نزہت انجم کی فروری 2016 میں عالمی اخبار میں شائع ہونے والی غزل

0
692

نزہت انجم کی فروری 2016 میں عالمی اخبار میں شائع ہونے والی غزل۔۔۔صفدر ھمدانی

صحافی ، شاعرہ اور ایک نفیس انسان نزہت انجم چودہ اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔ انکو اگلے روز پندرہ اکتوبر کو چکوال میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
نزہت کچھ عرصلہ 2016 میں لندن میں اپنی والدہ اور بھائی کے پاس رہیں اور اس دوران ان سے ملاقاتوں میں انکی ادبی پیاس کا علم ہوا۔ وہ اسلام آباد میں عالمی اخبار کی بیورو چیف کے طور پر کام کرنا چاہتی تھیں لیکن زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔ پروردگار انکی مغفرت کرے
لندن کے قیام میں انکی لکھی یہ غزل فروری 2016 میں عالمی اخبار میں شائع ہوئی تھی

عالمی اخبار نزہت انجم کی وفات پر انکے اہل خانہ اور دونوں بیٹیوں سے اظہار افسوس کرتا ہے اور انکی مغفرت کے لیئے دعا گو ہے

صفدر ھمدانی۔ مدیر اعلیٰ۔ عالمی اخبار

nuzhat-anjum

میں چُن رہی تھی اُداسی کہ اس نے آ کے مجھے

18.02.2016, 12:01am , جعمرات (GMT+1)

نزہت انجم ۔ برطانیہ

چمن کے پھول گلے کس خوشی میں ملنے لگے
ہمیں سنبھال لیا اُس نے ہم تھے گرنے لگے

یہ معجزہ ہے یا فیضان ہے محبت کا
یہ زخم سینے کے بتلاؤ کیسے سلنے لگے

میں بند کرتی نہیں آنکھ کہ کہیں پھر سے
نگاہ میں تیرے چہرے کا عکس پھرنے لگے

میں چُن رہی تھی اُداسی کہ اس نے آ کے مجھے
چھوا کچھ ایسے کہ من میں گلاب کھلنے لگے

جو اسکا نام بہت چیخ کر پکارا تو
صدا خموش تھی نزہت بس ہونٹ ہلنے لگے

نزہت انجم ۔ برطانیہ

SHARE

LEAVE A REPLY