اب مِل کے رہے گی آزادی۔۔۔ زبیر منور

1
161

ہر شب کو ڈھلنا ہوتا ہے
پھر صبح اُجالا ہوتا ہے
یہ طِفل وجواں، یہ مرد و زن
تم جن کے اجلے چہروں کو
یوں چھلنی چھلنی کرتے ہو
اُن چہروں پر اُمید بھی ہے
اور اپنے حق کی جیت بھی ہے
کیا نسل کشی؟ کیا تیری ہنسی۔۔۔
مکار عدو تو روۓ گا
ہر ہات تجھے جب نوچے گا
مسند پہ بیٹھے اے منصف
بے بس ہے تو یا بے حس ہے
خاموش تماشہ ہم بھی نہیں۔۔۔
یہ کھیل نہیں
کوئی جیل نہیں
یہ جھیلوں، سبزہ زاروں کی وہ وادی ہے
جو آج پڑی ہے ویراں سی
بارود کی بُو سے ببے دم ہے
تیرے فوجی ڈرے ڈرے سے ہیں
سنگینں تھا مے، مرے مرے۔۔۔
مرے طِفل و جواں بے تیغ کھڑے
ہیں سینہ سپر ۔۔۔
یہ کلیاں تم پر بھاری ہیں
اقوامِ عالم عاری ہیں
ہم جانتے ہیں۔۔۔
باطل کو مٹایا جاتا ہے
جب لہو بہایا جاتا ہے
جنت کو بچایا جاتا ہے
ہم واقف ہیں۔۔۔
جب ہاتھوں کی زنجیر بنے
آزادی چھین کے لے لیں گے
تم لاکھوں فوجی لے آنا
اسبابِ جدل سب کر چُکنا۔۔۔
ہر حربہء طبل بجا دینا
بے خبر ہے دیکھ نوشتہء جاں
تم جانو کیا؟ تم مانو کیوں؟
میرے بچوں کے قاتل اے عدو۔۔۔
ڈر کاہے کا کاشمیری کو
بے خوف مسلماں شہری کو
تم استصواب سے ڈرتے ہو۔۔۔
میثاق مذاق گردانتے ہو۔۔۔
تم رنج و تعب ہی پاؤ گے۔۔۔
بد بخت، بد ذات کہلاؤ گے۔۔۔
جب میرے طِفل و جواں آ کر
سب یک جاں، یک دل ہو جائیں گے
جب ہونٹ پکاریں گے یک دم
ہم حق کی خاطر نکلیں ہیں
ہم اپنے وطن کے باسی ہیں
تمہاری شہہ رگ کاٹیں گے
ہم شہہ رگ اپنی بچا لیں گے
تم جسم و جاں سے جاؤ گے
سُن لو کہ بہت پچھتاؤ گے
جب بولے گی خود یہ وادی
” آزادی۔۔۔آزادی۔۔۔
میں جنت ہوں اِس دھرتی کی۔۔۔
دیدار کیا ہے خونِ جگر۔۔۔
اِک مدت سے مانوس ہوں میں۔۔۔
ہر ظلمت کی ہر حرمت کی۔۔۔
بارود کی گہری بد بو سے بھی
دھرتی کے بہتے لہو سے بھی۔۔۔
اے کافر تو اِک فتنہ تھا۔۔۔
نئی بستی بسانے کا خواہاں۔۔۔
محتاج تھا اے مردودِجہاں۔۔۔
ہوئی آج تجھے بھی مات یہاں
تری نیتِ نسل کشی تھی نہ؟
بد بخت تو کیسے بھول گیا؟
میں جنت ہوں۔۔۔ ہاں جنت ہوں۔۔۔
جنت پہ حق ہے مسلماں کا۔۔۔
کافر کا ٹھکانہ دوزخ ہے
تجھے کیسے میں مِل سکتی ہوں؟
لو اُگل دیۓ سب لالہ وگُل۔۔۔
یہ لہوہے میرے شہیدوں کا۔۔۔
یہ حکمِ ربی نصیبوں کا۔۔۔
اب مِل کے رہے گی آزادی
مرے طِفل و جواں
ہر دِل کی زباں
بس آزادی۔۔۔
بس آزادی۔۔۔

زبیر منور

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY