ایک ہفتے میں پانچ بار 30 منٹ کی ورزش مختلف امراض کے نتیجے میں جلد موت کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سائمن فراسر یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتے میں پانچ بار تیز رفتاری سے چہل قدمی یا گھر کے کام کاج سمیت دیگر ورزشیں جسمانی صحت کے لیے یکساں فوائد کی حامل ثابت ہوتی ہیں۔

ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی اس تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ لوگ جتنی زیادہ ورزش کریں گے، اتناہی مختلف امراض کے نتیجے میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ کم ہوگا۔

تحقیق کے مطابق کچھ دیر کی ورزش کو معمول بنالینا صحت کو لاحق ہونے والے متعدد خطرات کی روک تھام کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمیاں ایسا کم قیمت نسخہ ہے جو خون کی شریانوں کے مسائل (امراض قلب، بلڈ پریشر اور فالج وغیرہ) کی روک تھام کرتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق جسمانی طور پر سرگرم رہنا کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 8 فیصد جبکہ ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ 5 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران سترہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 سے 70 سال کی عمر کے افراد کا 2003 سے 2010 تک جائزہ لیا گیا۔

محققین نے ان کے طرز زندگی، طبی تاریخ، وزن، قد اور بلڈ پریشر کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کی ہفتہ بھر کی جسمانی سرگرمیوں کا ریکارڈ تیار کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتے میں پانچ بار کچھ وقت کی ورزش بھی جسمانی صحت کے لیے اتنی ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جتنا کسی جِم میں جاکر ورک آﺅٹ کرنا۔

SHARE

LEAVE A REPLY