خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کو گالی دینا اور نکتہ چینی کرنا اپوزیشن کا حق ہے، ادارے کو گالی دینے کا کسی کو حق نہیں پہنچتا، عمران خان جلسوں سے کبھی وزیراعظم نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا جس پارٹی لیڈر نے پارلیمنٹ کو گالی دی، ان ارکان نے استعفے دیئے، یہ رینگتے ہوئے گھٹنوں کے بل ایوان میں واپس آئے، پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ سے کیا کیا سہولتیں لیں سب ظاہر کیا جائے۔
وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہمارا فرض ہے پارلیمنٹ کے تقدس کی حفاظت کریں، فیصلے جلسوں میں نہیں ایوان میں ہوتے ہیں، پارلیمان پر حملہ کیا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا یہ کامیابی کا نہیں نا کامی کا راستہ ہے، ان لوگوں کو استحقاق کمیٹی میں بلانا چاہیے اور کمیٹی کے چیئرمین کو اختیار ہے کہ ان کو طلب کرے، ان میں ضمیر، شرم اور حیا نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے کہا قصور جیسے واقعات کراچی سے پشاور تک ہر جگہ ہو رہے ہیں، کنٹینر پر چڑھنے والے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ کینیڈین شہری ہے، گالی دینے کا حق کسی کو نہیں ہے اور نہ ہم اس بات کی کسی کو اجازت دیں گے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں عمران خان اور شیخ رشید کے پارلیمنٹ کے بارے میں بیان پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ گزشتہ روز لاہور میں اس ایوان کی توہین کی گئی، 22 کروڑغیور عوام کے مینڈیٹ کی بھی توہین کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ قصور پارلیمنٹ کا نہیں ہے، جو سمجھتا ہے قصور پارلیمنٹ کا ہے وہ سیاست چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا ملک کی سیاست الگ رخ پر چل پڑی ہے جو ہماری بد قسمتی ہے ملک کا آخری سہارا پارلیمنٹ ہو گی، نواز شریف اور عمران خان اداروں کی توہین کرتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اس پارلیمنٹ نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور ہمیں حق مانگنے کی ہمت دی، اپنی نا کامی چھپانے کیلئے جو لفظ استعمال کیا گیا وہ میں استعمال نہیں کر سکتا، ہر اس شخص کے منہ میں خاک جو ایسا لفظ استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بڑے بڑے اداروں کے لوگوں نے پارلیمنٹ میں آکر بریفنگ دی، آپ اداروں کی توہین کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا پیپلز پارٹی پر کیا کیا کیسز نہیں بنائے گئے، ہمارے وزیراعظم کو ایک سیکنڈ میں نکال دیا گیا لیکن پھر بھی ہم نے اداروں کی توہین نہیں کی۔ خورشید شاہ نے کہا مردان میں زیادتی کے واقعے کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قبل ازیں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کے پارلیمنٹ سے متعلق الفاظ کی مذمت کرتا ہوں، جو پارلیمنٹ کو برا سمجھتے ہیں انہیں پاکستان میں سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا قصور پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ حکومت کا ہوتا ہے، پاکستان میں پارلیمنٹ پہلے دن سے ہوتی تو بڑے بڑے سانحے پیش نہ آتے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے سرحدوں کو مضبوط بنایا گیا، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا گیا۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا پارلیمنٹ کو اس کا وقار نہ دینا حکومتوں اور ہماری ناکامی ہے، جو پارلیمنٹ کو نہیں مانتے ان کے استعفی کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔













