان میں استدراج، کشف اور کرامات پر بھی بحث کرتے ہیں۔ ان میں جہاں استدراج کا واسطہ شیطان پرست جنات سے ہے اور ولایت جیسے عظیم مرتبے سے اس کا دور کا بھی رشتہ نہیں وہیں کرامات کا تعلق اولیائے کرام سے ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح معجزات کا انبیاء سے ہے، مگر نظام شریعت میں کرامت کا اظہار شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بابا جی صاحب ؒ اظہار کرامت سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے شریعت محمدی کا پاس رکھنے کی نصیحت و ہدایت بھی کرتے ہیں۔ یہی حقیقی اسلامی فقر ہے اور ساری تصنیف میں وہ اسی کی دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، جس کے متعلق اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:۔
اک فقر ہے شبیری اس فقر میں ہے میری!
میراث مسلمانی سر مایہ شبیری!
یہاں عرض کرتاچلوں کہ میں نے ان کی زندگی کے بہت سارے وقعات قبیلے کے بزرگوں سے سنے ہیں کہ جب کوئی طالب حضرت صاحب ؒ کی بارگاہ میں تحصیل علم یا کسی اور عرض سے حیات و کائنات کے کسی ایسے مسئلے کے متعلق کوئی ایساسوال رکھ دیتا جس کے جواب کی خاطر کرامت کا سر زد ہونا ضروری ہوتا تو وہ اس سوال کو بڑی سختی سے یہ فرما کر رد کر دیتے کہ” نبی کریم کی شریعت مطہرہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یا اگر کبھی کسی زاہد و پر ہیز گار شخص کی موجود گی میں اظہارِ کرامت ہو بھی جاتا تو حاضر مجلس اس شخص کو بڑی سختی سے منع فرماتے کہ عوام میں اس کا اظہار ہرگز نہ کرے۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی (اقبالؒ)
باباجی صاحب ؒ کے عہد تک آتے آتے برّصغیر کی ثقافتی زندگی پرصنعتی انقلاب اور یورپ کے مادی رجحان( MATERIALISM) کے نقوش جلوہ گر ہو رہے تھے۔ نتیجہ کے طور پر مذہبی اور روحانی سطح پر ُجس طرح کا ماحول پنپ رہا تھا اس کی تصویر کشی علامہ اقبال کے اردو وفارسی کلام میں اعلیٰ انداز میں کی گئی ہے۔ چنانچہ میاں عبداللہ عبدؒ (باباجی صاحبؒ)” اسرار کبیری“ میں اس حقیقت کی تفہیم بھی کراتے ہیں کہ مادّی اور روحانی(MATERIAL AND SPIRITUAL ) نظریات و رجحانات کے انسانی معاشرت و اخلاق یا جسم و روح پر کس طرح کے منفی و مثبت اثرات پڑھتے ہیں اور روحانی دنیا جو مادی دنیا کی حدوں سے کافی پرے کائنات کی وسعتوں کو اپنے دائرہ اختیار میں رکھتی ہے تک مسلمان کی رسائی کیسے ممکن ہے اس نقطہ کی تفہیم یا تشریح حضرت مصنف ؒ ” اسرار کبیری “میں تصوف کی ابتداءکے تین درجوں کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:۔
1) اس کا نفس مقہور و مغلوب ہو گیا ہو۔ اس میں کوئی غصہ اور خواہش نہ رہا ہو۔
2)یہ جہاں اور وہ جہاں اس کے سامنے سے اٹھ گئے ہوں۔ یعنی حس و خیال سے گذر گیا ہو۔
مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے (اقبالؒ)
3)اسے حق تعالیٰ اور اس کے جلال و جمال نے بالکل گھیر لیا ہو۔
یہ اور اس کے علاوہ اس مو ضوع پر حضرت صاحب ؒ نے جو مضامین اس پر فتن دور میں عقائد کی پختگی، درستگی، حفاظت اور عوام و خواص کی رہنمائی کی غرض سے پیش کئے ہیں ان میں چند ایک اس طرح ہیں۔
1) ابتداء مجاہدہ میں مرید کی شرطوں کا بیان۔ (۲) امر ونہی کی تبلیغ کا بیان۔ (۳) اہل کمال کی پہچان۔ (۴) کفر وشرک اور بدعت کا بیان۔ (۵) محاسبہ کا بیان۔ ( ۶)توبہ اور ماہیت تو بہ کا بیان۔ (۷) شیطان لعین کا بیان۔ ( ۸) دربیان حقوق استاد و مشائخ۔ (۹) بد مذہب رندوں وتن پرست نفس پرستوں کا بیان (۰۱) سالک اور احمق میںفرق۔ (۱۱) اعمال صالح میں تقویٰ اور حسن خلق جنت میں جانے کے لیے بہترین سبب ہے۔
” اسرار کبیری“ کے موضوعات میں اسلامی تصوف، اسلامی تحریک سے وابستہ تاریخ ساز ہستیوں کے ذکر اور اسلامی عقائد و اقدار کی پختگی پر مدلل بحث کے علاوہ دنیائے اسلام کے عروج و زوال کی داستان کی جھلکیاں، ثقافت اسلامیہ کے ساتھ پیدا ہونے والے تصادم کی تصاویر، تنگ نظر اور کم ظرف افراد کا نئی تہذیب (جو اپنے اندر بے شمار مسائل اور پیچیدہ مشکلات کا نظام لیے ہوئے ہے) کو پسند دیدگی کی نظر سے دیکھنا نیز موجودہ عہد تک آتے آتے فرعونیت، نمرودیت اور چنگیزیت کو عملی و نظریاتی طور پر اہل اقتدار نے لاگو کر کے جس انداز سے مسلمان دنیا میں عوام و خواص کے دلوں سے عمل کی روح کو نکال کر انہیں بے عملی زوال کے ایسے خول میں دھکیل دیا ہے جہان سے صہیونی و سامراجی طاقتیں انہیں کسی طرح بھی باہر نکلنے نہیں دیتی اس پر بھی مصنف ؒ کا اظہار خیال ملتا ہے۔
اسلامی سیاست کا یہ نظریہ حضرت مصنف ؒکی زندگی اور کتاب ھذا کی تصنیف کے عہد میں ہی تیار ہو چکا تھا۔ 1925 عیسوی میں دنیا کی عظیم ترین اور ترقی پسند و ترقی یافتہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ، انبیا و اولیا اور علماء کی سرزمین اعراق پر برطانیہ کا تسلط، عربوں کے وسائل کا استحصال، دنیا میں کمزور ہوتی مسلمانوں کی طاقت، یہود کا قبلہ اول پر قبضہ، ہندوستان میں مسلمانوں کے عظیم ترین اور لمبے دور اقتدار کا خاتمہ، غیر اسلامی نظام معاشرت کا بڑھتا تسلط وغیرہ چند ایسے محرکات تھے جن کے اسلامی دنیا پر دور رس اور خطرناک اثرات کا مشاہدہ حضرت مصنف بحیثیت ایک نقطہ داں دانشورطاَپنی عالمانہ نگاہ سے کر چکے تھے اور پھر ہم اس بدنصیب نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن نے عرب دنیا جو مسلمانوں کی بڑی طاقت تھی کی غلامی، صدام حسین کی شہادت، افغانستان کی بربادی، فلسطینی مظلوموں پر مظالم، دنیائے اسلام کی اہم و مقدس جگہ قبلہ اول کی بے حرمتی، حجاز مقدس کی سر زمین پر امریکی فوجی اڈوں کا قیام اور عرب کے بدوی حکمرانوں کو ان کی کٹھ پتلی بنتے ہوئے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہمارے عہد کا المیہ یہ بھی ہے کہ حجاز مقدس کی سر زمین پر 43 14 سال بعد یعنی 2021 ءمیں محمد بن سلمان السعود نے ملک کی اقتصادی اصلاحات ( Economical Reforms ,) سیاحتی ترقی (Turism Development )اور سعودی وژن (Saudi Vision 2030 ) منصوبے کے تحت جو میوزیکل کنسرٹ( Musical Consert ) منعقد کروایا میرے نزدیک وہ اسلام جو دنیا کا واحد عملی مذہب( Practical Religion ) ہے کو نظریے کی حد تک محدود کرنے، اسلام کے اصولوں پر قائم خاندانی نظام ( Family System ) کے خاتمے اور مغربیت( Westernisation ) جس کی بنیاد فحاشی، لادینیت اور جنسی بے راہ روی جیسے غیر اسلامی نظریات پر ہے کی قبولیت اور ذہنی مرغوبیت کی طرف پہلا قدم ہے ۔چنانچہ اسلام کی اسی سیاسی و معاشرتی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکیم الاامت ”بانگ درا“ کی ایک غزل میں فرماتے ہیں:
مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری!
تو اے مولاے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری
آج اکیسویں صدی کی تیسری دھائی میں داخل ہوتے ہوتے دنیائے اسلام جس طرح کے تہذیبی تصادم اور سیاسی زوال سے گزر رہی ہے اس سے ہر بشر آگاہ ہے۔ اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ اسلامی رومانیت (ISLAMIC ROMANTICISM) ہے اور اس فکری و نظریاتی رجحان سے دنیائے اسلام اس وقت تک نہیں نکل سکتی جب تک یہ اس مذہب کی بنیادوں، حقیقت کی تفہیم اور اس کے احکامات کو عملی زندگی میں شامل نہ کرے۔حضرت بابا جی صاحبؒ اس کتاب کے ہر موضوع و عنوان میں اسلامی معاشرت پر اظہار خیال کرتے ہوئے احکام شرعیہ کو دین و دنیا کی بھلائی اور بہتری کے لیے عملی زندگی میں نافذ کر نے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب کے عنوان ” بد مذہب رندوں وتن پرست نفس پروروں کا بیان“ کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
عصر حاضر میں ملت اسلامیہ جس طرح کے سیاسی انحطاط و زوال سے گزر رہی ہے اس سے اس وقت تک نجات نہیں مل سکتی جب تک مسلمانان عالم میں تعلیم جدیدیہ یا سائنس و ٹکنالوجی کے علوم کی تشریح، تفہیم و تعبیر کا رجحان علوم قرآنی کی روشنی میں پیدا نہ ہوگا ا ور مسلمانوں میں اس عملی زندگی کی ازسرنو تعمیر شروع نہ ہو جس کی تصویریں ہمیں دور رسالت اور خلفائے راشدین کے عہد زرین میں ملتی ہیں اور ہمارا یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر ہو ہی نہیں سکتا جب تک ہم میں سے ہی ایسے علماء پیدا نہ ہوں جو قومی سیرت کی تشکیل و تعمیر کی کار خیر میں اپنے ذاتی، نجی و دنیاوی معاملات و مسائل کو ایک طرف رکھ کر معاشرے کے ہر فرد کو خالص قوانین شرعیہ کی پابندی یا نفاذ کی اہمیت اور اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت کا احساس اپنی زندگیوں کو نمونے کے طور پر پیش کر کے نہ دلوائیں۔ کیوں کہ ملت کی تمام تر کامیابیوں و کا مرانیوں کا سہرہ ان ہی لوگوں کے سر ہے جو وارث انبیاء یا نائب رسولﷺ ہیں۔
مگر دور جدید میں مغربی تمدن کے اثرات کی بدولت عالمی سطح پر صارفینی تہذیب (CONSUMER CULTURE) نے دنیا کو نرغے میں لے کر مذہب بیزاری، اقدار کے زوال اور ترقی کے نام پر جو ظاہری چمک دھمک پیدا کی ہے یہ ایسے سیلابی ریلے کی حیثیت رکھتی ہے جس کی زد میں عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ علماء کرام بھی آ گئے ہیں جو دین کے قوائد و قوانین کو بنی نوع انسان یا ملت کی بہتری کے لیے استعمال کر نے کے بجائے بے خوف و خطر اپنے دنیاوی یا فرقہ پرستانہ اغراز و مقاصد کی تکمیل کے لیے بروئے کار لاکر اس گہر بے بہا کو روزی روٹی کے معمولی یا حقیر قضیے کو حل کر نے یا دنیاوی شان و شوکت اور مال و زر کے حصول کی خاطر اپنے فکر و خیال کو پیش کر کے عالمی سطح پر پوری امت کو صہیونی طاقتوں کے شیطانی جال میں پھسا رہے ہیں۔ اس طرف اشارہ کر تے ہوئے مصنف ؒکتاب ھذا میں ”کفر و بدعت کا بیان “ کے عنوان سے بیان کردہ موضوع کے تحت رقم طراز ہیں۔
”باغبان چمنستان طو طیان شریعت و ماہران حقیقت کی خدمت میں التماس کی جاتی ہے کہ اس زمانہ میں کفر و شرک اور بدعت نے پھیل کر خیمہ اسلام کو معدوم کر دیا ہے، اور جو علماء راسخین و علمائے کرام خیمہ اسلام کو زندہ و تر و تازہ سر سبز و شاداب کر نے والے تھے، تو وہ بھی دار الفناء سے کوچ کر کے در گور خفتہ و نہفتہ ہو گئے ہیں، کہ شاید خاتمہ نور محمدی ﷺ کا زمانہ قریب تر آ گیا ہے۔ اس واسطے بدعت کی شاخوں نے زور دے دیا ہے، اور جو نائب رسول ہیں، وہ متقدمین مشائخ اور علماء راسخین کے مطابق خیمہ اسلام کو روز بروز تر و تازہ و زندہ کرنے کے لیے کم از کم دستیاب ہوتے ہیں۔ اور اگر کوئی علماء راسخین و مشائخ اوصاف حمیدہ و اخلاق پسندیدہ پایا جائے، تو وہ مثل طوطی در قفس گرفتار و پابند ہے۔ کیوں کہ کوئی نائب حامی اہل اسلام نہیں رہا ہے۔ اسی واسطے اہل اسلام یتیمان و غریبان و بے کساں کی طرح پائمال ہیں۔
اس زمانہ کے اکثر علماء جو علمائی کا دعویٰ کرنے والے ہیں، تو ان کا پیشہ یہ ہے کہ متاع دنیا خسیس کے لیے دنیا داروں کے ساتھ محبت و رغبت رکھتے ہیں۔ بلکہ ان دنیا داروں کو اپنی روزی جان کر ان کے بد اخلاق، ناپسندیدہ و بدکرداری کے مطابق حق بیان نہیں کر سکتے۔اگر کم از کم بیان بھی کریں تو اسی سبب سے مخلوقات کو ذرہ بھر اثر و تاثیر نہیں ہوتی۔
اگر علماء جو نائب رسول ہیں، یعنی علمایان دین متین محمدیہ اگر وہ اس زمانہ میں اصلی حق بیان کرتے، تو دنیا داروں کے ساتھ عداوت و ضد کرتے ہوئے حقارت کی نظر سے ان کی طرف دیکھتے۔ اس لیے کہ وہ نائب رسول اپنی نیابت میں مجبور ہیں، تو جب غور سے دیکھا جائے کہ نائبوں کے کردار ایسے ہو چکے ہیں تو پھر خیمہ اسلام کو شکستی ہے۔“ ۹
اسی پیچیدہ مسلے کو دانائے راز حضرت علامہ اقبال نظم ” ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ میں کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں ۔
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دین کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو
اسی موضوع کے تحت آگے چل کر حامی و مبلغ شریعت و طریقت حضرت جناب بابا جی صاحبؒ بے علم اور بے عمل واعظ کے بارے میں فرماتے ہیں۔”جوایسے شہر ہیں کہ جہاں کوئی عالم یا واعظ ایسا نہیں جو منبر پر بیٹھ کے واعظ کہے۔ یا اس شہر کے عالم دنیا میں پھسے ہوئے ہیں، دین کی مصیبتوں میں مشغول نہیں ہیں تو وہ بھی غفلت میں رہے گا کیونکہ وہاں کے عالم بھی غافل اور سوئے ہوئے ہیں، کہ وہ دوسروں کو کیونکر جگا سکیں گے۔
اور جو شہر کا عالم منبر پر بیٹھتا ہے، تو مجلس واعظ سے منبر کو گرم رکھتا ہے، جیسا کہ بے ہودہ ناصحوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ گرم فقرے گھڑ گھڑ کے مقفیٰ و مسجع بنا کر بولتے ہیں اور واہیات باتیں تراشتے ہیں۔ اور رحمت الہٰی کے وعدے سے لوگوں کو فریب دیتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جس حال پر ہوں گے خدا کی رحمت ہمارے شامل حال رہے گی۔ اور ان لوگوں کا کام خلاف قوموں سے بھی بدتر ہے۔ اور ان کی مثل اس شخص کی سی ہے جو سر رہ سوتا ہو اور کوئی اسے جگا کر ایسی شراب پلا دے کہ جس سے وہ مد ہوش و بالکل مست ہو کر گر پڑے، اور یہ بد بخت پہلے تو ایسا بھی تھا کہ ذرا سی آواز بھی سنتا تھا تو فوراً جاگ اٹھتا تھا، اب ایسا ہو گیا ہے کہ اگر پچاس لاتیں بھی اس کی کھوپڑی پر ماری جائیں تو اسے خبر نہ ہو۔ اور جو عام آدمی ان مجلسوں میں بیٹھے، تو وہ بھی ویسا ہی ہو جاوے کہ کوئی خطرہ آخرت کا اس کے دل میں نہ آوے۔ اور اگر اس سے کچھ کہا جائے تو کہے کہ خدا تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، اسے ہمارے گناہوں سے کیا نقصان۔ اس کی بہشت تو بڑی فراخ ہے۔ ایسی نہیں کہ مجھ سے یا مجھ جیسے لوگوں سے تنگ ہو جائے۔ اور اس کی مثل بے ہودہ باتیں اس کے دل میں سما جائیں۔جو واعظ و ناصح لوگوں سے اس طرح کی باتیں بگارے تو وہ دجال ہے اور خلق کا دین بگاڑتا ہے۔
اس کی مثال اس بے وقوف طبیب کی سی ہے کہ جو بیمار حرارت کے سبب قریب المرگ ہو تو اسے شہد پلائے اور کہے کہ اس میں شفاء ہے۔ سو یہ کہنا اس کا اگر چہ ٹھیک ہے، مگر شفاء تو اسی بیمار کے لیے ہے کہ جس کی بیماری سردی سے ہو“ ۱۰
اس سارے منظر نامے کو اقبال کی زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ:
صوفی کی طریقت میں فقط مستئی احوال
ملاّ کی شریعت میں فقط مستئی گفتار
اور ارمغان حجاز کی طویل نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں فرماتے ہیں۔
ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مر گیا یا زندہ جاوید ہے؟
ہیں صفات ذات حق، حق سے جدا یا عین ذات؟
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدّد جس میں ہوں فرزند مریم کی صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کر دار سے
تا بساط عالم میں اس کے سب مہرے ہوں مات
”اسرار کبیری “ میں جہاں حضرت مصنف نے زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل کو قرآن وحدیث کی عینک سے دیکھ پرکھ کر عوام الناس کو سمجھایا ہے وہیں اس کتاب میں ادب و انکساری جیسی اعلیٰ انسانی قدروں کی تبلیغ بھی جگہ جگہ ملتی ہے۔ اس کتاب میں مصنف حضرت بابا جی صاحب ؒ نے مختلف موضوعات کے تحت ذات باری تعالیٰ، حضور رسالت مآب ﷺ اور دیگر انبیاء، اصحاب مصطفی ﷺاور اولیائے امت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے شایان شان الفاظ کا استعمال جس انداز سے کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے مریدین اور دوسرے لوگوں کو اس عظیم انسانی و اخلاقی قدر کو اپنانے کی تلقین کی ہے بلکہ اپنی ذات کو بھی ادب و انکساری کا بہترین نمونہ بنا کے پیش کیا ہے اور یہ مومنوں کی میراث ہے۔ بقول دانائے راز
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب اس کی نگاہ دل نواز
نرم دل گفتگو گرم دل جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل پاک باز۔
” اسرار کبیری کے مصنفؒ نے مختلف موضوعات کے تحت ذات باری تعالیٰ، حضور پر نور ﷺ اور دیگر انبیاء و اصحاب رسول ﷺاور اولیائے کرام کا تذکرہ کرتے ہوئے ادب و انکساری کا جو مظاہرہ کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ منازل سلوک کے حصول کے لیے وہ طالب کا با ادب اور منکسر المزاج ہونا کتنا اہم تصور کرتے تھے۔ مثلاً کتاب ھذا سے ”کبر کی حقیقت اور اس کی آفتوں کا بیان“ میں فرماتے ہیں۔ً
” واضح رہے کہ کبر یعنی تکبر و بڑائی ایک برا اخلاق ہے۔ اور اخلاق دل کی صفت ہے۔ اور ان کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ اور کبر کے یہ معنی ہیں کہ اپنے آپ کو اوروں سے مقدم رکھے اور اچھا جانے اور اس کے سبب اس میں ایک ہوا بھر جائے۔ اور پھولا نہ سمائے تو اس پھلائے والی ہوا کا نام تکبر ہے۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا:” اعوذبک من نفختہ الکبر“ (اے اللہ ! میں تیرے سے پناہ مانگتا ہوں کبر کی ہوا سے۔)
جب آدمی میں یہ ہوا بھر جایا کرتی ہے تو وہ اوروں سے اپنے آپ کو بڑا اور برتر جانا کرتا ہے۔ اور انہیں اپنا خادم سمجھ کر دیکھا کرتا ہے، بلکہ یہاں تک ہوا بھر جاتی ہے کہ انہیں اپنی خدمت کے لائق بھی نہیں سمجھتا اور کہہ دیا کرتا ہے کہ تو میری خدمت کے کیا لائق ہے، جیسے کہ بادشاہ لوگ ہر کسی کو قابل نہیں سمجھتے کہ وہ آستان بوسی کرے اور اپنے کو بندہ لکھ سکے اور یہ انتہا درجہ کا تکبر ہے کہ خدا کی کبریائی سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ وہ سب کو اپنی بندگی اور سجود میں قبول کر لیتا ہے۔
لوگوں نے حضرت محمد ﷺ سے پو چھا کہ کبر کیا ہے؟ فرمایا کہ حق تعالیٰ کے لیے اپنی گردن نرم نہ رکھنا، اور لوگوں کو حقارت سے دیکھنا کہ یہ دونوں خصلتیں حق تعالیٰ اور انسان کے درمیان بڑے حجابوں میں سے ہیں۔انہی سے سارے برے اخلاق پیدا ہوتے ہیں اور ان ہی کے سبب بندہ اچھے اور نیک اخلاق اختیار کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ کیونکہ جس میں خواجگی، عزیز نفسی اور بڑائی گھسی ہوئی ہو وہ جو چیز اپنے لیے پسند کرے گا وہ دوسروں کے لیے پسند نہ کرے گا اور ایمانداروں کی شرط نہیں وہ کسی کے ساتھ فروتنی نہ کر سکے گا۔ مگر یہ پرہیز گاروں کی صفت نہیں،اور وہ کینے،حسد،بخل سے ہاتھ نہ روک سکے گا۔ اور جو کوئی اس کی تعظیم نہ کرے تو وہ اپنے دل میں اس کی طرف سے کچھ میل رکھے گا۔“ ۱۱
درحقیقت کبر و غرور زندگی گزارنے کا ایک منفی رویہ ہے، ذہنی مرض کی علامت اور ہر قسم کے زوال کی بڑی نشانی ہے جس کی مثال اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں شیطان کا وہ واقعہ بیان فر ما کر پیش کی ہے جب اس متکبر نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کر نے سے انکار کر دیا اور اس کبریائی کے نتیجہ کے طور پر بارگاہ خداوندی سے رد ہو گیا اور عزازیل سے شیطان لعین بن گیا۔ اس واقعہ کا بیان قرآن میں یوں ملتا ہے۔
”واذقلناللملِٓئکةاسجدوالاٰدم فسجدواالاابلیس ابے واستکبر وکان من الکفرین“۔ ۲۱
مصنف کتاب ” اسرار کبیری “حضرت بابا جی صاحب ؒ تکبر کے درجوں کا بیان کر تے ہوئے فرماتے ہیں۔
” واضح رہے کہ بعض کبر تو بہت ہی برا ہے اور اس کا فرق متکبر کے تفاوت درجات سے پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ تکبر تیں طرح کا ہے:
(۱) خدا پاک سے تکبر۔ (۲) رسول پاک سے تکبر۔ (۳) بندگان خداسے تکبر۔ “ ۳۱
حضرت مصنف ؒ نے اپنی اس شہر آفاق کتاب میں کبر و غرور کے عنوان کے تحت جو کچھ بیان فرمایا ہے میری دانست میں اسے قرآن حکیم، قوانین شرعیہ اور رسول اکرم ﷺ کی حیات پاک کی روشنی میں دیکھا، پرکھا اور سمجھا جائے تو قاری پر وہ راز منکشف ہو جائے گا جو بندے کی تکمیل خودی کے جان سوز عمل میں مشکل کشا ثابت ہو سکے اور اگر بندہ بابا جی صاحب ؒکے پیش کردہ اس فارمولے کے قالب میں اپنی ذات کو ڈھالنے میں کامیاب ہو جائے تو بقول دانائے راز وہ یہ رتبہ حاصل کر لیتا ہے کہ:
خدا بندے سے خد پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے۔
حضرت مصنف ؒ جن کا شمار سرکار دو عالم ﷺ کی امت کے اکابرین اولیائے کرام میں ہوتا ہے کی شخصیت بھی عجز و انکساری کا اعلیٰ نمونہ تھی، ایسا نمونہ جس کے بارے میں سن پڑھ کر رسول پاک ﷺ کی سیرت کے بہت سارے واقعات یاد کی تختی پہ کنندہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ”اسرار کبیری“ میں بیان کردہ ابتدائی الفاظ یا ”آغاز سخن “( Opening Words)کے عنوان سے انہوں نے جو دیباچہ ( Foreword ) تحریر کیا ہے اس میں فر ماتے ہیں۔
”واضح ہو کہ خادم الفقرا تصنیف کی قابلیت نہ رکھتا تھا مگر مجبوری سے حکم ہذا کی تعمیل کی گئی ہے۔ اس لیے ہر ایک صاحب کو چاہیے کہ بندہ کی تقریر میں جو سہواً غلطی الفاظ واقع ہوئی ہے تو اس میں کسی قسم کی انگشت نمائی نہ کریں، بلکہ بندہ کی غلطی الفاظ و عبارات قبول فر ما کر فدوی کے حق میں دعاے خیر کرنی چاہیے۔“ ۴۱
مختصر ”اسرار کبیری“ بر صغیر میں اسلامی تصوف کے نظریہ پر تحریر کردہ منفرد اور شہکار نسخہ ہے، جس میں صاحب کتاب (حضرت میاں عبداللہ ؒ المعروف بابا جی صاحبؒ ) نے تقریباً 102عنوانات پر قرآن و حدیث، حضور رسالت مآب ﷺ کی سیرت مقدسہ آپ کے اصحاب ؓ اور ائمہ و مجتہدین کی زندگیوں اور ان کے طریقوں کو نہ صرف انسانی زندگی میں پیش آ نے والے اہم مسائل و معاملات کی تفہیم کی غرض سے پیش کیا ہے بلکہ وہ ان تاریخ ساز ہستیوں کے واضح کردہ نقشہ راہ (Road Map ) کے مطابق زندگی گزارنے کی سختی سے تلقین بھی کرتے ہیں۔کتاب کا آغاز حمد باری تعالیٰ (منظوم ) سے ہوتا ہے اور اختتام مناجات مصنف ( منظوم) جو پنجابی زبان میں ہے پر ہوتا ہے۔
دور حاضر یا جدید (Modern Period) تعلیمی منشا ( Knowledge Explosion ) اور ( Information Democracy or information Technology) کا عہد ہے جس نے (Slective Study) کے رجحان کو عام کر نے کے ساتھ ساتھ علوم کے معیارات و عقائد (Beliefs) اور بہت سارے مذہبی نظریات ( Religious Ideologies) کو بھی بدل کے رکھ دیا ہے اور عالمی سطح پر مادیت ( Materialism) کے تصور نے مادیت پرست اور صارفینی تہذیب( Materialistic and Consume culture) کی پروردہ انسانی نسل اخلاق، ہمدردی، بھائی چارہ وغیرہ جیسے زریں اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ہر شے کو نفع اور نقصان کی نظر دیکھتی ہے۔ فکر کا یہ زاویہ غیر فطری بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ اس مابعد جدید ثقافتی صورت حال( Post Modern or Post .post Modern Cultural condition) کے دور میں اہل حق کی پرکھ ان سے وابستگی یا ان کے روحانی فیض سے مستفید ہونے کا ایک اہم ذریعہ باباجی صاحب ؒ کی یہ تصنیف یعنی ” اسرار کبیری“ہے جس کے مطالعے سے نہ صرف ہمارے دینی علم کے سرمائے میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ باباجی صاحب ؒکی زندگی اور ان کے دنیی کردار کی تفصیلی خبر بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ ہمارا عہد جو اسلاف کے عقائد سے بیزاری، روحانیت سے دوری اور معربی تہذیب ( Western Culture) کی زوال آمادہ ظاہری چکا چوند کا شیدا ہے اس میں اسلامی معاشرہ اپنے دانشوروں سے یہی اپیل کرتا ہے کہ بابا جی صاحب ؒ اور عرب عجم کے دیگر اولیائے کرام نے جو بھی علمی سرمایہ چھوڑا ہے اسے تراجم کے ذریعے دینا کی تمام بڑی زبانوں میں منتقل کیا جائے خاص طور پر اس میدان میں ” اسرار کبیری“ جیسی بت شکن تصنیف پر شدو مد کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کی سافٹ کاپیاں( Soft copies ) تیار کر کے اس (Information highway ) کا حصہ بھی بنانے کی ضرورت ہے جس سے ساری دنیا مستفید ہو، اسی صورت میں ہمارے نوجوان حکیم الاامت، دانائے راز علامہ اقبالؒ کے اس شعر میں پوشیدہ معنی کے جہاں کو منکشف کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں کہ:۔
خودی کا نشیمن تیرے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے۔
حواشی
۱)اسرار کبیری، حضرت میاں عبداللہ (بابا جی صاحبؒ)، گوجری ادبی بورڈ پاکستان لاہور ۴۹۹۱ء
صفحہ نمبر ۲۶۳۔ (۲)ایضاً، صفحہ نمبر ۲۶۳۔ (۳)ایضاً، صفحہ نمبر ۱۷۲ ۔ (۴) فکر اقبال، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحلیم۔ بزم اقبال لاہور، صفحہ نمبر ۳۷۳۔ (۵)اسرار کبیری، حضرت میاں عبداللہ ؒ (بابا جی صاحب ؒ ) گوجری ادبی بورڈ پاکستان لاہور ۴۹۹۱ء صفحہ نمبر ۱۷۲۔ (۶) ایضاً، صفحہ نمبر ۱،۲۔ (۷) ایضاً صفحہ نمبر ۰۷ ،۱۷۔ (۸) ایضاً صفحہ نمبر ۷۸۱،۸۸۱۔ (۹) ایضاً صفحہ نمبر ۶۷،۷۷۔ (۱۰) ایضاً صفحہ نمبر ۹۷،۰۸۔ (۱۱) ایضاً صفحہ نمبر ۲۵۔۳۵ ۔ (۱۲) القر آن ،پارہ نمبر ۱ ،سورہ ابقر ہ،آیت نمبر۴۳۔ (۱۳) اسرار کبیری ، حضرت میاں عبد اللہ لارویؒ، گوجری ادبی بورڈ پاکستان لاہور،۴۹۹۱ء صفحہ نمبر۴۵،۵۵۔ (۱۴) ایضاً صفحہ نمبر ۱۔ (۱۵) کلیات اقبال ،اردو کلام۔ (ختم شُد)
نوٹ: (مقالہ نگار ادب میں ڈاکٹریٹ ہیں، معروف کالم نگار، براڈ کاسٹر، محقق اور شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں)۔

SHARE

LEAVE A REPLY